مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جاری کشیدگی مزید شدت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔ امریکی اخبار**وال اسٹریٹ جرنل**کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یورپ سے اپنے لڑاکا طیاروں کی مشرقِ وسطیٰ میں دوبارہ تعیناتی شروع کر دی ہے، جسے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں میں توسیع کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نے خطے میں اپنی فضائی موجودگی مضبوط بنانے کے ساتھ ایران کے اندر زیادہ حساس اور تزویراتی اہداف کو بھی ممکنہ فضائی حملوں کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ ادھر ایران نے خلیج میں اپنی عسکری سرگرمیوں اور حملوں میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے باعث موجودہ کشیدگی کے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
اخبار کے مطابق ایران کے اندر بنیادی ڈھانچے اور اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے تاکہ وہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی کارروائیاں بند کرے۔ یہ صورتحال اس معاہدے کے خاتمے کے بعد پیدا ہوئی ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کی آزادی کو یقینی بنانا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے گرد گھومنے والا یہ تنازع دونوں ممالک کے درمیان مزید کشیدگی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے، کیونکہ نہ واشنگٹن اور نہ ہی تہران اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے کے آثار دکھا رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی خبر رساں ایجنسی**تسنیم**نے ایک ایرانی ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے آج تھائی لینڈ کے پرچم بردار ایک تجارتی بحری جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا جب اس نے مبینہ طور پر بغیر اجازت آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کی۔
ادھر امریکی نیوز ویب سائٹ**ایگزیوس**نے تین امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کا دائرہ مزید وسیع کرنے پر غور کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق زیر غور منصوبوں میں ایرانی سرزمین کے اندر مزید اہداف کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے بھی شامل ہیں۔
رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کو درجنوں فضائی ایندھن بھرنے والے طیارے بھیجنے سے آگاہ کیا ہے تاکہ اگر فیصلہ کیا جائے تو ممکنہ فوجی کارروائیوں میں توسیع کے لیے تیاریاں مکمل رکھی جا سکیں۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ ایران کے اندر مزید تزویراتی مقامات کو نشانہ بنانے کے عسکری اختیارات کا جائزہ لے رہی ہے، تاہم وائٹ ہاؤس اور امریکی محکمہ دفاع نے ان اطلاعات پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ اسرائیل نے بھی ایندھن بردار طیارے موصول ہونے کی تصدیق نہیں کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام عسکری آپشنز فی الحال زیر غور ہیں اور کسی حتمی کارروائی کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا ہے۔
