مشرقِ وسطیٰ|سفارت کاری
ٹرمپ:اسرائیل سعودی عرب سے تعلقات معمول پر لانے کے لیے تیار، معاہدے کا امکان دوبارہ زیرِ غور
امریکی صدر کا کہنا ہے کہ حوثیوں کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی حمایت پر ریاض خوش ہے؛ سعودی عرب اب بھی فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ اعتبار راستے کو معمول پر لانے کی بنیادی شرط قرار دیتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کے روز کہا کہ اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کا معاملہ ایک بار پھر زیرِ غور آ گیا ہے۔ خبر رساں ادارےi24کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے سعودی عرب کی جانب سے ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت کے امکان پر امید کا اظہار کیا اور کہا کہ یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے خلاف اسرائیل اور امریکا کی حمایت پر سعودی قیادت خوش ہے۔
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے متعلق سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا کہ اب اس امکان کی گنجائش شاید پہلے سے بھی زیادہ ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’سعودی عرب اسرائیل کی حمایت اور ہماری حمایت سے بہت خوش ہے۔‘‘

حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں اسرائیلی حمایت کا ذکر
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا سعودی عرب کو حوثیوں کے خلاف اسرائیلی مدد قبول کرنی چاہیے تو انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ریاض ایسا کرے گا۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ ’’اسرائیل سعودی عرب کے لیے بہت مددگار ثابت ہوا ہے،‘‘ تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اسرائیل نے سعودی عرب کو کس نوعیت کی مدد فراہم کی ہے۔
ٹرمپ کے یہ بیانات سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں اضافے کے بعد سامنے آئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان حملوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں پروازوں کا نظام متاثر ہوا اور سعودی عرب کے اقتصادی منصوبوں کو درپیش خطرات میں اضافہ ہوا۔

ابراہیمی معاہدے اور فلسطینی ریاست کا سوال
سعودی عرب نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے لیے فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ایک قابلِ اعتبار راستہ موجود ہونا ضروری ہے۔ اس لیے ٹرمپ کی جانب سے ظاہر کی گئی امید کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ معاہدے کے حوالے سے فلسطینی مسئلہ ایک اہم سفارتی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔
واشنگٹن طویل عرصے سے سعودی عرب کو ابراہیمی معاہدوں میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ وہ سفارتی فریم ورک ہے جس کے تحت ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کے معاہدے طے پائے تھے۔ سعودی عرب کی شمولیت اس عمل کو ایک نئی وسعت دے سکتی ہے، تاہم اس کا انحصار علاقائی سلامتی، اسرائیل سعودی تعلقات اور فلسطینی ریاست کے سوال سمیت اہم معاملات پر پیش رفت سے ہوگا۔
ٹرمپ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان معمول کے سفارتی تعلقات قائم کرنے کے امکان کو دوبارہ آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ اس پیش رفت سے خطے میں امن، خوشحالی اور ترقی کے نئے امکانات نے جنم لیا ہے.
