لو ہم آگئے
این وائی اردو ۔۔ آپ کی نظروں کے سامنے اور آپ کے ہاتھ میں ہے۔
آندھیوں میں ایک چراغ ہم نے روشن کیا ہے۔
آندھیاں ہیں تعصب، عصیبتوں، غیر رواداری کی۔ اینٹی سمیٹزم کی۔ اینٹی سمیٹزم جو مسلمانوں، عیسائیوں ، یہودیوں کیخلاف ہے۔ تمام اقوام ابراہیمی کیخلاف۔ ہمیں اس اینٹی سیمیٹزم کیخلاف اقوام ابراہیمی کے مابین ایک دوسرے کو سمجھنے،قریب آنے، بھائی چارے اور بہن پن کی پلیں تعمیر کرنی ہیں۔ یعنی کہ برج بلڈنگ اقوام ابراہیمی کے درمیان۔ ہندو، مسلم، سکھ عیسائی، یہودی سب کو میرا سلام کے موافق۔
این وائی اردو ۔۔ کو اس امتحان پر پورا اترنا ہے۔
مانا کہ مشن میڈیا کے زمانے لد گئے۔ لیکن سچائیوں، دلائل اور معروضیت پسند میڈیا کے وسیلے ہمیں اس انسانی عالمی فیملی میں رہنا ہے۔
جو کچھ بھی پرنٹ اور ڈیجیٹل میں فٹ آتا ہے وہ ہم شائع، نشر و پوسٹ کریں گے لیکن معیار کےساتھ۔ معیار ہو گا رواداری، غیر متعصب پن، برداشت۔ وسیع النظری و وسیع المشربی کہ ہمارا کردار آگ لگانے والوں کا نہیں آگ بجھانے والوں کا ہے۔
جنگ، دہشتگردی کشیدگی، منافرتوں کی آگ میں جلتے مشرق وسطیٰ اور جنوبی و مغربی ایشیا کو اسکے اصل تناظر میں پیش کرنا اور اسکے ساتھ ان عفریتوں کیخلاف قلمی و ڈیجیٹل جہاد ہمارے اولین ایجنڈا میں شامل ہے۔
اسی طرح این وائی اردو دنیا میں اردو کا پہلا ڈیجیٹل ملٹی میڈیا پلیٹ فارم ہے جو معروضیت سے بھرپور تو ہے ہی لیکن غیر متعصب اور غیر اینٹی سیمیٹک ہوگا۔ نہ اسرائیل دشمن اور نہ عرب دشمن، بلکہ سب اقوام ابراہیمی کا دوست اور دلی ترجمان۔
پر امریکہ، اورخاص طور ممدانی دور تلے گزرتے نیویارک کی اصل تصویر، لاطینی امریکہ، ایشیا، افریقہ، عرب و خاص طور پاکستان بھارت سے انسانی دلچسپی کی کہانیاں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنا بھی ہمارے آدرشوں میں شامل ہے۔
پر یہ سب کچھ آپ کے دیکھنے، سننے پڑھنے، سبسکرائب کرنے اور قلمی چاہے کیمرا کے تعاون کے بغیر ناممکن ہے، اس ناممکن کو آپ اور
ہم ہی ممکن بنائیں گے۔ آپ ہمارے ٹیم کا حصہ ہیں۔
“میںُ آپ کے آزادئ اظہار کیلے لڑتا رہوں گا بشرطیکہ آپ مجھ سے اختلاف کرسکیں،” والٹیئر کا یہ قول میرا اور این وائی اردو کا موٹو رہے گا۔
ساتھ سلامت۔ بنی نوع انساں بشمول اقوام ابراہیمی پہ سلام و شلوم
امن شانتی
حسن مجتبی
مدیراعلیٰ

