
پھر بھی اسرائیل اگر آپ پاکستانی امریکی ہیں تو آپ کے پاسپورٹ پر جنم پیدائش پاکستان لکھی ہونے کے باوجود اکثر آپ کو ویزہ جاری کردیتا ہے۔ بھارت بمشکل کرتا ہے چاہے آپ بھارت میں پیدا ہوئے ہوں لیکن حال پاکستانی شہری ہیں۔ چند سال قبل پاکستانی ڈاکٹروں کی تنظیم”اپنا”کے کوئی زیادہ تعداد میں ڈاکٹر اسرائیل کے خیرسگالی دورے پر گئے تھے۔ بینظیر بھٹو کی نیویارک میں آخری نجی ملاقات بھی اسرائیلی سفیر کے ساتھ ڈنر پرہوئی تھی۔ لیکن پبلک کو الو بنانے کیلے اسرائیل کے خلاف”اصولی موقف”اپنائے ہوئے ہیں۔ ا
اردن، مصر، مراکش، ترکی کب کے اسرائیل کے ساتھ بن گئے۔ ملائوں کے نرغے میں آنے سے پہلے شاہ کا ایران اسرائیل کا بہترین دوست تھا لیکن آپ ابتک”یوم فلسطین”منا رہے ہو۔ حالانکہ مسلمانوں، یہودیوں، اور مسیحیوں کے تمام بڑی عبادتگاہیں اس”وعدہ کی ہوئیں سرزمین”پرہیں۔ مذاہب ابراہیمی کی مادر سرزمین مقدسہ۔ لیکن اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنا”کفر”بنا ہوا ہے۔ اسی لیے میں نے پندرہ برس قبل یواین میں اسوقت کے پاکستانی وزیر خارجہ شام محمود قریشی سے میں نے پوچھا تھا کہ پاکستان اسرائیل کو کب تسلیم کرے گا۔
اسرائیل کا ایک بڑا رخ جمہوری اسرائیل بھی ہے۔”گولڈا میئر اسٹریٹ”میں نے نیویارک میں اپنے شروع والے دنوں میں لیموزین میں دو امریکی وکیلوں کے ساتھ سفر کرتے ففتھ ایونیو کے ساتھ والی گلی میں داخل ہوتے تختی پڑھی تھی۔”جانتے ہو گولڈا مئیر کون تھی؟”میں نے دونوں نوجوان وکیلوں سے پوچھا۔ نہیں.انہوں نے کہا۔اسرائیل کی بائیں بازو کی وزیر اعظم میں نے ان کو بتایا۔ گولڈا میئر جس کے دنوں میں جب مصر کے انوارالسادات نے اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ کا معاہدہ کیا تو کچھ ہی عرصے میں مارے گئے۔ معتدل یہودی اور عرب رہنمائوں نے مشرق وسطی میں امن قیام امن کیلے بہت بھاری قیمت ادا کی ہے۔ کرتے رہے ہیں۔ کر رہے ہیں۔ سادات کی طرح یتزاک رابن بھی مارے گئے۔
یہ بھی کیسا اتفاق ہے کہ وہ بحرینی فوج کا کرنل جو فوجی آمر ضیا الحق کے دنوں میں بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن(یہ ایس او)کے رہنما حمید بلوچ کی گولی سے بچ گیا تھا وہ قاہرہ میں مصر کے صدر انوارالسادات کو بچاتے اسکے قاتلوں کی گولیوں سے جانبر نہ ہوسکا تھا۔
اسی طرح نیویارک میں شاہراہ براڈوے کے ساتھ ایک گلی میرے پسندیدہ یدش مصنف و ناول نگار آئرش بیشوس سنگر کے نام سے بھی منسوب ہے، آئرک بیشوس سنگر جو نوبل انعام یافتہ ہے اور جس نے محبت کی کہانی آپ بیتی کو نام”دشمن”کا دیا ہے۔
نیویارک میں جب پاکستانی تارکین وطن مسلمانوں کی پہلی نسل پہنچی تو اسوقت حلال ذبیحے کی دکانوں اور کھانوں کی مراکز نا پید تھے تو وہ نیویارک کی مشہور یہودی آبادی بروکلین کی کونی آئی لینڈ میں آکر اس لیے آباد ہوئی کہ وہاں یہودیوں کی کھانے پینے کی چیزیں”کوشر”بہ آسانی دستیاب تھیں۔ میں نیویارک کے یہودیوں کو مسلمانوں کے کزن کہتا ہوں۔ میں نے کئی یہودیوں کو اردو و پنجابی بولتے دیکھا ہے۔ ایک یہودی دوست تو اتنا مشاق طبلہ نواز ہے کہ ہر پنجابی اور پشتو موسیقی کی محفلوں میں باقاعدہ اپنے فن کا اکثر مظاہرہ کرتا ہے۔
یہودی ربائی اور مسلمان علما”انٹر فیتھ”کے اجتماعات میں ساتھ دیکھے جاتے ہیں۔ لیکن ہم سے دور جو وطن عزیز میں بھائی لوگ ہیں انہوں نے یہودی شاز و ناد کوئی دیکھا ہو جسطرح پنجاب والوں نے شاذ و نادر ہی کوئی ہندو دیکھا ہے۔ لیکن ہم سب آجکل بڑے جوش میں ہیں۔ مجھے میرے گائوں کا نوجوان تھانیدار یاد آ رہا ہے جب اس نے”الفتح کے نام پر جلوس نکالنے پر میرے گائوں کے سید وڈیرے سے کہا تھا”شاہ جی آپ یاسر عرفات سے بھی زیادہ فلسطینی ہیں”کیا آپ جانتے ہیں کہ انیس سو سینتالیس میں کراچی سمیت سندہ و دیگر حصوں سے کچھ یہودی کنبے یروشلم نقل وطنی کر گئے تھے۔ ۔مصر کے ساتھ، اردن کے ساتھ ، ترکی کے ساتھ اور شہنشاہ ایران کے ایران کے ساتھ ہمارے ان برادر ممالک کے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے باوجود برادرانہ تعلقات تھے لیکن اسرائیل سے پاکستان کے نہیں!کیوں نہیں!
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

