• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » امریکہ کی سعودی عرب کو تقریباً⁦2⁩ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری، خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت
فیچرڈ

امریکہ کی سعودی عرب کو تقریباً⁦2⁩ارب ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری، خطے میں کشیدگی کے تناظر میں اہم پیش رفت

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرجولائی 17, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔3 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

واشنگٹن⁦:⁩امریکہ نے سعودی عرب کو⁦1.96⁩ارب ڈالر مالیت کے جدید ہتھیاروں کی مجوزہ فروخت کی منظوری دے دی ہے۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سعودی عرب کو یمن کی ایران نواز حوثی تحریک کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے نئے خطرات کا سامنا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اس دفاعی پیکج کا مقصد سعودی عرب کی فضائی دفاعی صلاحیت کو مزید مضبوط بنانا اور خلیجی خطے میں امریکہ کے تزویراتی سلامتی کے مفادات کو فروغ دینا ہے۔

محکمہ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مجوزہ فروخت امریکہ کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کی حمایت کرتی ہے اور خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک اہم غیر نیٹو اتحادی کی دفاعی صلاحیت کو بہتر بنائے گی۔

پیکیج میں⁦20⁩ہزار سے زائد ایڈوانسڈ پریسژن کِل ویپن سسٹمز⁦(APKWS)⁩، وار ہیڈز، معاون آلات، تربیت اور دیگر لاجسٹک سہولیات شامل ہیں۔ لیزر گائیڈڈ یہ راکٹ نسبتاً کم لاگت کے ساتھ ڈرونز، کروز میزائلوں اور دیگر فضائی و زمینی خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

امریکی دفاعی کمپنی بی اے ای سسٹمز (BAE Systems) اس معاہدے میں مرکزی ٹھیکیدار کی حیثیت سے خدمات انجام دے گی۔ امریکی حکام کے مطابق اس فروخت سے سعودی عرب کی موجودہ اور مستقبل کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ امریکی، علاقائی اور نیٹو افواج کے ساتھ دفاعی ہم آہنگی بھی بہتر ہوگی۔

محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ اس معاہدے سے امریکی دفاعی تیاری یا عسکری استعداد پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔

حوثی خطرات کے باعث دفاعی تیاری میں اضافہ
یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب حالیہ دنوں میں حوثی فورسز کی جانب سے جنوبی سعودی شہر ابہا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی سمت میزائل داغے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں، جس کے بعد خدشات پیدا ہوئے ہیں کہ سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان نسبتاً پرسکون دور دوبارہ کشیدگی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔

حوثیوں نے ماضی میں بھی سعودی شہروں، ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو متعدد بار میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا تھا۔ اگرچہ⁦2022⁩کی جنگ بندی کے بعد ایسے حملوں میں کمی آئی، تاہم حوثیوں نے اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیت میں مسلسل اضافہ جاری رکھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ دفاعی پیکج میں شامل جدید راکٹ سسٹمز سعودی افواج کو کم لاگت میں ڈرونز اور کروز میزائلوں جیسے خطرات کا مؤثر مقابلہ کرنے میں مدد دیں گے، جس سے مہنگے فضائی دفاعی انٹرسیپٹرز کے استعمال کی ضرورت بھی کم ہوگی۔

کانگریس کی منظوری ابھی باقی
یہ مجوزہ فروخت ایسے وقت میں بھی سامنے آئی ہے جب امریکہ خطے میں ایران سے متعلق بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اپنے اتحادی ممالک کے دفاع کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ سعودی عرب کی جغرافیائی اہمیت، بحیرۂ احمر، توانائی کی تنصیبات اور اہم بحری راستوں کے قریب واقع ہونے کے باعث واشنگٹن اسے خطے میں اپنی سلامتی حکمت عملی کا اہم حصہ قرار دیتا ہے۔

تاہم اس مجوزہ اسلحہ معاہدے کو حتمی منظوری سے قبل امریکی کانگریس کے جائزے کے عمل سے بھی گزرنا ہوگا، جبکہ اس کی حتمی مالیت خریدے جانے والے سازوسامان اور معاہدے کی شرائط کے مطابق تبدیل ہو سکتی ہے۔

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleنیتن یاہو نے نیویارک کے میئر ظہران ممدانی کو⁦”⁩دہشت گردی کے محور⁦”⁩کا حامی قرار دے دیا
Next Article پہلی بار شام نے حزب اللہ کو سرکاری طور پر⁦”⁩دہشت گرد ملیشیا⁦”⁩قرار دے دیا
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

فیچرڈ

جب بینائی جرم ٹھہری

اکتوبر 30, 2026
فیچرڈ

لیونی رافائیلی کا ٹام ویگنر سے خصوصی انٹرویو

اکتوبر 29, 2026
فیچرڈ

نوی پلے کا نوبیل انعام اور ہارورڈ پر تنقید

اکتوبر 11, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.