فلائی دبئی واقعے کے بعد اسرائیل اور امارات میں فضائی تعاون مضبوط
مشترکہ تحقیقات، فضائی سلامتی اور مسافروں کے تحفظ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق، ابراہام معاہدوں کے تحت اسٹریٹجک تعلقات برقرار رکھنے کا عزم
اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے اسرائیل میں متحدہ عرب امارات کے سفیر محمد الخاجہ سے ملاقات کی، جس میں حالیہ فلائی دبئی واقعے کی جاری تحقیقات میں رابطہ کاری اور دونوں ممالک کے درمیان فضائی سلامتی کے اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر بات چیت کی گئی۔
ملاقات کے دوران دونوں عہدیداروں نے فلائی دبئی کی ایک پرواز کے خلاف ناکام حملے کے بعد مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کیا، جس میں معاون پائلٹ نے طیارے کو گرانے کی کوشش کی تھی۔ میری ریگیو نے زور دیا کہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات انتہا پسند عناصر کو اپنے ان اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیں گے جو ابراہام معاہدوں کے تحت قائم ہوئے ہیں۔
“ہم انتہا پسند عناصر کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے سکتے۔”
— اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو
میری ریگیو نے مزید کہا کہ دونوں فریقوں نے ہوا بازی اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا ہے اور مسافروں اور پروازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مل کر کام کریں گے۔
سفیر محمد الخاجہ نے بات چیت کو نتیجہ خیز قرار دیا اور کہا کہ مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے ساتھ ساتھ ہوا بازی اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں روابط مضبوط بنانے کے عملی اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی۔ بات چیت میں آنے والے عرصے کے دوران پروازوں کی تعداد بڑھانے اور مسافروں اور مال برداری کی روانی برقرار رکھنے کے لیے تیاری اور پیشگی منصوبہ بندی بہتر بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
یہ ملاقات سکیورٹی چیلنجز کے باوجود اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں لچک اور استحکام کو ظاہر کرتی ہے، جبکہ دونوں فریقوں نے فضائی سلامتی اور واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے قریبی رابطہ کاری جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔
فلائی دبئی واقعے کے بعد اسرائیل اور امارات کا تعاون
تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز کو ہائی جیک کرنے کی ناکام کوشش کے بعد اسرائیل اور متحدہ عرب امارات نے تحقیقات میں رابطہ کاری اور فضائی سلامتی کے تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کیے ہیں۔ اسرائیلی وزیر ٹرانسپورٹ میری ریگیو نے اسرائیل میں متحدہ عرب امارات کے سفیر محمد الخاجہ سے ملاقات کرکے تحقیقات میں مشترکہ کوششوں کو ہم آہنگ کرنے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ انتہا پسندانہ کارروائیوں کو اپنے اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ہوا بازی و ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعاون مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔
فلائی دبئی کی پرواز میں کیا ہوا؟
یکم اکتوبر 2026 کو دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پروازFZ1073کو کاک پٹ میں ہونے والے حملے کے بعد سعودی عرب کے شہر تبوک کی جانب موڑ دیا گیا۔
متحدہ عرب امارات کے پراسیکیوٹرز کے مطابق معاون پائلٹ، جو عمانی شہری تھا، نے کاک پٹ میں موجود ہنگامی کلہاڑی سے کپتان پر حملہ کیا اور طیارے کا کنٹرول سنبھالنے کی کوشش کی، جسے حکام نے “دہشت گرد حملہ” قرار دیا۔
دیگر عملے کے ارکان اور مسافروں نے مداخلت کی، طیارہ بحفاظت لینڈ کر گیا اور اس میں سوار تمام182افراد محفوظ رہے۔
تحقیقات کی قیادت متحدہ عرب امارات کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب اور اسرائیل بھی اس میں شریک ہیں اور امریکا و عمان کی جانب سے معاونت فراہم کی جا رہی ہے۔ تحقیقات میں حملے کے محرکات، سکیورٹی میں ممکنہ خامیوں اور اس بات پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے کہ ہتھیار کاک پٹ تک کیسے پہنچا۔
تحقیقات میں کون کون شامل ہے؟
متحدہ عرب امارات: تحقیقات کی قیادت کر رہا ہے، جن میں حملے کے محرکات، سکیورٹی کی خامیوں اور ہتھیار کے کاک پٹ تک پہنچنے کے طریقے کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اماراتی پراسیکیوٹرز نے واقعے کو “دہشت گرد حملہ” قرار دیا ہے اور تحقیقات مکمل ہونے تک فلائی دبئی کی اسرائیل جانے والی پروازیں معطل کر دی گئی ہیں۔
سعودی عرب: طیارے کے تبوک کی جانب موڑے جانے کے بعد تحقیقات میں شریک ہے۔
اسرائیل: واقعے کی تحقیقات اور اسرائیل آنے والی پروازوں کی سکیورٹی کے حوالے سے تعاون کر رہا ہے۔
امریکا اور عمان: تحقیقات میں متعلقہ سکیورٹی اور دیگر شعبوں میں معاونت فراہم کر رہے ہیں۔
“انتہا پسند عناصر کو اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔”
سفارتی ردعمل اور مشترکہ سکیورٹی اقدامات
میری ریگیو اور سفیر محمد الخاجہ کے درمیان ملاقات میں تین عملی شعبوں پر توجہ مرکوز کی گئی:تحقیقات میں رابطہ کاری، عملے اور مسافروں کی جانچ پڑتال سے متعلق معلومات کا تبادلہ، اور طویل مدت میں فضائی سلامتی کے نظام میں بہتری۔ میری ریگیو نے عوامی طور پر متحدہ عرب امارات کے “واضح اور ذمہ دارانہ مؤقف” پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سفیر نے واقعے کے ابتدائی لمحات ہی سے اسرائیل کی مدد کی۔
دونوں فریقوں نے تعاون جاری رکھنے اور ہوا بازی و ٹرانسپورٹ کے شعبوں میں تعلقات مضبوط بنانے پر اتفاق کیا، جبکہ مسافروں اور پروازوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے مشترکہ طور پر کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
میری ریگیو اور محمد الخاجہ ملاقات میں تعاون کے تین اہم شعبے
- واقعے کی تحقیقات میں مشترکہ رابطہ کاری
- عملے اور مسافروں کی جانچ پڑتال سے متعلق معلومات کا تبادلہ
- طویل مدت میں فضائی سلامتی کے اقدامات اور تیاری کو مزید بہتر بنانا
وسیع تر تناظر:اسرائیل، امارات تعلقات اور فضائی سلامتی
اس واقعے نے مختصر طور پر اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سکیورٹی رابطہ کاری کے حوالے سے سوالات ضرور اٹھائے، تاہم دونوں ممالک کے حکام نے اسے تعاون کم کرنے کے بجائے اسے مزید مضبوط بنانے کی وجہ کے طور پر پیش کیا ہے۔ تحقیقات کے دوران اسرائیل نے عارضی طور پر فلائی دبئی کی لینڈنگ معطل کی، جبکہ متحدہ عرب امارات نے تحقیقات مکمل ہونے تک ایئرلائن کی اسرائیل جانے والی پروازیں روک دیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جس طرح11ستمبر کے حملوں کے بعد امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مشترکہ خطرات نے انٹیلی جنس اور سکیورٹی طریقہ کار میں زیادہ گہری ہم آہنگی کو فروغ دیا تھا، اسی طرح مشترکہ خطرات اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بھی انٹیلی جنس تعاون اور فضائی سکیورٹی کے طریقہ کار میں مزید ہم آہنگی کا باعث بن سکتے ہیں۔

