پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کو نوٹسز
آزادیٔ اظہار پر قدغنوں کے خلاف کراچی پریس کلب کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس، قانونی چارہ جوئی، پارلیمانی رابطوں اور احتجاجی لائحہ عمل پر اتفاق
کراچی پریس کلب کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں پیکا ایکٹ (Prevention of Electronic Crimes Act 2016) اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے صحافیوں کو جاری کیے جانے والے نوٹسز، آزادیٔ اظہار پر عائد پابندیوں، ہتکِ عزت کے قانون اور صحافیوں کو درپیش قانونی مشکلات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں صحافیوں کو جاری نوٹسز فوری واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے قانونی و پارلیمانی مشاورت جاری رکھنے، صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کرنے اور قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالتوں سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے کی۔ شرکاء نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد اب سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں کے لیے آزادانہ طور پر کام کرنا مشکل بنایا جا رہا ہے۔ اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ صحافیوں کے حقوق، آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے تمام صحافتی تنظیموں کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔

صحافیوں کو مسلسل نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں، فاضل جمیلی
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی نے کہا کہ صحافیوں کو مسلسل نوٹسز جاری کیے جا رہے ہیں اور این سی سی آئی اے خود ہی عدالت بنی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخبارات اور ٹی وی چینلز کے بعد اب سوشل میڈیا پر بھی قدغنیں عائد کی جا رہی ہیں اور صحافیوں کو دھمکایا جا رہا ہے، جس سے آزادیٔ اظہار اور صحافتی ذمہ داریوں کی ادائیگی متاثر ہو رہی ہے۔
ہتکِ عزت کے قانون میں بہتری اور فیک نیوز کی واضح تعریف ضروری ہے
سینیئر صحافی مظہر عباس نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا میں ہتکِ عزت کے قانون کو ایک مؤثر قانونی راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس قانون کے تحت مقدمات کے فیصلوں میں تاخیر ہو رہی ہے تو قانون کو بہتر بنایا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق قانون میں ایک ماہ کے اندر فیصلہ کرنے کی بات کی گئی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔
مظہر عباس نے کہا کہ2008ء میں بھی میڈیا کمپلینٹ سیل قائم کرنے کی تجویز دی گئی تھی، جس میں صحافیوں کی نمائندگی شامل ہو اور اس سیل کی سفارشات اور فیصلے اخبارات میں شائع کیے جائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیکا ایکٹ اور این سی سی آئی اے کو آزادیٔ اظہار سلب کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ قانون کو صحافیوں کے خلاف ہتھیار بنانے کے بجائے ہتکِ عزت کے قانون میں بہتری لائی جائے اور ہراساں کرنے کے عمل کی حوصلہ شکنی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی اپنے طریقۂ کار کو حتمی شکل دے رہی ہے اور اس سلسلے میں تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ فیک نیوز کے معاملے پر بات کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ غلط معلومات صرف کسی فرد یا ادارے کے خلاف بات کرنے سے ہی نہیں بنتیں، بلکہ بعض اوقات سرکاری ادارے اور حکومتیں بھی ایسی اطلاعات جاری کرتی ہیں جو حقائق کے منافی ہوتی ہیں۔
اگر کوئی منصوبہ عملی طور پر وجود میں نہ آیا ہو اور اس کی تشہیر شروع کر دی جائے تو اس پہلو کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے فیک نیوز کی جامع اور واضح تعریف مرتب کرنے پر زور دیا۔
سینیئر صحافی نے مزید کہا کہ تمام میڈیا اداروں میں محتسب کا نظام ہونا چاہیے، جبکہ صحافیوں کی تربیت بھی ضروری ہے تاکہ خبر دیتے وقت کسی کی بلاوجہ تضحیک یا توہین نہ ہو اور صحافتی ذمہ داریوں کو پیشہ ورانہ اصولوں کے مطابق ادا کیا جا سکے۔
نوٹسز پر صحافتی تنظیموں کو بروقت آگاہ کرنے کی تجاویز
کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکریٹری ریحان چشتی نے تجویز دی کہ این سی سی آئی اے کسی صحافی کے خلاف نوٹس جاری کرنے سے قبل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو آگاہ کرے، تاکہ معاملے کا بروقت جائزہ لیا جا سکے اور متعلقہ صحافی کو ضروری قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔
فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی خازن شہربانو نے کہا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ صحافتی یونینز کو بھی نوٹسز کے اجرا کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جانا چاہیے۔ اس اقدام سے یونینز سے وابستہ صحافیوں کو درپیش قانونی مسائل کا فوری علم ہو سکے گا اور انہیں بروقت مدد فراہم کی جا سکے گی۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس کی جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار نے کہا کہ آئین سے متصادم قوانین نہیں بنائے جانے چاہئیں۔ انہوں نے ہتکِ عزت کے قانون میں ترمیم کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ورک پلیس کی واضح تعریف بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریڈیو اور ٹی وی کے بعد اب صحافی سوشل میڈیا پر بھی کام کر رہے ہیں، اس لیے بدلتے ہوئے حالات کے مطابق قوانین اور ضوابط وضع کیے جائیں۔
نائب صدر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس غزالہ فصیح نے کہا کہ صحافیوں کے حقوق کے تحفظ اور پالیسی میں تبدیلی کے لیے مؤثر لابنگ شروع کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق قانون سازی اور پالیسی میں بہتری کے لیے متعلقہ حلقوں سے رابطے ناگزیر ہیں، جبکہ صحافیوں میں بھی قوانین اور اپنے قانونی حقوق سے متعلق آگاہی پیدا کی جانی چاہیے۔
کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری لیاقت کشمیری نے کہا کہ این سی سی آئی اے اور پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے ساتھ اختیار کیے جانے والے رویے سے نمٹنے کے لیے ایک قانونی ٹیم تشکیل دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ صحافیوں کے خلاف موصول ہونے والی شکایات اور جاری کیے جانے والے نوٹسز کے بارے میں کراچی پریس کلب اور متعلقہ یونینز کو بروقت آگاہ کیا جائے، تاکہ متاثرہ صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات ممکن ہوں۔
پیکا ایکٹ کے خلاف آئینی درخواست اور عدالتی چارہ جوئی کی تجویز
فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ نے پیکا ایکٹ کے خلاف آئینی درخواست دائر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کے نزدیک یہ قانون آئین پاکستان کے آرٹیکل19سے متصادم ہے، جو آزادیٔ اظہار اور آزادیٔ صحافت سے متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض معاملات میں صحافیوں کے خلاف نوٹسز جاری کیے بغیر بھی مقدمات قائم کیے جا رہے ہیں، جس سے قانونی پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔
اے ایچ خانزادہ نے مزید کہا کہ جب مریم اورنگزیب وزیر اطلاعات تھیں تو کراچی پریس کلب میں انہوں نے یقین دہانی کرائی تھی کہ پیکا ایکٹ پر اعتراضات موجود ہونے تک اسے اسمبلی سے منظور نہیں کرایا جائے گا، تاہم ان کے بقول اگلے ہی روز یہ قانون اسمبلی سے منظور کروا لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف کارروائیوں پر احتجاج کے ساتھ ساتھ عدالتوں سے بھی رجوع کیا جانا چاہیے تاکہ قانونی سطح پر ان معاملات کو چیلنج کیا جا سکے۔

کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری نے کہا کہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے بعد اب سوشل میڈیا پر بھی صحافیوں کے لیے کام کرنا مشکل بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ آزادیٔ صحافت اور آزادیٔ اظہار کے تحفظ کے لیے صحافتی تنظیمیں انفرادی کوششوں کے بجائے مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔
پارلیمنٹیرینز سے ملاقاتیں، قانونی ٹیم اور احتجاجی لائحہ عمل
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا ایک وفد تشکیل دیا جائے گا، جو پارلیمنٹیرینز سے ملاقات کرکے انہیں صحافیوں کو درپیش مشکلات، پیکا ایکٹ اور این سی سی آئی اے کے حوالے سے تحفظات سے آگاہ کرے گا۔ کمیٹی نے قانونی مشاورت، پارلیمانی رابطوں، لابنگ اور احتجاج کا سلسلہ جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ منعقد ہوگا، جبکہ صحافیوں کو جاری کیے جانے والے نوٹسز اور ان کے خلاف ہونے والی قانونی کارروائیوں سے بروقت آگاہی کے لیے ایک مؤثر رابطہ کار نظام تشکیل دیا جائے گا۔ شرکاء نے اس امر پر بھی زور دیا کہ متاثرہ صحافیوں کو قانونی معاونت کی فراہمی کے لیے کراچی پریس کلب اور صحافتی یونینز کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر بنایا جائے۔

پیکا ایکٹ کیا ہے اور صحافتی تنظیموں کے تحفظات کیا ہیں؟
پیکا ایکٹ کا تعارف
پیکا ایکٹ، یعنی پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ2016، بنیادی طور پر الیکٹرانک اور ڈیجیٹل ذرائع سے متعلق جرائم کی روک تھام، تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے متعارف کرایا گیا تھا۔
تاہم صحافتی تنظیموں، وکلا اور آزادیٔ اظہار کے لیے کام کرنے والے حلقوں کی جانب سے اس قانون کے بعض پہلوؤں اور اس کے نفاذ کے طریقۂ کار پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
صحافتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ سائبر جرائم کی روک تھام اور جھوٹی معلومات کے تدارک کے لیے قانونی اقدامات اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن ان قوانین کا اطلاق شفاف، منصفانہ اور آئینی تقاضوں کے مطابق ہونا چاہیے، تاکہ صحافیوں کو محض تنقیدی رپورٹنگ یا عوامی اہمیت کے معاملات اجاگر کرنے پر غیر ضروری قانونی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
کراچی پریس کلب کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کو اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں صحافتی تنظیموں نے قانونی چارہ جوئی، پارلیمانی رابطوں، مشترکہ لائحہ عمل اور صحافیوں کو بروقت قانونی معاونت کی فراہمی کے ذریعے اپنے تحفظات متعلقہ فورمز تک پہنچانے پر اتفاق کیا ہے۔
اجلاس میں شرکت
اجلاس میں کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان، جوائنٹ سیکریٹری فاروق سمیع، سینیئر صحافی مظہر عباس، فیڈرل یونین آف جرنلسٹس دستور کے سیکریٹری جنرل اے ایچ خانزادہ، پی ایف یو جے کی خازن شہربانو، کراچی یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری لیاقت کشمیری، کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور کے صدر نصراللہ چوہدری اور سیکریٹری ریحان چشتی، کے یو جے کی جنرل سیکریٹری لبنیٰ جرار، نائب صدر پی ایف یو جے غزالہ فصیح اور پریس فوٹوگرافرز ایسوسی ایشن کے صدر جمیل احمد نے شرکت کی۔
آزادیٔ صحافت اور قانونی تحفظ کا سوال
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں صحافیوں کو جاری نوٹسز کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی، قانونی معاونت، پارلیمانی رابطوں اور عدالتی چارہ جوئی کے ذریعے آگے بڑھنے پر اتفاق کیا گیا۔
اجلاس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ صحافیوں کے حقوق اور آزادیٔ اظہار سے متعلق تحفظات کو مؤثر، شفاف اور قانونی طریقے سے متعلقہ فورمز تک پہنچایا جائے۔

