یونیٹی فوڈز کیس میں بینک اسلامی کی انٹری
ایف آئی اے نے یونیٹی فوڈز اور یونیٹی ٹیکنالوجیز سے متعلق بینکنگ و فنانسنگ ریکارڈ طلب کرلیا
پندرہ ارب روپے کی فنانسنگ، ڈپازٹس اور ری اسٹرکچرنگ سے متعلق معاملات تحقیقات کا حصہ
کراچی: یونیٹی فوڈز سے متعلق مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا دائرہ بینک اسلامی تک پہنچ گیا ہے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)نے بینک اسلامی سے یونیٹی فوڈز اور یونیٹی ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ سے متعلق فنانسنگ اور بینکنگ ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔
حاصل شدہ دستاویزات کے مطابق جون دو ہزار پچیس میں بینک اسلامی نے یونیٹی ٹیکنالوجیز کو پندرہ ارب روپے کی فنانسنگ سہولت فراہم کی تھی، جسے بعد میں ری اسٹرکچر کیا گیا۔ تحقیقات میں اس امر کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یونیٹی فوڈز کے ڈپازٹس کو یونیٹی ٹیکنالوجیز کی فنانسنگ کے ساتھ کس قانونی اور کارپوریٹ طریقہ کار کے تحت منسلک کیا گیا۔
ایف آئی اے نوٹس کے مطابق فنانسنگ کے معاملے میں یونیٹی فوڈز کے ڈپازٹس پر سو فیصد لائین رکھنے اور بعد ازاں یونیٹی فوڈز کو مشارکہ انتظام میں شامل کیے جانے سے متعلق دستاویزات بھی ایف آئی اے نے طلب کی ہیں۔ تحقیقاتی ادارہ یہ بھی دیکھ رہا ہے کہ اس معاملے میں متعلقہ کارپوریٹ منظوریوں اور بینکنگ قواعد و ضوابط پر مکمل عملدرآمد کیا گیا یا نہیں۔
تحقیقات کے دوران بینک اسلامی کے پانچ افسران کے نام بھی سامنے آئے ہیں، جن میں حسن رضا، ریحان شہزادہ، سید مظفر عالم، مکرم حسن اور ظہیر الٰہی بابر شامل ہیں۔ تاہم کسی شخص کا تحقیقات میں نام آنا بذاتِ خود جرم ثابت نہیں کرتا اور معاملے کی حتمی قانونی حیثیت تحقیقات اور عدالتی کارروائی کے بعد واضح ہوگی۔
یونیٹی فوڈز کیس میں کمپنی کے شائع شدہ مالیاتی اکاؤنٹس اور اندرونی ریکارڈز کے درمیان تقریباً چوالیس ارب ستر کروڑ روپے کے مبینہ فرق سمیت دیگر مالی معاملات بھی زیرِ تحقیق ہیں۔ بینک اسلامی جے ایس بینک کی ذیلی کمپنی ہے، جبکہ جے ایس بینک کے پاس بینک اسلامی کے پچہتر اعشاریہ بارہ فیصد شیئرز ہیں۔ اب ایف آئی اے کی تحقیقات میں پندرہ ارب روپے کی فنانسنگ، یونیٹی فوڈز کے ڈپازٹس اور متعلقہ منظوریوں کے درمیان مالی و قانونی تعلق کا جائزہ اہم سوال بن گیا ہے۔

