ایشیائی کھیلوں میں پاکستان کہاں؟
پچیس کروڑ کی آبادی،246رکنی دستہ،23کھیل، کروڑوں کے اخراجات اور نتیجہ صفر گولڈ!
ذرا جرأت کے ساتھ یہ سوال پوچھنے کا وقت آگیا ہے کہ پاکستان ایشیا کے کھیلوں کے میدان میں پیچھے کیوں جاتا جا رہا ہے؟
جاپان کے شہر آئیچی ناگویا میں ہونے والے2026ایشین گیمز پاکستان کے لیے ختم ہوچکے ہیں۔ پاکستان نے صفر طلائی، دو چاندی اور آٹھ کانسی سمیت مجموعی طور پر دس تمغے حاصل کیے اور29ویں پوزیشن پر رہا۔ اولمپئن ارشد ندیم کیوں کلک نہیں کر سکا۔ ایک وقت میں باکسنگ ایشین گیمز میں پاکستان کی طاقت تھا، اس سال ہمارا ایک بھی باکسر نہ ایک مقابلہ جیت سکا۔

یہاں سب سے پہلے ان پاکستانی کھلاڑیوں کو سلام جنہوں نے محدود وسائل کے باوجود ملک کے لیے تمغے جیتے۔ ان کی محنت، قربانی اور کامیابی قابلِ احترام ہے۔
لیکن سوال کھلاڑی سے نہیں، اس نظام سے ہے۔
پچیس کروڑ سے زائد آبادی کے ملک کا246رکنی دستہ23کھیلوں میں شریک ہو اور ایک بھی طلائی تمغہ حاصل نہ کرسکے تو اسے صرف بدقسمتی کہہ کر آگے نہیں بڑھا جاسکتا۔
یہ ایک ایسا موقع ہے جہاں ہمیں اپنی پوری اسپورٹس پالیسی کا پوسٹ مارٹم کرنا ہوگا۔
کبھی پاکستان ایشیا کی طاقت تھا
پاکستان کی کھیلوں کی تاریخ ہمیں شرمندہ نہیں کرتی، بلکہ آج کے نظام سے سوال کرتی ہے۔
1958 کے ایشین گیمز میں پاکستان نے6طلائی تمغے حاصل کیے تھے جبکہ1962میں پاکستان کے حصے میں8طلائی تمغے آئے۔ یعنی ایک وقت تھا جب پاکستان ایشیا کے بڑے کھیلوں کے مقابلوں میں صرف شرکت نہیں کرتا تھا بلکہ تمغوں کی دوڑ میں صفِ اول کے ممالک میں شمار ہوتا تھا۔

آج ہم صفر گولڈ پر کھڑے ہیں۔
یہ فرق صرف چند دہائیوں کا نہیں، یہ نظام کے زوال کی داستان ہے۔
اصل مسئلہ کھلاڑی نہیں، کھیلوں کا نظام ہے
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں۔
کمی ہے تو صرف ایک چیز کی، ٹیلنٹ کو میرٹ پر آگے لے جانے والے نظام کی۔
جس ملک میں کھلاڑی کو اپنی قابلیت ثابت کرنے کے بعد بھی سفارش، تعلق، گروپ بندی اور عہدیداروں کی خوشنودی کا سامنا کرنا پڑے، وہاں عالمی معیار کے کھلاڑی کیسے پیدا ہوں گے؟
اگر فیڈریشن کے عہدے کھیل کے ماہرین کے بجائے ذاتی تعلقات، رشتہ داری، چاپلوسی اور گروپ بندی کی بنیاد پر تقسیم ہوں تو پھر کھیل کی شکست میدان سے پہلے ہی طے ہوجاتی ہے۔
کھیل میں میرٹ کا قتل ہوگا تو میدان میں میڈل نہیں، رسوائی آئے گی۔
اور پھر آیا ’’سیلف فنانس‘‘ کا نیا باب
پاکستانی کھیلوں کے اس پورے منظرنامے میں2026ایشین گیمز کا ایک انتہائی اہم اور پریشان کن پہلوself-financeکی بنیاد پر کھلاڑیوں کی شرکت بھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان اسپورٹس بورڈ نے دستے کے صرف ایک محدود حصے کو براہِ راست مالی معاونت فراہم کی، جبکہ بڑی تعداد کے اخراجات فیڈریشنز، پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن یا دیگر ذرائع سے پورے کیے گئے اور بعض کھلاڑیوں نے اپنی جیب سے اخراجات برداشت کیے۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے:
اگر کوئی کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کرنے کے لیے منتخب ہوا ہے تو ریاست اور متعلقہ کھیلوں کے اداروں کی ذمہ داری کیا ہے؟
کیا اب قومی ٹیم کا معیار یہ ہوگا کہ جس کے پاس پیسہ ہے وہ ملک کی نمائندگی کرسکتا ہے؟
اگر ایسا ہے تو پھر ہم میرٹ کے بجائے مالی استطاعت کو کھیلوں کی نئی اہلیت بنا رہے ہیں۔
سیلف فنانس کا نقصان صرف کھلاڑی کی جیب تک محدود نہیں
بظاہر کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی کھلاڑی اپنے اخراجات خود برداشت کرکے ملک کی نمائندگی کرنا چاہتا ہے تو اس میں برائی کیا ہے؟
لیکن اصل مسئلہ کہیں زیادہ گہرا ہے۔
فرض کریں ایک باصلاحیت کھلاڑی غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے، مگر اس کی کارکردگی ایشیا کے بہترین کھلاڑیوں کے برابر ہے۔
دوسری طرف ایک ایسا کھلاڑی ہے جس کے پاس مالی وسائل موجود ہیں اور وہ اپنے اخراجات برداشت کرسکتا ہے۔
اگر دونوں میں سے صرف اس لیے دوسرے کو موقع ملے کہ وہ سفر، رہائش یا دیگر اخراجات خود اٹھانے کی استطاعت رکھتا ہے تو یہ کھیلوں میں معاشی تفریق ہے۔
ٹیلنٹ کافی نہیں، جیب بھی بھری ہونی چاہیے۔
کیا یہی ہمارا نیا اسپورٹس ماڈل ہے؟
دنیا کے سامنے پاکستان کا تاثر بھی متاثر ہوا
ایشین گیمز کوئی معمولی نجی ٹورنامنٹ نہیں۔
یہ براعظم ایشیا کا سب سے بڑا کثیر کھیلوں کا ایونٹ ہے، جہاں دنیا کی نظریں شریک ممالک پر ہوتی ہیں۔
ایسے ایونٹ میں اگر ایک طرف پاکستان کا ایک کھلاڑی اپنی جیب سے قومی پرچم کے لیے سفر کرے اور دوسری طرف ملک کے کھیلوں کے ادارے بڑے انتظامی ڈھانچے کے ساتھ موجود ہوں تو یہ سوال لازماً پیدا ہوتا ہے کہ قومی کھیلوں کی ترجیحات آخر کیا ہیں؟

یہ صورتحال پاکستان کے کھلاڑیوں کے لیے بھی تکلیف دہ ہے اور ملک کے اسپورٹس مینجمنٹ سسٹم کے لیے بھی باعثِ شرمندگی۔
اگر ریاست اپنے کھلاڑی کو عالمی ایونٹ تک پہنچانے کے بنیادی اخراجات بھی مکمل طور پر نہیں اٹھا سکتی تو پھر ہمیں یہ بھی پوچھنا چاہیے کہ کھیلوں کے بجٹ، فیڈریشنوں کے فنڈز اور انتظامی اخراجات کا پورا نظام کہاں کھڑا ہے؟
’’میڈل جیتو، پیسے بعد میں ملیں گے‘‘ — کیا یہ پالیسی ہے؟
رپورٹس کے مطابق اپنے پیسہ کی بنیاد پر جانے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کے لیے یہ بات بھی سامنے آئی کہ اگر وہ میڈل جیتیں تو واپسی پر انہیں حکومتی انعام دیا جائے گا۔
لیکن سوال یہ ہے:
ایک عالمی معیار کا ایتھلیٹ صرف چند ہفتوں کیمپ لگا کر نہیں بنتا۔
اس کے پیچھے برسوں کی کوچنگ، غذائیت، فٹنس، جدید سہولیات، بین الاقوامی مقابلے، اسپورٹس سائنس، فزیوتھراپی، ذہنی تربیت اور مسلسل مالی معاونت ہوتی ہے۔
ہم اگر کھلاڑی کے سفر کا ٹکٹ بھی اس سے مانگیں اور پھر اس سے گولڈ میڈل بھی مانگیں تو یہ کھیل نہیں، کھلاڑی سے معجزے کی توقع ہے۔
فیڈریشنیں کس کے لیے ہیں؟
یہاں قومی کھیلوں کی فیڈریشنوں سے بھی سوال بنتا ہے۔
فیڈریشن کا بنیادی مقصد کیا ہے؟
- عہدے حاصل کرنا؟
- انتخابات جیتنا؟
- گروپ بنانا؟
- یا کھلاڑی تیار کرنا؟
اگر کسی فیڈریشن کا بڑا حصہ اپنی توانائی انتخابات، دھڑوں، عہدوں اور باہمی اختلافات پر صرف کردے اور کھلاڑی کو تربیت، سہولت اور بین الاقوامی مقابلے کے لیے وسائل نہ ملیں تو ایسی فیڈریشن کھیل کو آگے نہیں لے جاسکتی۔
کھیل کی فیڈریشن کھلاڑی کے لیے ہونی چاہیے، کھلاڑی فیڈریشن کے عہدیداروں کے لیے نہیں۔
جب قانون بھی پسند اور ناپسند کا شکار ہوجائے
اسپورٹس گورننس کا ایک اور خطرناک پہلو یہ ہے کہ اگر ایک ہی نوعیت کی خلاف ورزی پر مختلف لوگوں کے لیے مختلف فیصلے کیے جائیں تو پورا نظام مشکوک ہوجاتا ہے۔
اپنا گروپ ہو تو عہدہ۔
مخالف ہو تو پابندی۔
مخالف آواز ہو تو کارروائی۔
اگر واقعی ایسا ماحول موجود ہے تو پھر اس کھیل کے میدان میں میرٹ کیسے زندہ رہ سکتا ہے؟
قانون ایک ہونا چاہیے، چاہے سامنے اپنا ہو یا مخالف۔
کرپشن، عمر کا فراڈ اور اسٹریٹ چلڈرن کے نام پر کھیل
پاکستان میں کھیلوں کے نام پر مختلف منصوبے بنتے ہیں۔
اسٹریٹ چلڈرن کے لیے پروگرام بنتے ہیں۔
ٹیلنٹ ہنٹ کے دعوے ہوتے ہیں۔
نوجوانوں کے لیے اسکیمیں بنتی ہیں۔

لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ان پروگراموں کا نتیجہ کہاں ہے؟
کتنے حقیقی اسٹریٹ چلڈرن قومی سطح کے کھلاڑی بنے؟
کتنے نوجوان مستقل تربیتی نظام میں شامل ہوئے؟
کتنے اضلاع میں باقاعدہ مقابلے ہورہے ہیں؟
کتنے اسکولوں میں کھیلوں کی سہولیات موجود ہیں؟
اور کتنے منصوبے صرف فائلوں اور تصاویر تک محدود رہ گئے؟
اگر عمر کے معاملات میں دھوکا، جعلی دستاویزات، مالی بے ضابطگیاں یا ٹیلنٹ پروگراموں میں دو نمبری ثابت ہو تو یہ صرف ایک فرد کا جرم نہیں، پورے کھیل کے مستقبل کے ساتھ زیادتی ہے۔
حکومت کو اب بڑا فیصلہ کرنا ہوگا
اب وقت آگیا ہے کہ حکومت صرف ایشین گیمز کے بعد میڈل جیتنے والوں میں انعامات تقسیم نہ کرے بلکہ پورے اسپورٹس نظام کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کرائے۔
- ہر فیڈریشن کا مالی آڈٹ
- انتخابی آڈٹ
- کھلاڑیوں کے انتخاب کا آڈٹ
- کوچنگ کا جائزہ
- تربیتی کیمپوں کا جائزہ
- غیر ملکی دوروں کا جائزہ
- آفیشلز کی تعداد اور ضرورت کا جائزہ
- جونیئر پروگراموں کا جائزہ
- ٹیلنٹ ہنٹ پروگراموں کا جائزہ
ہونا چاہیے۔
اور سب سے اہم بات:
رپورٹ عوام کے سامنے آنی چاہیے۔
انتخابات بھی واقعی انتخابات ہوں
کھیلوں کی فیڈریشنوں کو سیاسی اور ذاتی گروپ بندی سے نکالنے کے لیے انتخابات کا ایسا نظام ہونا چاہیے جس پر کھلاڑی، کوچ، کلب اور متعلقہ حلقے اعتماد کرسکیں۔
غیر جانبدار نگرانی میں خفیہ رائے شماری ہو۔
ووٹنگ کا حق حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو دیا جائے۔
اور جس کھیل کا جو شخص اہل، تجربہ کار اور عملی طور پر وابستہ ہو، اسے ہی اس کھیل کی قیادت کا موقع ملے۔

ہاکی کا سربراہ وہ ہو جو ہاکی جانتا ہو۔
ایتھلیٹکس کا سربراہ وہ ہو جو ایتھلیٹکس سمجھتا ہو۔
فٹبال کا سربراہ وہ ہو جو فٹبال کی گراؤنڈ حقیقت سے واقف ہو۔ باکسنگ میں قیادت وہ کرے جس نے رنگ میں اپنا خون پسینہ بہایا ہو۔
صرف عہدہ حاصل کرنے والا شخص کھیل کا سربراہ نہیں ہوسکتا۔
ہمیں عہدے دار نہیں، کھیل کے معمار چاہییں
پاکستان کو ایسے اسپورٹس ایڈمنسٹریٹرز کی ضرورت ہے جو اگلے الیکشن کی فکر سے زیادہ اگلے اولمپین کی فکر کریں۔
ایسے لوگ جو یہ سوچیں کہ:
- اگلے چار سال میں کتنے نوجوان تیار کرنے ہیں؟
- کتنے بین الاقوامی کوچز لانے ہیں؟
- کتنے ڈسٹرکٹس میں کھیلوں کا نظام بنانا ہے؟
- کتنے اسکولوں کو کھیلوں کے مراکز میں تبدیل کرنا ہے؟
- کتنے کھلاڑیوں کو اسکالرشپ دینی ہے؟
- اور کتنے عالمی معیار کے تربیتی مراکز قائم کرنے ہیں؟
یہی سوال پاکستان کو دوبارہ ایشیائی کھیلوں کی طاقت بنا سکتے ہیں۔
صفر گولڈ صرف میڈل ٹیبل کا عدد نہیں
2026 ایشین گیمز میں پاکستان کے دس تمغے ہیں۔
دو چاندی۔
آٹھ کانسی۔
صفر طلائی۔

یہ دس تمغے ہمیں اپنے کھلاڑیوں پر فخر کرنے کا موقع دیتے ہیں۔
لیکن صفر گولڈ ہمیں اپنے نظام پر سوال کرنے پر مجبور کرتا ہے۔
ہمیں کھلاڑیوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کے بجائے یہ دیکھنا ہوگا کہ انہیں وہ نظام کیوں نہیں دیا گیا جو انہیں ایشیا کا فاتح بنا سکتا تھا۔
پاکستان میں ٹیلنٹ آج بھی موجود ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ ٹیلنٹ کے اوپر ایک ایسا انتظامی ڈھانچہ کھڑا ہوگیا ہے جہاں کبھی میرٹ ہارتا ہے، کبھی شفافیت، کبھی مالی وسائل اور کبھی خود کھلاڑی۔
اب فیصلہ کرنا ہوگا
اگر حکومت واقعی پاکستان کو کھیلوں میں دوبارہ باوقار مقام دلانا چاہتی ہے تو اسے ایک بنیادی اصول اپنانا ہوگا:
عہدوں میں رشتہ داری کم، اہلیت زیادہ۔
کاغذی منصوبے کم، گراؤنڈ پر کام زیادہ۔
انتظامی اخراجات کم، کھلاڑی پر سرمایہ کاری زیادہ۔
سیلف فنانس کم، ریاستی ذمہ داری زیادہ۔
اور سب سے بڑھ کر:
فیڈریشن کے عہدے کی قدر نہیں، کھلاڑی کی قدر۔
پاکستان کو ایسے نظام کی ضرورت ہے جہاں کسی باصلاحیت نوجوان سے یہ نہ کہا جائے کہ:
بلکہ ریاست اسے یہ کہے:
کیونکہ قومی پرچم اٹھانے والا کھلاڑی کسی نجی ٹور پر نہیں جاتا۔
وہ پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے۔
اور جب وہ پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے تو اس کے سفر کا بوجھ صرف اس کے والدین، خاندان یا اس کی اپنی جیب پر نہیں ہونا چاہیے۔
یہ ریاست کی ذمہ داری ہے۔
ایشین گیمز2026گزر گئے۔
اب اصل امتحان شروع ہوا ہے۔
اگر حکومت نے اس صفر گولڈ کو صرف ایک خبر سمجھ کر بھلا دیا تو اگلے ایشین گیمز میں شاید تمغوں کی تعداد بھی کم ہوجائے۔
لیکن اگر اس شکست کو اصلاح کا نقطۂ آغاز بنایا گیا، فیڈریشنوں کا احتساب ہوا، سیلف فنانس کے نظام پر نظرثانی ہوئی، فیڈریشنز کے انتخابات شفاف ہوئے، میرٹ بحال ہوا اور کھیلوں میں حقیقی سرمایہ کاری شروع ہوئی تو شاید پاکستان دوبارہ وہ مقام حاصل کرسکے جس پر کبھی وہ فخر سے کھڑا تھا۔
ورنہ مسئلہ یہ نہیں ہوگا کہ پاکستان ایشین گیمز میں ہار گیا۔
مسئلہ یہ ہوگا کہ پاکستان نے اپنے کھیلوں کو جیتنے کے قابل بنانے کی کوشش ہی نہیں کی۔
اور پھر ہر چار سال بعد دنیا کے سامنے ہمارا دستہ تو جائے گا، مگر واپس آتے ہوئے ہمارے پاس تمغوں سے زیادہ وضاحتیں، اور کامیابی سے زیادہ بہانے ہوں گے۔

