عالمی بینک:مشرقِ وسطیٰ کے خطے کے48فیصد انتہائی غریب پاکستان میں
عالمی بینک کے مطابق مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان پر مشتمل خطے میں روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے تقریباً نصف انتہائی غریب افراد پاکستان میں رہتے ہیں، جبکہ طویل معاشی ایڈجسٹمنٹ، مہنگائی، قدرتی آفات اور روزگار کے محدود مواقع نے ملک میں غربت کے مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
پاکستان کو ایک طرف معاشی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط اور ترقی کی رفتار بڑھانے کا چیلنج درپیش ہے، تو دوسری جانب لاکھوں خاندانوں کی قوتِ خرید، روزگار اور بنیادی ضروریات تک رسائی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ عالمی بینک کی تازہ علاقائی رپورٹ اس تضاد کو نمایاں کرتی ہے۔
واشنگٹن میں قائم عالمی بینک نے منگل کو جاری کردہ اپنی مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، افغانستان اور پاکستان(MENAAP)سے متعلق علاقائی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی رکھنے والے افراد میں سے تقریباً48فیصد پاکستان میں آباد ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طویل عرصے تک جاری رہنے والے معاشی ایڈجسٹمنٹ اقدامات نے گھرانوں کی حقیقی آمدنی اور روزگار کے مواقع کو کمزور کیا، جس کے نتیجے میں غربت میں اضافہ ہوا۔
عالمی بینک نے پاکستان کو جنوبی ایشیا کے بجائے مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے وسیع علاقائی جائزے میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان خطے میں غربت کے سب سے بڑے مراکز میں سے ایک ہے، جبکہ افغانستان، شام اور یمن، جو طویل تنازعات اور جنگوں سے متاثر ہیں، مجموعی طور پر خطے کے مزید47فیصد انتہائی غریب افراد کی میزبانی کرتے ہیں۔
خطے میں یومیہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد میں پاکستان کا حصہ تقریباً48فیصد ہے۔ یہ تناسب خطے کے مجموعی انتہائی غریب افراد کی تقسیم کو ظاہر کرتا ہے، نہ کہ پاکستان کی پوری آبادی میں غربت کی شرح کو۔
خطے کے انتہائی غریب افراد میں پاکستان کا حصہ
روزانہ آمدنی کی انتہائی غربت کی حد
2018-19 سے2024-25تک غربت کی شرح میں اضافہ، فیصدی پوائنٹس میں، تین ڈالر کی حد پر
مالی سال2026-27کے لیے متوقع افراطِ زر
پاکستان میں غربت بڑھنے کی وجوہات
عالمی بینک کے مطابق پاکستان میں غربت میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں کووڈ-19کی عالمی وبا،2022کے تباہ کن سیلاب، بلند افراطِ زر، روپے کی قدر میں کمی اور معاشی بحران شامل ہیں۔ ان عوامل کے بعد طویل عرصے تک جاری رہنے والے معاشی ایڈجسٹمنٹ اقدامات نے بھی گھرانوں کی حقیقی آمدنی اور روزگار کے مواقع کو متاثر کیا۔
رپورٹ کے مطابق2018-19سے2024-25کے درمیان یومیہ تین ڈالر کی غربت کی حد پر پاکستان میں غربت کی شرح میں6.4فیصدی پوائنٹس اضافہ ہوا، جبکہ یومیہ4.20ڈالر کی حد پر یہ اضافہ3.2فیصدی پوائنٹس رہا۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ معاشی دباؤ کا اثر صرف انتہائی غریب طبقے تک محدود نہیں رہا بلکہ نسبتاً زیادہ آمدنی والے کمزور گھرانے بھی متاثر ہوئے۔
تازہ ترین علاقائی تخمینوں کے مطابق جب غربت کی حد یومیہ تین ڈالر مقرر کی جائے تو جبوتی، پاکستان، شام اور یمن میں غربت کی شرح تقریباً20فیصد تک پہنچتی یا اس سے تجاوز کرتی ہے۔ عالمی بینک کے مطابق2024میںMENAAPخطے کی14.3فیصد آبادی روزانہ تین ڈالر سے کم آمدنی پر زندگی گزار رہی تھی، جبکہ عالمی سطح پر یہ شرح10.4فیصد تھی۔ اسی طرح خطے کی26.9فیصد آبادی یومیہ4.20ڈالر سے کم آمدنی پر گزارا کر رہی تھی، جبکہ عالمی تناسب18.9فیصد تھا۔
معاشی ایڈجسٹمنٹ اور عام شہری پر اس کا بوجھ
پاکستان میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف)کے پروگراموں کے تحت طویل عرصے سے جاری معاشی ایڈجسٹمنٹ پالیسیوں پر تنقید ہوتی رہی ہے۔ ان پالیسیوں کے ذریعے مالیاتی اور زرِمبادلہ سے متعلق بعض اشاریوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی گئی، تاہم ناقدین کے مطابق اس عمل کے ساتھ کم معاشی نمو، بلند مہنگائی، بے روزگاری اور غربت جیسے مسائل بھی برقرار رہے۔
معاشی استحکام کے اقدامات اور عام گھرانوں کی مالی حالت کے درمیان توازن قائم کرنا پاکستان کے لیے ایک بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگرچہ مالیاتی خسارے میں کمی اور معاشی نظم و ضبط سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مالی استحکام کے لیے اہم ہیں، لیکن ان کے ساتھ حقیقی آمدنی، پیداواری سرمایہ کاری اور روزگار میں بہتری نہ آئے تو عام شہریوں کے لیے معاشی بحالی کے فوائد محدود رہ سکتے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق خطے کی حکومتوں کو بیک وقت دو بڑے تقاضوں کا سامنا ہے:ایک طرف بڑھتی قیمتوں سے گھرانوں کو تحفظ فراہم کرنا اور دوسری جانب تنازعات سے پیدا ہونے والی انسانی ضروریات کا جواب دینا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ایندھن اور زرعی شعبے کے لیے ہدفی معاونت متعارف کرائی ہے۔
پاکستان کی معاشی نمو اور مالیاتی تخمینے
عالمی بینک نے مالی سال2026-27کے لیے پاکستان کی مجموعی ملکی پیداوار(GDP)میں3.8فیصد اضافے اور افراطِ زر کی شرح8.2فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ تاہم آبادی میں اضافے کو مدنظر رکھنے کے بعد حقیقی معاشی نمو کا تخمینہ2.2فیصد ہے، جو گزشتہ مالی سال کے تقریباً2.1فیصد کے تخمینے سے معمولی زیادہ ہے۔
رپورٹ میں خدمات، مینوفیکچرنگ اور مویشی بانی کے شعبوں کو نسبتاً مضبوط قرار دیا گیا ہے، جبکہ درآمدی اخراجات، اجناس کی قیمتوں اور نقل و حمل کی لاگت میں اضافے کو مہنگائی اور بیرونی مالیاتی توازن کے لیے خطرہ بتایا گیا ہے۔ اس کے باوجود داخلی معاشی سرگرمیوں میں تسلسل سے نمو کو سہارا ملنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
عالمی بینک کے ایک دوسرے مالیاتی تخمینے کے مطابق پاکستان کا جاری کھاتے کا خسارہ مالی سال2025-26میںGDPکے0.1فیصد سے بڑھ کر مالی سال2026-27میں0.8فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جبکہ مالیاتی خسارہ اسی مدت میں2.6فیصد سے بڑھ کر3.5فیصد رہنے کا امکان ہے۔ یہ اعداد اسی رپورٹ میں پیش کردہ مالی سال وار تخمینوں سے متعلق ہیں اور انہیں دیگر مختلف بنیادوں پر مرتب کردہ تخمینوں سے الگ سمجھنا چاہیے۔
| معاشی اشاریہ | مالی سال 2025-26 | مالی سال 2026-27 |
|---|---|---|
| مجموعی معاشی نمو | 3.7% | 3.8% |
| جاری کھاتے کا خسارہ | 0.1% | 0.8% |
| مالیاتی خسارہ | 2.6% | 3.5% |
رپورٹ کے اس تخمینے میں معاشی نمو مالی سال2024-25کے3.2فیصد سے بڑھ کر مالی سال2025-26میں3.7فیصد اور مالی سال2026-27میں3.8فیصد ہونے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ یہ مجموعیGDPنمو کے اعداد و شمار ہیں، جبکہ آبادی میں اضافے کے مطابق ایڈجسٹ حقیقی نمو کا تخمینہ مختلف ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور علاقائی تنازع کے اثرات
عالمی بینک نے بتایا کہ مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کے آغاز کے بعد لبنان، پاکستان، شام اور متحدہ عرب امارات میں پیٹرول کی قیمتوں میں40فیصد یا اس سے زیادہ اضافہ ہوا۔ اسی عرصے میں ڈیزل کی قیمتوں میں لبنان میں اوسطاً80فیصد سے زیادہ اور متحدہ عرب امارات میں تقریباً70فیصد اضافہ ہوا، جبکہ پاکستان اور مغربی کنارے و غزہ میں بھی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ40فیصد سے تجاوز کر گیا۔
پاکستان، مصر، اردن، مراکش، تیونس اور جبوتی جیسے تیل درآمد کرنے والے ممالک کو کئی سمتوں سے معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ عالمی منڈی میں تیل اور دوسری اجناس کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھنے، حکومتی مالیاتی گنجائش محدود ہونے، خلیجی معیشتوں سے ترسیلاتِ زر میں کمی اور قرض لینے کی لاگت میں اضافے کے خدشات ہیں۔ جاری تنازع کے باعث انشورنس رسک پریمیم میں اضافہ بھی قرض اور تجارت کے اخراجات کو بڑھا سکتا ہے۔
عالمی بینک نے خبردار کیا کہ امریکی اور ایرانی تنازع سے ہونے والے معاشی نقصانات کا حجم ابھی غیر یقینی ہے اور اس کا انحصار تنازع کی آئندہ صورتِ حال پر ہوگا۔ رپورٹ کے بنیادی منظرنامے میں، جس کے مطابق2026کے اختتام تک رکاوٹیں برقرار رہیں گی لیکن مزید مسلسل شدت اختیار نہیں کریں گی، متعلقہ وسیع علاقائی معیشت میں2025کی3.3فیصد نمو کے بعد2026میں2.1فیصد سکڑاؤ کا تخمینہ پیش کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق سیاحت، تعمیرات اور ان سے منسلک خدمات کے شعبوں میں طویل سست روی سے محنت کی طلب کم ہوسکتی ہے اور ان ممالک میں آمدنی کے بہاؤ کو نقصان پہنچ سکتا ہے جہاں بڑی تعداد میں کارکن دوسرے ملکوں میں کام کرتے ہیں، خصوصاً پاکستان اور مشرقِ وسطیٰ کے بعض حصوں میں۔
خوراک کا عدم تحفظ اور موسمیاتی خطرات
عالمی بینک کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ، یمن، افغانستان، جبوتی، لبنان اور پاکستان میں غذائی عدم تحفظ خاص طور پر تشویش ناک ہے۔ خوراک کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان غریب گھرانوں کے لیے صورتِ حال کو مشکل بنا سکتا ہے، کیونکہ کم آمدنی والے خاندان اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک، توانائی اور دوسری بنیادی ضروریات پر خرچ کرتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی خبردار کیا گیا ہے کہ2026کے آخری حصے میں ایل نینو کے معمول سے زیادہ مضبوط موسمی پیٹرن کا امکان خوراک کی قیمتوں پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔ پاکستان کو مون سون کے بدلتے ہوئے حالات اور ان سے وابستہ زرعی خطرات کے ذریعے اس صورتِ حال کا براہِ راست سامنا ہوسکتا ہے۔
پاکستان میں زراعت، خوراک کی پیداوار اور دیہی روزگار کا باہمی تعلق بہت اہم ہے۔ شدید موسمی واقعات سے فصلوں، مویشیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچنے کی صورت میں نہ صرف کسانوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے بلکہ خوراک کی فراہمی اور قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے، جس کا سب سے زیادہ بوجھ کم آمدنی والے گھرانوں کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
پاکستان جدت اور نئی مصنوعات کی تیاری میں پیچھے
عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا نجی شعبہ بھی معیشت کی ابھرتی ہوئی ضروریات کے مطابق جدت اختیار کرنے میں پیچھے ہے۔ گزشتہ تین برس کے دوران نئی مصنوعات یا خدمات متعارف کرانے والی کمپنیوں کا تناسبMENAAPخطے میں دوسری مماثل معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے۔
رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں صرف3فیصد کمپنیوں نے نئی مصنوعات متعارف کرانے کی اطلاع دی، جبکہ ایک فیصد کمپنیوں نے پیداواری عمل میں جدت کی نشاندہی کی۔ اس کے برعکس کم متوسط آمدنی والے تقابلی ممالک میں نئی مصنوعات متعارف کرانے والی کمپنیوں کا اوسط تناسب23فیصد اور پیداواری عمل میں جدت اختیار کرنے والی کمپنیوں کا تناسب14فیصد تھا۔
مصر میں بھی جدت کی شرح کم رہی، جہاں صرف9فیصد کمپنیوں نے نئی مصنوعات اور3فیصد نے پیداواری عمل میں جدت کی اطلاع دی۔ پاکستان کے لیے یہ اعداد اس ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں کہ کاروباری سرمایہ کاری، تحقیق، ٹیکنالوجی کے استعمال، ہنرمندی اور نئی مصنوعات کی تیاری کے لیے بہتر ماحول پیدا کیا جائے، تاکہ نجی شعبہ زیادہ پیداواری اور مسابقتی بن سکے۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال اور ڈیجیٹل معیشت
مصنوعی ذہانت(AI)کے استعمال کے حوالے سے عالمی بینک نے بتایا کہMENAAPکی کئی معیشتوں میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال محدود پیشوں میں زیادہ مرتکز ہے۔ پاکستان میںAIسے متعلق گفتگوؤں کی مجموعی تعداد خطے میں سب سے زیادہ ریکارڈ کی گئی، تاہم اس کا استعمال زیادہ تر فنون، میڈیا، گرافک ڈیزائن، مواد کی تیاری اور ترجمے جیسے شعبوں میں مرتکز دکھائی دیتا ہے، نہ کہ صرف سافٹ ویئر کی تیاری میں۔
رپورٹ کے مطابق اس رجحان کی ایک ممکنہ وجہ بین الاقوامی فری لانس پلیٹ فارمز پر پاکستانی کارکنوں کی نمایاں موجودگی ہے، جہاں ڈیزائن، ترجمے اور ڈیجیٹل مواد کی تیاری جیسی خدمات کی طلب موجود ہے۔ اس کے باوجود مصنوعی ذہانت سے وسیع معاشی فائدہ حاصل کرنے کے لیے ٹیکنالوجی تک رسائی، تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں اور پیداواری شعبوں میں اس کے مؤثر استعمال کو بڑھانا ضروری ہے۔
عالمی بینک کے مطابقChatGPTمتعارف ہونے کے بعد خطے میںAIکی طلب اب بھی بڑی حد تک تکنیکی شعبوں سے وابستہ پیشوں میں مرتکز ہے۔2021سے2025کے درمیان تقریباً تمام ممالک میں ایسی ملازمتوں کے اشتہارات کا تناسب نمایاں طور پر بڑھا جن میں کسی نہ کسی قسم کی ڈیجیٹل مہارت درکار تھی۔ بحرین، لبنان، پاکستان اور سعودی عرب میں اس اضافے کی شرح دو ہندسوں والے فیصدی پوائنٹس تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ خطے میں انٹرنیٹ کا استعمال کئی مرتبہ آمدنی کی سطح کے لحاظ سے متوقع تناسب سے زیادہ ہے، لیکن براڈبینڈ کی غیر مساوی دستیابی اور بجلی تک رسائی میں فرق مصنوعی ذہانت کے وسیع استعمال کی بنیادی رکاوٹیں ہیں۔ جبوتی، مصر، عراق، اردن، عمان، پاکستان، شام اور یمن میں موبائل براڈبینڈ سبسکرپشنز کی شرح آمدنی کی مماثل سطح رکھنے والی معیشتوں کے مقابلے میں کم پائی گئی۔
معاشی بحالی کا اصل امتحان
استحکام کے ساتھ عوامی خوش حالی بھی ضروری
عالمی بینک کی رپورٹ پاکستان کے لیے ایک اہم معاشی سوال سامنے لاتی ہے:اگر معاشی نمو میں اضافہ ہو بھی جائے تو اس کے ثمرات عام شہری تک کس حد تک پہنچیں گے؟ غربت میں کمی کے لیے صرف مجموعی قومی پیداوار میں اضافہ کافی نہیں؛ روزگار کے پائیدار مواقع، حقیقی اجرتوں میں بہتری، مہنگائی پر قابو، نجی شعبے میں سرمایہ کاری، زرعی پیداوار اور تعلیم و ڈیجیٹل مہارتوں تک رسائی بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
پاکستان کے لیے معاشی استحکام اور سماجی تحفظ کو ایک دوسرے کے متبادل کے بجائے ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی ترجیحات بنانا ضروری ہے۔ اگر مالیاتی اصلاحات کے ساتھ پیداواری صلاحیت، کاروباری جدت، روزگار اور کم آمدنی والے گھرانوں کے تحفظ پر توجہ نہ دی گئی تو معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود غربت اور عدم مساوات کا بوجھ برقرار رہ سکتا ہے۔
عالمی بینک کے اعداد و شمار پاکستان کے لیے ایک واضح چیلنج کی نشاندہی کرتے ہیں:معاشی استحکام کو ایسی جامع ترقی میں تبدیل کرنا جو عام خاندانوں کی حقیقی آمدنی بڑھائے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے اور معاشی یا موسمیاتی بحرانوں کے دوران کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرے۔ ملک کی طویل مدتی خوش حالی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ معاشی ترقی کے فوائد کتنے وسیع پیمانے پر معاشرے تک پہنچتے ہیں۔

