موت کا تماشا نہیں!
ندال حسن کے بیانیے کو موقع مت دو
ندال حسن کا جرم بلا شبہ روح فرسا تھا۔ فورٹ ہوڈ (Fort Hood) میں13بے گناہ انسانوں کا قتلِ عام اور30سے زائد افراد کو زخمی کرنا ایک ایسا ہولناک اقدام ہے جس کی کسی صورت پردہ پوشی اور حمایت نہیں کی جا سکتی۔ اس کی سزائے موت کی مخالفت کرنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اس کے مظالم کی شدت کو کم کر کے دیکھا جائے۔ لیکن پینٹاگون کی جانب سے سامنے آنے والا حالیہ منصوبہ دو بنیادی محاذوں پر سخت ناپاک اور ناکام نظر آتا ہے:اول، یہ مجرم کو وہی نتیجہ فراہم کر رہا ہے جس کا وہ تمنائی ہے؛ اور دوم، یہ ریاست کے ایک سنجیدہ عدالتی عمل کو ایک سستا اور ہنگامہ خیز ڈراما بنا رہا ہے۔
سب سے پہلے اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ ندال حسن بذاتِ خود کیا چاہتا ہے۔ مقدمے کی سماعت کے دوران اس نے اپنا دفاع کرنے کی کوئی جاندار کوشش نہیں کی، اور اس کے وکلاء اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ اس کا واحد مقصد صرف سزائے موت حاصل کرنا ہے۔ اس نے خود کو ایک ایسے’سپاہی’کے طور پر پیش کیا جس نے مبینہ طور پر امریکی جنگوں کے بدلے میں یہ اقدام کیا۔ جو شخص خود کو’شہید’کے روپ میں دیکھنا چاہتا ہو، اسے سزائے موت کا خوف نہیں ڈرا سکتا، بلکہ یہ سزا اس کے گمراہ کن بیانیے کو جلا بخشتی ہے۔ اس کے برعکس، بغیر کسی اسٹیج اور بغیر کسی آخری نمائش کے، اسے عمر قید کی سزا دینا ہی اس سے اس کا نام نہاد’مقصد’چھیننے کا واحد ذریعہ ہے۔
پھر یہ سوال بھی قائم ہوتا ہے کہ کیا ریاست پر اس عمل کو بے خطا انداز میں انجام دینے کے لیے بھروسہ کیا جا سکتا ہے؟ حالیہ ماضی میں سزائے موت کے کچھ طریقوں میں پیش آنے والی ناکامیوں اور پیچیدگیوں نے اس عمل پر شدید سوالات اٹھائے ہیں۔ فائرنگ اسکواڈ یا زہریلے انجیکشن میں اگر کوئی غلطی ہو جائے تو اس کی تلافی ممکن نہیں۔60سال سے زائد عرصے میں یہ پہلی فوجی پھانسی ہو گی، اور اس کے لیے صدارتی منظوری، اپیل کے مراحل اور طویل قانونی جائزوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنی نایاب اور غیر ترمیم پذیر سزا میں تیز رفتاری کے بجائے سب سے سست اور محتاط ترین قانونی عمل کا ہونا ضروری ہے۔
کسی انسان کی جان لینا ریاست کا سب سے سنگین ترین اقدام ہوتا ہے، جسے انتہائی خاموشی، سنجیدگی اور وقار کے ساتھ انجام پانا چاہیے، نہ کہ عوامی عبرت کے لیے ایک ڈرامائی منظر بنایا جائے۔
پھانسی کی لائیو نشریات(Livestreaming)کا فیصلہ تو اس سے بھی زیادہ خوفناک ہے۔ تاریخ اور قانون میں کسی پھانسی کو اس طرح براہِ راست دکھانے کی نہ کوئی مثال ملتی ہے اور نہ ہی کوئی ضابطہ موجود ہے۔ کوئی قانون یہ طے نہیں کرتا کہ کیا دکھایا جائے گا، کون دیکھے گا، یہ مواد کتنی دیر انٹرنیٹ پر رہے گا، یا کسی خرابی کی صورت میں کیا ہو گا۔ ذرا تصور کریں کہ اگر اس عمل کے دوران کوئی دردناک حادثہ یا ناکامی پیش آ جائے اور وہ منظر ریکارڈ ہو کر ہمیشہ کے لیے انٹرنیٹ پر محفوظ اور شیئر ہوتا رہے؟
اس فیصلے کی منطق بھی انتہائی گمراہ کن ہے۔ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ سنگین جرائم کے سنگین نتائج ہوتے ہیں۔ لیکن یہ عدل و انصاف نہیں، بلکہ محض’پیغام رسانی’اور نمائش ہے۔ کسی انسان کی جان لینا ریاست کا سب سے سنگین ترین اقدام ہوتا ہے، جسے انتہائی خاموشی، سنجیدگی اور وقار کے ساتھ انجام پانا چاہیے، نہ کہ عوامی عبرت کے لیے ایک ڈرامائی منظر بنایا جائے۔ خود عوام بھی اس قسم کے ڈرامے کو پسند نہیں کرتے۔ بہتر تو یہ ہے کہ اس اقدام سے اجتناب برتا جائے۔
جان کے بدلے جان لینے کا قانون حمورابی نے قدیم بابل میں جاری کیا تھا جو آج کے دور سے مطابقت نہیں رکھتا۔
دوسرا یہ قدم نہ صرف انتہا پسند گروہوں کو ایک تیار شدہ پروپیگنڈا ویڈیو فراہم کرے گا، بلکہ مقتولین کے خاندانوں کو ان کے بدترین دن کی یادیں دوبارہ تازہ کرنے پر مجبور کرے گا اور غیر متعلقہ لوگوں اور بچوں کو ایک ایسے تشدد کا شاہد بنائے گا جس کی انہوں نے کبھی تمنا نہیں کی تھی۔
اگرچہ شفافیت کی بحالی کا ایک دلیل یہ ہے کہ عوام کو سزائے موت کی حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے، لیکن یہ شفافیت آزاد مبصرین، صحافیوں اور سرکاری دستاویزات کے ذریعے بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ سچائی کو ظاہر کرنا ایک بات ہے، اور موت کا سستا تماشا بنانا بالکل دوسری بات۔
ہم ندال حسن کو اس کا آخری بیانیہ یا ملک کو ایک بھیانک ڈراما دیے بغیر بھی مکمل طور پر جوابدہ ٹھہرا سکتے ہیں۔ اس کی سزا کو بغیر کسی شور و غوغا کے عمر قید میں بدلا جائے، اور انصاف کو خاموشی سے اپنا کام کرنے دیا جائے۔

