ایران سے منسلک عناصر کی مبینہ کارروائیاں:جعلی صحافت اور امریکی بحری افواج کی ہدف بندی میں اے آئی کا استعمال
OpenAI کے مطابقChatGPTکے ذریعے جعلی صحافیوں کے نام سے تقریباً100مضامین شائع کرائے گئے، جبکہAnthropicنےClaudeکے ذریعے امریکی بحری افواج سے متعلق معلومات جمع کرنے اور ہدف بندی کی سفارشات تیار کرنے کی کوششوں کی نشاندہی کی۔

امریکی مصنوعی ذہانت کی دو بڑی کمپنیوں، OpenAI اور Anthropic، کی الگ الگ تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ ایران سے منسلک عناصر نے مصنوعی ذہانت کے پلیٹ فارمز کو مبینہ طور پر جعلی صحافتی شناختوں کے ذریعے مضامین شائع کرانے، آن لائن رائے عامہ پر اثرانداز ہونے اور امریکی بحری افواج سے متعلق فوجی معلومات کا تجزیہ کرنے کے لیے استعمال کیا۔ ان تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب صرف مواد تیار کرنے کا ذریعہ نہیں رہی بلکہ اسے معلومات جمع کرنے، پیغامات پھیلانے اور پہلے سے موجود کارروائیوں کو تیز کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔
OpenAI نے8اکتوبر2026کو ایک ایسی مبینہ اثراندازی مہم کی تفصیلات جاری کیں جسے کمپنی نے “Bogus Bylines” کا نام دیا۔ کمپنی کے مطابق اس کارروائی میں سات جعلی صحافتی شناختیں استعمال کی گئیں اور ان ناموں سے تقریباً100مضامین دنیا بھر کے لگ بھگ ایک درجن آن لائن ذرائع ابلاغ میں شائع یا دوبارہ شائع ہوئے۔
تحقیقات کے اہم نکات
- سات مبینہ جعلی صحافی شناختیں، جنہیں مغربی صحافیوں کے طور پر پیش کیا گیا۔
- تقریباً100مضامین، جو لگ بھگ12آن لائن اشاعتی اداروں میں شائع یا سنڈیکیٹ ہوئے۔
- ChatGPT کے ذریعے مضامین کی تدوین، مدیران کو بھیجی جانے والی تجاویز اور سوشل میڈیا تبصروں کی تیاری۔
- Anthropic کے مطابق ایک الگ کارروائی میںClaudeسے امریکی بحری افواج سے متعلق معلومات جمع کرنے اور ہدف بندی کی سفارشات بنانے میں مدد لی گئی۔
جعلی صحافیوں کے نام، حقیقی اشاعتی پلیٹ فارم
OpenAI کے مطابق اس مہم میں استعمال ہونے والی شناختوں میں ایک نام Ervin B. Hoskins بھی تھا، جس نے خود کو امریکی فری لانس مصنف ظاہر کیا۔ اس نام سے منسوب مضامین میں امریکی خارجہ پالیسی اور ایران کے ساتھ جاری تنازع پر تنقیدی مؤقف اختیار کیا گیا۔ مبینہ جعلی شناخت کے لیےX، Facebook،InstagramاورThreadsپر اکاؤنٹس بھی موجود تھے۔OpenAIنے کہا کہ پلیٹ فارم سے متعلق دستیاب معلومات سے ان اکاؤنٹس کی سرگرمیوں کا تعلق ایران سے ظاہر ہوتا تھا۔
کمپنی کے مطابق ان جعلی شناختوں نے انگریزی زبان میں مضامین تیار کیے یا پیش کیے، جن میں زیادہ تر امریکہ اور ایران کے تنازع، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور امریکی خارجہ پالیسی پر توجہ دی گئی تھی۔ChatGPTکو مسودوں کی تدوین، مختلف اشاعتی اداروں کے تقاضوں کے مطابق تحریر ڈھالنے اور مدیران کو مضامین پیش کرنے کے لیے ای میلز تیار کرنے میں استعمال کیا گیا۔
یہ معاملہ صرف مضمون لکھنے تک محدود نہیں تھا۔ مبینہ آپریٹرز نے سوشل میڈیا پر تبصروں کے گروپ بھی تیار کیے۔ بعض تبصرے ان پوسٹس کے جواب میں تھے جو انہی مضامین کو فروغ دے رہی تھیں، اور ان میں مضامین کی تعریف یا تائید کی جاتی تھی۔OpenAIکے جائزے کے مطابق اس طریقے کا ممکنہ مقصد یہ تاثر پیدا کرنا تھا کہ مواد کو آزاد قارئین کی حمایت حاصل ہے۔
ChatGPT کے ذریعے مکمل اشاعتی عمل کی معاونت
OpenAI کے مطابقChatGPTکو انگریزی اور فارسی زبان میں مسودوں کی تدوین، مختلف اداروں کے لیے مضمون کی پیشکش تیار کرنے اور مدیران سے رابطے کی ای میلز لکھنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر ایسے تبصرے تیار کیے گئے جو بظاہر الگ الگ قارئین کے ردِعمل معلوم ہوتے تھے۔
ان تبصروں اور مضامین میں ایک مشترکہ سیاسی بیانیہ دکھائی دیتا تھا:امریکہ کو تنازع کا جارح فریق پیش کرنا، اسرائیل کو امریکہ کے لیے ناقابلِ اعتماد اتحادی قرار دینا اور ایران کو دباؤ کے باوجود مزاحمت کرنے والے فریق کے طور پر دکھانا۔OpenAIکے مطابق2026میں امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شروع ہونے کے بعد مضامین کی اشاعت میں نمایاں اضافہ ہوا۔
مہم کے تحت فارسی زبان میں ایران انٹرنیشنل کی پوسٹس کے جواب میں بھی دو درجن سے زیادہ گروپوں کی صورت میں مخالفانہ تبصرے تیار کیے گئے۔ تاہمOpenAIنے کہا کہ اس کے سامنے آنے والے تبصروں کو عموماً محدود ردِعمل ملا۔ اس کے برعکس مضامین کو حقیقی اشاعتی پلیٹ فارمز پر جگہ دلانے کی کوشش زیادہ مؤثر رہی۔
مضامین کہاں شائع ہوئے؟
OpenAI کی تحقیقات کے حوالے سے سامنے آنے والی رپورٹنگ میں امریکی ویب سائٹسPeaceVoice، CounterPunch اور LA Progressive پر ایسے مواد کا ذکر کیا گیا جو Ervin B. Hoskins کے نام سے منسوب تھا۔ ان میں سے ایک مضمون کا عنوان تھا: “Jared Kushner and the Privatization of America’s Iran Strategy”، یعنی ’’جیرڈ کشنر اور امریکہ کی ایران پالیسی کی نجکاری‘‘۔
رپورٹس کے مطابق یہ مضمونPeaceVoiceپر شائع ہونے کے بعد اسی نوعیت کے عنوانات کے ساتھCounterPunchاور LA Progressive میں بھی دوبارہ شائع ہوا۔ مضمون میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر کے کاروباری مفادات اور ایران سے متعلق امریکی پالیسی کے درمیان ممکنہ تعلقات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم دستیاب رپورٹنگ کے مطابق مضمون نے ان دعوؤں کے حق میں واضح شواہد پیش نہیں کیے اور کشنر کے مؤقف کو محدود جگہ دی۔
یہ فرق اہم ہے کہ کسی مضمون میں کسی عوامی شخصیت کے مفادات یا پالیسی پر تنقید موجود ہونا بذاتِ خود کسی خفیہ مہم کا ثبوت نہیں۔ یہاں اصل مسئلہ،OpenAIکی تحقیقات کے مطابق، یہ تھا کہ مواد کو ایسے مصنفین کے نام سے پیش کیا گیا جن کی شناختیں جعلی تھیں، جبکہ قارئین اور مدیران کو ان کے حقیقی پس منظر کا علم نہیں تھا۔
اشاعت اور مصنف کی شناخت میں فرق
کسی حقیقی ویب سائٹ پر مضمون شائع ہونے کا مطلب لازماً یہ نہیں کہ اس کے مصنف کی شناخت بھی حقیقی اور تصدیق شدہ ہے۔ جعلی نام سے شائع ہونے والا مواد ایک معتبر پلیٹ فارم کے ذریعے ایسے قارئین تک پہنچ سکتا ہے جو اصل مصنف یا اس کے محرکات سے ناواقف ہوں۔
OpenAI کی درجہ بندی اور تحقیقات کی حدود
OpenAI نے مضامین کی اشاعت پر مبنی سرگرمی کو اپنے چھ درجوں والے Influence Operations Breakout Scale پر کیٹیگری 4 میں رکھا۔ یہ درجہ بندی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مہم اپنے منتظمین کے ذاتی یا اپنے زیرِ انتظام اکاؤنٹس سے آگے بڑھ کر حقیقی اشاعتی اداروں تک مواد پہنچانے میں کامیاب ہوئی۔ کمپنی کے مطابق سوشل میڈیا تبصروں کے حصے کو کیٹیگری2دیا گیا، کیونکہ وہاں ردِعمل محدود تھا۔
تاہمOpenAIنے یہ نہیں کہا کہ اس نے مہم کے پیچھے موجود مخصوص فرد یا ادارے کی شناخت کر لی ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے ایسا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا جس سے یہ ثابت ہو کہ کارروائی ایرانی حکومت کی براہِ راست ہدایت پر چلائی گئی۔ اس کی تشخیص میں اس امکان کی طرف اشارہ کیا گیا کہ یہ کسی تجارتی یا معاوضے کے عوض اثراندازی کی مہم ہو سکتی ہے۔
OpenAI نے متعلقہChatGPTاکاؤنٹس پر پابندیاں عائد کرکے اپنی شناخت میں آنے والی سرگرمیوں کو روکنے کی کارروائی کی۔ تاہم اکاؤنٹس کی بندش بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ پورا نیٹ ورک ختم ہوگیا، تمام متعلقہ مواد مل گیا یا اس سے وابستہ ہر سرگرمی بند ہوگئی۔
Anthropic کی رپورٹ:اثراندازی سے فوجی معلومات کے تجزیے تک
OpenAI کی تحقیقات سے الگ،Anthropicنے ستمبر میں ایران سے منسلک ایک مبینہ خطرے کے حامل فریق کی سرگرمیوں کی تفصیلات بیان کی تھیں۔ کمپنی کے مطابق اس فریق نے اس کےClaudeمصنوعی ذہانت کے نظام کو خطے میں امریکی بحری افواج سے متعلق عوامی طور پر دستیاب معلومات جمع کرنے، ان کا تجزیہ کرنے اور ہدف بندی سے متعلق سفارشات تیار کرنے کے لیے استعمال کیا۔
Anthropic کے مطابقClaudeکی مدد سےPythonپر مبنی ایسا نظام تیار کرنے کی کوشش کی گئی جو بحری جہازوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات کو منظم کرے اور ہدف بندی کے لیے رہنما دستاویزات تیار کرے۔ مبینہ طور پر جمع کیے گئے مواد میں عوامی فوجی تصاویر کے عنوانات سے شناخت کیے گئے امریکی اہلکاروں کے نام، جہازوں اور طیاروں کے ٹرانسپونڈر شناختی کوڈ، تجارتی سیٹلائٹ تصاویر سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے اسکرپٹس اور ایسی عوامی ویب سائٹس کی فہرستیں شامل تھیں جہاں امریکی بحری سرگرمیوں سے متعلق معلومات دستیاب تھیں۔
کمپنی نے یہ بھی بتایا کہ اس فریق نے بحری جہازوں کے مواصلاتی نظاموں، سمندری سیٹلائٹ کمیونیکیشن ٹرمینلز،Ciscoکے مواصلاتی آلات اور صنعتی کنٹرول مصنوعات میں ممکنہ کمزوریوں کے بارے میں تحقیق کرنے کے لیےClaudeسے مدد لی۔ یہ تفصیلاتAnthropicکی اپنی تحقیقات میں سامنے آئیں؛ انہیں اس مضمون میں آزادانہ طور پر تصدیق شدہ عملی حملے یا کامیاب ہدف بندی کے ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جا رہا۔
دونوں تحقیقات میں بنیادی فرق
OpenAI: جعلی صحافی شناختوں، مضامین کی اشاعت، مدیران کو ای میلز اور سوشل میڈیا پر مصنوعی حمایت پیدا کرنے کی کوششوں پر توجہ۔
Anthropic: عوامی معلومات کے تجزیے، بحری نقل و حرکت سے متعلق ڈیٹا جمع کرنے، ہدف بندی کی دستاویزات اور فوجی یا صنعتی نظاموں کی ممکنہ کمزوریوں پر تحقیق کی سرگرمیوں پر توجہ۔
جعلی شناختیں اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ بیانیے
رپورٹس کے مطابق Ervin B. Hoskins کے علاوہ چھ مزید جعلی صحافتی شناختیں بھی استعمال کی گئیں۔ ان کے لیے سوشل میڈیا پروفائلز بنائے گئے، مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر استعمال ہوئیں اور ان شناختوں کے ذریعے شائع شدہ مواد کو ایک دوسرے کے ذریعے فروغ دینے کی کوشش کی گئی۔
یہ طریقہ اس لیے قابلِ توجہ ہے کہ اثراندازی کی کارروائی میں صرف ایک مضمون یا ایک اکاؤنٹ پر انحصار نہیں کیا جاتا۔ مختلف ناموں، متعدد پلیٹ فارمز اور بظاہر الگ الگ قارئین کے تبصروں کے ذریعے کسی بیانیے کو وسیع حمایت حاصل ہونے کا تاثر دیا جا سکتا ہے۔ تاہم کسی اکاؤنٹ یا مضمون کو جعلی قرار دینے کے لیے محض اس کے سیاسی مؤقف یا زبان کے انداز کے بجائے شناخت، سرگرمیوں اور متعلقہ شواہد کی جانچ ضروری ہے۔
Anthropic نے اپنی الگ رپورٹ میں ایران سے منسلک سرگرمیوں کے علاوہ مصنوعی ذہانت کے ایسے استعمال کا بھی ذکر کیا جس میں نگرانی، اختلافی آوازوں کے بارے میں معلومات جمع کرنے اور مختلف گروہوں کو ہدف بنانے کی سرگرمیاں شامل تھیں۔ ان دعوؤں کی تفصیلات اور ان کی حدود متعلقہ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق سمجھی جانی چاہییں۔
میڈیا اداروں اور اے آئی کمپنیوں کے لیے چیلنج
یہ واقعات صحافتی اداروں کے لیے ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں:جب مصنوعی ذہانت کی مدد سے رواں، بظاہر پیشہ ورانہ اور ادارتی تقاضوں کے مطابق تحریر تیار کی جا سکتی ہے تو مدیران کسی نئے مصنف کی شناخت اور اس کے دعوؤں کی تصدیق کیسے کریں؟
اشاعتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاون مصنفین اور بیرونی لکھاریوں کی شناخت کی جانچ، ان کی سابقہ اشاعتوں کے ریکارڈ، رابطے کی معلومات اور مضامین کی پیشکش کے طریقۂ کار کو مضبوط بنائیں۔ اگر ایک ہی مصنف کے نام سے مختصر عرصے میں متعدد اداروں میں غیر معمولی تعداد میں مضامین سامنے آئیں تو اس سرگرمی کی مزید جانچ بھی مفید ہو سکتی ہے۔ محض زبان کی روانی یا تحریری اسلوب کو مصنف کی حقیقی شناخت کا قابلِ اعتماد ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔
مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے بھی مربوط اکاؤنٹس کی سرگرمیوں کی نگرانی، غلط استعمال کی نشاندہی اور مناسب صورتوں میں محققین یا متعلقہ حکام کے ساتھ معلومات کے تبادلے کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ غلط معلومات کے خلاف کارروائی کے نام پر جائز تنقید، آزاد صحافت اور صارفین کی رازداری متاثر نہ ہو۔
انسانی حقوق اور انٹرنیٹ آزادی کے محققین نے بھی اس خطرے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ مصنوعی ذہانت متعدد زبانوں میں پروپیگنڈا تیار کرنا، جعلی شناختیں بنانا اور ناقدین کو بدنام کرنا آسان بنا سکتی ہے۔ دوسری جانب بعض حکومتیں غلط معلومات کے خلاف اقدامات کو سنسرشپ یا نگرانی بڑھانے کے جواز کے طور پر بھی استعمال کر سکتی ہیں۔ اس لیے شفافیت، آزادانہ جانچ اور بنیادی حقوق کا تحفظ اہم رہتا ہے۔
مصنوعی ذہانت نے کیا بدلا؟
دونوں کمپنیوں کی تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ مصنوعی ذہانت نے اثراندازی اور معلومات جمع کرنے کی تمام سرگرمیاں ازسرِنو ایجاد نہیں کیں، بلکہ کئی پرانے طریقوں کو تیز اور نسبتاً آسان بنا دیا ہے۔ مضمون لکھنے اور اسے مختلف اداروں کے مطابق ڈھالنے، مدیران کو پیغامات بھیجنے، سوشل میڈیا پر ردِعمل تیار کرنے، کھلے ذرائع سے معلومات یکجا کرنے اور ڈیٹا کے تجزیے میں اے آئی مدد فراہم کر سکتی ہے۔
اس کے باوجود ان تحقیقات کی بنیاد پر یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ہر تنقیدی مضمون، ہر نامعلوم مصنف یا ہر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تحریر کسی خفیہ مہم کا حصہ ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آیا مصنف کی شناخت درست ہے، کیا مواد کو مربوط اور پوشیدہ طریقے سے فروغ دیا جا رہا ہے، اور کیا دستیاب شواہد کسی منظم کارروائی کی تائید کرتے ہیں۔
صحافت میں اعتماد صرف کسی ویب سائٹ کے معروف نام سے پیدا نہیں ہوتا۔ مصنف کی شناخت، ادارتی احتساب، شواہد کی جانچ اور معلومات کے ماخذ کی شفافیت بھی اسی قدر اہم ہیں۔ مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال کے دور میں یہ اصول قارئین، صحافیوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور قومی سلامتی کے اداروں سب کے لیے زیادہ اہم ہوتے جا رہے ہیں۔
