بین الاقوامی امور|اسرائیل اور لاطینی امریکا
یروشلم میں کولمبیا کے سفارت خانے کا افتتاح، نیتن یاہو کا ’’طاقت اور ایمان‘‘ کا پیغام
اسرائیلی وزیرِاعظم نے سفارت خانے کے قیام کو مشترکہ اقدار اور دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی علامت قرار دیا، دونوں ممالک نے سلامتی، زراعت اور ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے کا عندیہ دیا۔
یروشلم — اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے کولمبیا کے سفارت خانے کے باضابطہ افتتاح کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اسرائیل اور لاطینی امریکا کے درمیان تاریخی روابط کی بحالی اور دوطرفہ تعاون کے نئے مرحلے کی علامت قرار دیا۔
14 اکتوبر2026کو یروشلم میں کولمبیا کے سفارت خانے کا افتتاح کیا گیا۔ تقریب میں اسرائیلی اور کولمبین حکام نے شرکت کی۔ یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد سامنے آئی ہے اور کولمبیا کی خارجہ پالیسی میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے۔
نیتن یاہو:اسرائیل سے بہتر دوست کوئی نہیں
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کولمبین وفد سے کہا کہ اسرائیل سے بہتر دوست انہیں نہیں مل سکتا۔ ان کے مطابق سفارت خانے کا افتتاح محض ایک سفارتی سنگِ میل نہیں بلکہ اسرائیل اور لاطینی امریکا کے درمیان تاریخی تعلقات کی بحالی کی علامت ہے۔
نیتن یاہو نے یہ تعلقات یہودی اور مسیحی ورثے سے جڑے مشترکہ اقدار اور عملی تعاون کے تناظر میں پیش کیے۔ انہوں نے یروشلم کو یہودی عوام کی تین ہزار سالہ تاریخ اور وابستگی کا مرکز قرار دیا اور سفارت خانے کے قیام کو اس تاریخی تعلق کے اعتراف کے طور پر بیان کیا۔
’’طاقت اور ایمان۔‘‘
نیتن یاہو نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ حالات ایک بار پھر اسرائیل کے حق میں بدل رہے ہیں۔ ان کا جملہ ’’سب کچھ واپس آ رہا ہے‘‘ اس امید کی عکاسی کرتا تھا کہ لاطینی امریکا کے مزید ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے سفارتی اور عملی روابط بحال یا مضبوط کریں گے۔
سفارتی تعلقات کی بحالی کے بعد نئی پیش رفت
کولمبیا کے سابق صدر گستاوو پیٹرو نے2024میں غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں پر اعتراض کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کر دیے تھے۔ اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کیا تھا۔ بعد ازاں نئے صدر ابیلاردو دے لا ایسپریلا کی حکومت نے تعلقات بحال کرنے اور دوطرفہ تعاون کو دوبارہ فعال بنانے کو ترجیح دی۔
کولمبیا کی وزارتِ خارجہ نے سفارت خانے کے افتتاح کو سفارتی تعلقات کی بحالی کا اہم سنگِ میل قرار دیا۔ کولمبیا کے وزیرِ خارجہ عمر بولا ایسکوبار کے مطابق، نیا سفارت خانہ باہمی اعتماد مضبوط کرنے، مکالمے کو بحال رکھنے اور دونوں ملکوں کے شہریوں کے لیے ٹھوس فوائد پیدا کرنے کا ذریعہ بنے گا۔
سلامتی، زراعت، پانی اور مصنوعی ذہانت میں تعاون
دونوں ممالک کے حکام نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی موجودگی کو محض علامتی اقدام تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔ توقع ہے کہ سفارت خانے کے ذریعے تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ متعدد عملی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا جائے گا۔ ان میں سلامتی، دفاعی تعاون، انٹیلی جنس، سائبر سکیورٹی اور معلومات کا تبادلہ شامل ہیں۔
زراعت میں جدید طریقوں اور مختلف موسمی حالات کے مطابق ٹیکنالوجی کے استعمال، پانی کے انتظام، سائنسی تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں بھی مشترکہ مواقع تلاش کیے جانے کی توقع ہے۔ اسرائیل کی ٹیکنالوجی اور پانی کے انتظام سے متعلق مہارت، جبکہ کولمبیا کے زرعی اور علاقائی تجربات، اس شراکت داری کے ممکنہ اہم پہلو ہیں۔
علاقائی اور سفارتی تناظر
کولمبیا کا سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنا اسرائیل کے مؤقف کی حمایت کا ایک اہم سفارتی اشارہ ہے۔ اس سے یہ امہد پیدا ہوئی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید ممالک اپنا سفارت خانہ یروشلم منتقل کریں گے.
علامتی اقدام سے عملی شراکت داری تک
سفارت خانے کے افتتاح کے ساتھ دونوں حکومتوں نے تجارت، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور سلامتی کے شعبوں میں روابط بڑھانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی حکومت اسے لاطینی امریکا کے ساتھ تعلقات مضبوط کرنے کے وسیع تر عمل کا حصہ سمجھتی ہے، جبکہ کولمبیا کی حکومت نے اس اقدام کو مکالمے کی بحالی اور قومی مفادات کے لیے عملی تعاون کے موقع کے طور پر پیش کیا ہے۔
نیتن یاہو کے لیے یہ افتتاح اسرائیل اور لاطینی امریکا کے تعلقات میں نئی پیش رفت کی علامت ہے۔ تاہم اس سفارتی تبدیلی کے طویل مدتی اثرات کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا دونوں ممالک سیاسی اعلان کو تجارت، ٹیکنالوجی اور سلامتی کے شعبوں میں قابلِ پیمائش نتائج میں تبدیل کر پاتے ہیں یا نہیں۔
