ایک ہی جین کی دریافت جو بوڑھے خلیات کو دوبارہ جوان کرتا ہے
SRSF1 جین پر تحقیق نے خلیاتی بڑھاپے، ڈی این اے کی مرمت اور عمر رسیدہ چوہوں کی صحت کے بارے میں نئے سوالات اور امکانات سامنے رکھے ہیں۔
ہارورڈ کے وائس انسٹیٹیوٹ (Wyss Institute) کے محققین نے ایک ایسے جین کی شناخت کی ہے جو بوڑھے خلیات کو ان کی شناخت ختم کیے بغیر دوبارہ جوان اور متحرک بناتا ہے۔ عمر رسیدہ چوہوں میں اس جین کو منتقل کرنے سے ان کی اوسط عمر میں14فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ یہ تحقیق، جو Nature Aging میں شائع ہوئی ہے، یاماناکا ری پروگرامنگ فیکٹرز (Yamanaka reprogramming factors) کے ایک ممکنہ اور محفوظ متبادل کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
تحقیق کے اہم نکات
تحقیق میں شناخت کیا گیا جین
چوہوں کی اوسط عمر میں رپورٹ کردہ اضافہ
جین منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والا ویکٹر
یہ نتائج فراہم کردہ تحقیقی خلاصے کے مطابق ہیں؛ ان سے انسانوں میں عمر بڑھنے یا علاج کی کامیابی کا نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔
یہ فیکٹرز خلیات کی عمر کو پیچھے تو لے جا سکتے ہیں، لیکن ان کے ساتھ کینسر کا خطرہ اور خلیے کی بنیادی شناخت برقرار رکھنے اور اسے دوبارہ جوان کرنے کے درمیان ایک تنازع برقرار رہتا ہے۔ جارج چرچ کی قیادت میں، اس تحقیق کے پہلے شریک مصنف ایلکس پلیسا اور اسپین کے CIC bioGUNE کے دیگر محققین کی ٹیم نے ایک مشین لرننگ”ٹرانسکرپٹومک ایج” (transcriptomic age) پریڈیکٹر تیار کیا، جسے انسانی جلد کے فائبروبلاسٹس(fibroblasts)میں جینز کے اخراج کی بنیاد پر تربیت دی گئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے عمر رسیدہ ہونے سے متعلق مخصوص جینز کی لائبریری کی اسکریننگ کے لیے اس ٹول کا استعمال کیا۔
تحقیق میںSRSF1جین کی شناخت کیسے ہوئی؟
اس تجربے میں سب سے بہترین کارکردگیSRSF1نامی ایک جین کی رہی، جو آر این اے پروسیسنگ(RNA-processing)کا اہم فیکٹر ہے۔ بوڑھے فائبروبلاسٹ خلیات میں اس نے درج ذیل مسائل کو کم کیا:
Cellular senescence: خلیات کی تقسیم اور معمول کے افعال میں عمر سے متعلق تبدیلیاں۔
Proteostatic stress: خلیے میں پروٹین کی تیاری، ساخت اور دیکھ بھال کے نظام پر دباؤ۔
Inflammaging: بڑھتی عمر کے ساتھ وابستہ مسلسل اور کم درجے کی سوزش۔
تحقیق میں خلیات کے ڈی این اے کی مرمت کے نظام میں بحالی کی علامات دیکھی گئیں۔
اس نے ڈی این اے کی مرمت کا نظام بھی بحال کیا۔ خلیات نے اپنی فائبروبلاسٹ کی ساخت اور افعال کو برقرار رکھا اور پلوری پوٹینسی(pluripotency)کے پروگراموں کو فعال نہیں کیا۔
چوہوں میں جین تھراپی کے نتائج
چوہوں میںAAVجین تھراپی کے ذریعے منتقل کیا گیاSRSF1بنیادی طور پر جگر تک پہنچا۔ علاج شدہ چوہوں کے جگر میں بہتری اور جوانی کی علامات دیکھی گئیں، ان میں کمزوری اور ناہلی کی رفتار سست ہو گئی اور وہ عام چوہوں کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔ محققین کا کہنا ہے کہSRSF1ان تمام بنیادی نظاموں کے ذریعے کام کرتا ہے جو خلیات پہلے سے استعمال کر رہے ہیں، تاہم یہ جین اتنے وسیع اثرات کیسے مرتب کرتا ہے، یہ بات ابھی تک مکمل طور پر واضح نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز کیا کہ جگر کا علاج دیگر خلیات اور اعضاء کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
ممکنہ حیاتیاتی اثرات
علاج شدہ چوہوں کے جگر میں بہتری اور جوانی سے وابستہ علامات رپورٹ ہوئیں۔
عمر رسیدہ چوہوں میں کمزوری اور جسمانی ناہلی کی رفتار سست ہونے کی اطلاع دی گئی۔
تحقیقی خلاصے کے مطابق، علاج شدہ چوہے تقابلی گروہ کے مقابلے میں زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔
محققین نے تجویز کیا کہ جگر میں مداخلت دوسرے خلیات اور اعضاء کو بھی متاثر کر سکتی ہے؛ اس امکان کی مزید تحقیق ضروری ہے۔
یاماناکا فیکٹرز سے یہ طریقہ کس طرح مختلف ہے؟
یاماناکا ری پروگرامنگ فیکٹرز کا مقصد خلیات کو ان کی نسبتاً جوان حالت کی طرف واپس لے جانا ہے۔ تاہم، مکمل یا نامناسب ری پروگرامنگ سے خلیے کی شناخت متاثر ہونے اور دیگر سنگین پیچیدگیوں کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس، فراہم کردہ تحقیق کے مطابقSRSF1نے خلیات کی مخصوص شناخت برقرار رکھتے ہوئے عمر رسیدگی سے وابستہ بعض نظاموں میں بہتری دکھائی۔ یہ فرق مستقبل کی تحقیق کے لیے اہم ہے، لیکن اسے اس بات کا ثبوت نہیں سمجھنا چاہیے کہSRSF1انسانوں میں محفوظ یا مؤثر ثابت ہو چکا ہے۔
اہم احتیاط:ابھی انسانی علاج نہیں
یہ نتائج فی الحال خلیاتی لائنز اور چوہوں پر کیے گئے تجربات سے حاصل ہوئے ہیں۔ انسانوں کے لیے کسی بھی علاج کو ممکن بنانے سے پہلے اس کی خوراک(dosing)اور جسم میں ترسیل(delivery)کے مسائل کو حل کرنا باقی ہے۔ اس کے علاوہ، طویل مدتی حفاظت، ممکنہ مضر اثرات، مختلف اعضاء پر اثرات اور کینسر کے خطرے کا باقاعدہ جائزہ ضروری ہوگا۔
اس تحقیق سے عمر رسیدگی کے حیاتیاتی طریقۂ کار کو سمجھنے اور مستقبل میں ممکنہ علاج کی تیاری کے لیے ایک نیا راستہ سامنے آتا ہے۔ تاہم خلیات میں بہتری، چوہوں کی عمر میں اضافہ اور انسانوں میں محفوظ علاج کی کامیابی تین الگ مراحل ہیں۔ اس لیے ان نتائج کو امید افزا ابتدائی تحقیق کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ بڑھاپے کو ختم کرنے یا انسانی عمر بڑھانے کے ثابت شدہ طریقے کے طور پر۔
