غزہ میں حماس کے ہتھیار جمع کرنے کے مراکز قائم کرنے کا امریکی منصوبہ، اسرائیل کو شکوک
ٹرمپ انتظامیہ غزہ میں ہتھیار حوالے کرنے کے مقامات کی نشاندہی کے لیے پیش رفت کر رہی ہے، تاہم اسرائیلی سکیورٹی حکام کو خدشہ ہے کہ حماس مسلح جدوجہد ترک کرنے کے لیے تیار نہیں۔
- امریکی ٹیم رفح اور خان یونس میں ہتھیار جمع کرنے کے ممکنہ مقامات کا جائزہ لے سکتی ہے۔
- اسرائیلی حکام کے مطابق، حماس اپنی عسکری صلاحیتیں دوبارہ بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
- ہتھیار فلسطینی انتظامیہ کے ماتحت رکھنے اور انہیں مکمل طور پر ختم کرنے کے درمیان اختلاف برقرار ہے۔
- غزہ کی تعمیرِ نو اور اسرائیلی فوج کے انخلا کو غیر عسکریت سازی سے جوڑنے کا امریکی منصوبہ کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ غزہ میں ہتھیار جمع کرانے کے مراکز قائم کرنے کے منصوبے پر آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اسرائیلی سکیورٹی حکام کے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ حماس کا یہودی ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد ترک کرنے کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں۔
آل اسرائیل نیوز، دی یروشلم پوسٹ اور اسرائیل نیشنل نیوز کی رپورٹس کے مطابق، اسرائیل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس کی جانب سے کام کرنے والی ایک امریکی ٹیم کو غزہ میں داخل ہو کر ایسے مقامات کی نشاندہی کرنے کی اجازت دے دی ہے جہاں حماس کے جنگجو اپنے ہتھیار حوالے کر سکیں۔
ابتدائی جائزے میں جنوبی غزہ کے رفح اور خان یونس کے علاقوں پر توجہ دیے جانے کی توقع ہے، جہاں اسرائیلی افواج کا کنٹرول برقرار ہے۔ یہ اقدام ٹرمپ کے وسیع تر امن منصوبے کا حصہ ہے، جس میں غزہ کو غیر عسکری بنانے اور بالآخر انتظامی اختیار فلسطینی شہری حکومت کے حوالے کرنے کا تصور شامل ہے۔
تاہم اسرائیلی دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن کی توقعات اور زمینی حقائق کے درمیان فاصلہ بڑھتا جا رہا ہے۔
اسرائیلی حکام کو حماس کے ارادوں پر شک
اسرائیلی خبر رساں ادارے والا(Walla)کے مطابق، ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے کہا کہ حماس اب ہتھیار ڈالنے پر آمادگی کا تاثر دینے کی کوشش بھی نہیں کر رہی، بلکہ دوبارہ لڑائی کی تیاری کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی انٹیلی جنس کے جائزوں میں کہا گیا ہے کہ حماس اپنی عسکری صلاحیتیں بحال کرنے، جنگجوؤں کو تربیت دینے اور یلو لائن کے ساتھ اسرائیلی فوجیوں کے ساتھ جھڑپیں بھڑکانے کی کوشش کر رہی ہے۔
ان خدشات کے باعث ہتھیار جمع کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔ اگر حماس اپنی عسکری تنظیم اور جنگی ڈھانچہ برقرار رکھتی ہے تو محض ہتھیار حوالے کرنے کے چند مقامات قائم کرنا غزہ کو مکمل طور پر غیر عسکری بنانے کے مقصد کے لیے کافی نہیں ہوگا۔
حماس کا نظریہ بنیادی رکاوٹ
ہتھیار جمع کرنے کے انتظامی اور عملی مسائل سے بڑھ کر ایک بنیادی سوال حماس کے نظریے سے متعلق ہے۔ تنظیم کا1988کا منشور اسرائیل کی تباہی کا مطالبہ کرتا تھا، جبکہ2017کی نظرثانی شدہ سیاسی دستاویز میں بھی اسرائیل کی قانونی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
تاہم2017کی دستاویز میں1967کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کے قیام کو فلسطینی قومی اتفاقِ رائے کے ایک ممکنہ فارمولے کے طور پر قبول کرنے کی گنجائش بیان کی گئی تھی۔ اس مؤقف کو اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف نہیں سمجھا جاتا۔
حماس مسلسل مسلح مزاحمت کو اپنی شناخت اور سیاسی جواز کا مرکزی حصہ قرار دیتی رہی ہے۔ اس نظریاتی وابستگی کے باعث یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ آیا تنظیم رضاکارانہ طور پر ان عسکری صلاحیتوں سے دستبردار ہوگی جنہوں نے تقریباً دو دہائیوں سے غزہ میں اس کی طاقت برقرار رکھنے میں کردار ادا کیا ہے۔
یہی اختلاف کسی بھی غیر عسکریت سازی کے منصوبے کے لیے ایک بنیادی چیلنج ہے:کیا ہتھیار صرف فلسطینی انتظامیہ کی نگرانی میں رکھے جائیں گے، یا حماس کی عسکری صلاحیتوں کو مستقل طور پر ختم کیا جائے گا؟
ہتھیار فلسطینی انتظامیہ کے پاس ہوں یا مکمل طور پر ختم کیے جائیں؟
اس کے باوجود حماس نے اس امکان کا اشارہ دیا ہے کہ ہتھیار فلسطینی انتظامی نگرانی میں رکھے جا سکتے ہیں۔ جولائی میں بورڈ آف پیس کی حمایت سے سامنے آنے والی ایک تجویز میں یہ تصور پیش کیا گیا تھا کہ ہتھیار مستقل طور پر تباہ کرنے کے بجائے ایک تکنیکی ماہرین پر مشتمل فلسطینی حکومت کی نگرانی میں محفوظ کیے جائیں۔
اسرائیل نے اس انتظام کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ اسرائیلی مؤقف کے مطابق، حقیقی غیر عسکریت سازی کے لیے حماس کے عسکری ڈھانچے کا خاتمہ اور غزہ سے اس کے ہتھیاروں کا اخراج ضروری ہے۔
دونوں فریقوں کے درمیان بنیادی اختلاف اسی بات پر ہے کہ ہتھیاروں کی نگرانی کو کافی سمجھا جائے یا انہیں حماس کی عسکری طاقت ختم کرنے کے لیے مستقل طور پر ہٹا دیا جائے۔ پہلے طریقے میں ہتھیار کسی فلسطینی انتظامی ڈھانچے کے ماتحت رہ سکتے ہیں، جبکہ اسرائیل دوسرے طریقے کو مستقبل کے حملوں کی روک تھام کے لیے ضروری سمجھتا ہے۔
رائٹرز نے6اکتوبر کو رپورٹ کیا تھا کہ پہلے پیش رفت کے اعلانات کے باوجود غیر عسکریت سازی کا عمل تعطل کا شکار ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منصوبے کے اعلان اور عملی طور پر اس پر اتفاق اور عمل درآمد کے درمیان اب بھی نمایاں فرق موجود ہے۔
یہ اختلاف اس لیے بھی اہم ہے کہ حماس اپنے ہتھیاروں کو مزاحمت کا ذریعہ قرار دیتی ہے، جبکہ اسرائیل ان کے خاتمے کو7اکتوبر جیسے حملے کی دوبارہ روک تھام کے لیے بنیادی شرط سمجھتا ہے۔
کیا حماس کو غیر مسلح کیے بغیر غزہ کی تعمیرِ نو ممکن ہے؟
ٹرمپ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ غزہ کو غیر عسکری بنانے کے عمل کو تعمیرِ نو، اقتصادی ترقی اور اسرائیلی فوج کے بتدریج انخلا کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ اس منصوبے کے تحت غزہ میں شہری زندگی کی بحالی اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے سیاسی اور معاشی اقدامات کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی امید کی جا رہی ہے۔
تاہم اسرائیلی حکام کا استدلال ہے کہ اگر حماس کو دوبارہ ہتھیار حاصل کرنے اور اپنی عسکری صلاحیتیں بحال کرنے کا موقع ملا تو غزہ کی تعمیرِ نو اسی بنیادی ڈھانچے کو دوبارہ قائم کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے جس نے ماضی کے حملوں کو ممکن بنایا۔
اس نقطۂ نظر کے مطابق، تعمیرِ نو کی کامیابی صرف عمارتوں، سڑکوں، بنیادی سہولتوں اور معاشی سرگرمیوں کی بحالی پر منحصر نہیں، بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ غزہ میں مستقبل کی سکیورٹی اور حکمرانی کا نظام کس طرح تشکیل دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب، کسی بھی امن منصوبے کو عملی شکل دینے کے لیے فلسطینی شہری انتظامیہ، ہتھیاروں کے انتظام، اسرائیلی فوج کی موجودگی اور تعمیرِ نو کے مراحل پر واضح اتفاق درکار ہوگا۔ فراہم کردہ رپورٹ میں ان تمام معاملات کے حتمی حل کی تصدیق نہیں کی گئی۔
اصل سوال:کیا حماس مسلح جدوجہد ترک کرنے پر آمادہ ہے؟
اب مرکزی سوال صرف یہ نہیں کہ حماس اپنے ہتھیار کہاں حوالے کرے گی، بلکہ یہ ہے کہ آیا اس کی قیادت واقعی اس مسلح جدوجہد کو چھوڑنے کے لیے تیار ہے جو اس کے نظریے اور سیاسی شناخت کا بنیادی حصہ رہی ہے۔
واشنگٹن سفارتی حل کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، لیکن اسرائیلی سکیورٹی حکام اس عمل کے بارے میں گہرے شکوک رکھتے ہیں۔ ان کے خدشات کے مطابق، اگر حماس اپنے جنگی ڈھانچے اور ہتھیاروں تک رسائی برقرار رکھتی ہے تو کسی بھی عارضی انتظام کے دیرپا امن میں تبدیل ہونے کے امکانات محدود رہیں گے۔
ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کی کامیابی شاید صرف ہتھیار جمع کرنے کے مراکز قائم کرنے پر منحصر نہ ہو۔ اصل چیلنج ایک ایسی اسلامی عسکری تنظیم کو مستقل طور پر ہتھیار چھوڑنے پر آمادہ کرنا ہے جس کے نظریے اور ماضی کے بیانات میں اسرائیل کے خاتمے کا تصور مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔
آیا حماس اپنی پالیسی اور عسکری حکمتِ عملی میں ایسی بنیادی تبدیلی کے لیے تیار ہے یا نہیں، یہ ابھی واضح نہیں۔ جب تک ہتھیاروں، سکیورٹی انتظامات، فلسطینی حکمرانی اور اسرائیلی فوج کے مستقبل کے کردار پر قابلِ عمل اتفاق نہیں ہوتا، غزہ میں پائیدار امن اور تعمیرِ نو کا راستہ پیچیدہ ہی رہے گا۔
