نیو جرسی میں پاکستانی میلہ، خزاں کے رنگوں میں وطن کی خوشبو
امریکہ کے دیہی ماحول میں پاکستانی کھانوں، موسیقی، خریداری اور خاندانی تفریح کی رنگا رنگ محفل
|
نیویارک اردو
امریکہ کے شہر نیو جرسی میں خزاں کی ٹھنڈی ہواؤں کے باوجود خوشیوں کی گرمی چھائی رہی، جب سینکڑوں پاکستانی اور دیگر مہمان بھُٹہ فیملی فارم پر منعقد ہونے والے ایک خوبصورت پاکستانی میلے میں شریک ہوئے۔ روایتی کھانوں، موسیقی، خریداری اور بچوں کی دلچسپ سرگرمیوں سے سجے اس میلے نے امریکی دیہی ماحول میں پاکستان کے کسی روایتی میلے کی یاد تازہ کردی۔ کچھ مہمان تو واشنگٹن ڈی سی سے بھی طویل سفر طے کرکے یہاں پہنچے۔

نارنجی، سرخ اور سنہری پتوں سے سجے درختوں کے درمیان خاندان کھانے پینے کے اسٹالوں اور خریداری کے مختلف گوشوں میں گھومتے پھرتے رہے، جبکہ پنجابی موسیقی نے پورے ماحول کو زندہ دل بنا رکھا تھا۔ ایک طرف امریکی خزاں کا دلکش منظر تھا تو دوسری طرف پاکستانی کھانوں کی خوشبو، مانوس دھنیں اور رنگ برنگی دکانیں۔ یہی امتزاج اس تقریب کو ایک منفرد اور یادگار محفل بنا رہا تھا۔
میلے کا اہتمام ابرار بھُٹہ نے کیا، جو مسلم کمیونٹی کے افراد کو حلال گوشت فراہم کرتے ہیں۔ اس تقریب کا مقصد صرف تفریح نہیں تھا بلکہ خاندانوں کو اکٹھے وقت گزارنے اور ایک دوسرے سے جڑنے کا موقع دینا بھی تھا۔ بہت سے شرکا کے لیے کھانوں سے بھرے اسٹال، دوستوں سے ملاقاتیں اور خوش گپیوں کا ماحول عید کی رونقوں جیسا محسوس ہوا، اگرچہ اس موقع پر عید نہیں منائی جا رہی تھی۔

پاکستانی ذائقے، جنہوں نے دل جیت لیے
میلے کی سب سے بڑی کشش یقیناً کھانے تھے۔ مہمانوں نے حلوہ پوری، چنے، حیدرآبادی بریانی اور تازہ تیار کیے گئے باربی کیو سے لطف اٹھایا۔ میٹھے پکوانوں، فالودے اور آئس کریم نے بھی خوب توجہ حاصل کی۔ یوں ہر عمر کے افراد کو اپنی پسند کا ذائقہ چکھنے اور کھلے آسمان تلے اپنوں کے ساتھ کھانے پینے کا موقع ملا۔
کسی کے لیے حلوہ پوری ناشتے کی خوشگوار یاد تھی، کسی کے لیے بریانی دعوت کا مزہ، اور کسی کے لیے فالودے کی ٹھنڈک۔ کھانوں کی یہ رنگا رنگ دنیا صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں تھی بلکہ پاکستان سے جڑی یادوں اور خاندانی روایتوں کو تازہ کرنے کا بہانہ بھی بن گئی۔

خریداری، دستکاری اور ثقافت کے رنگ
کھانے پینے کے ساتھ ساتھ کپڑوں، زیورات، دستکاری کی اشیا اور فن پاروں کے اسٹالوں نے بھی میلے کی رونق بڑھائی۔ لوگ ایک اسٹال سے دوسرے اسٹال تک گھومتے، چیزیں دیکھتے اور اپنی پسند کی اشیا تلاش کرتے رہے۔ یہ بازار اس بات کی خوبصورت جھلک تھا کہ پاکستانی ثقافت اور اس سے وابستہ ہنر امریکہ میں آباد کمیونٹی کی زندگی کا آج بھی اہم حصہ ہیں۔
بچوں کے لیے بھی تفریح کی کوئی کمی نہیں تھی۔ کھیلنے کی جگہوں اور اچھل کود کے لیے بنائے گئے خصوصی جھولوں اور ہاؤسز نے انہیں خوب مصروف رکھا۔ فارم پر موجود گائیں، بھیڑیں، بکریاں اور ایک ٹٹو بچوں کے لیے خاص دلچسپی کا باعث بنے۔ یوں یہ میلہ محض ثقافتی تقریب ہی نہیں رہا بلکہ بچوں کے لیے فارم کی زندگی کو قریب سے دیکھنے کا ایک خوشگوار تجربہ بھی بن گیا۔

وطن سے دور، اپنوں کے قریب
بڑی تعداد میں آنے والے مہمانوں کے لیے پارکنگ، سکیورٹی اور بیٹھنے کی جگہوں کا انتظام بھی کیا گیا تھا، تاکہ خاندان اطمینان سے کھانے سے لطف اندوز ہوسکیں، آرام کرسکیں اور ٹھنڈی ہوا سے بچنے کے لیے کچھ دیر بیٹھ سکیں۔ لوگوں کی بھرپور شرکت نے ظاہر کیا کہ ایسی تقریبات کی کمیونٹی میں کتنی اہمیت ہے، جہاں تفریح کے ساتھ اپنی ثقافت سے تعلق بھی مضبوط ہوتا ہے۔
اس میلے کی اہمیت کھانوں اور موسیقی سے کہیں آگے تھی۔ پرانے دوستوں کو دوبارہ ملنے کا موقع ملا، خاندانوں نے ایک ساتھ وقت گزارا اور نئی نسل کو ان روایات سے قریب ہونے کا موقع ملا جو ورنہ اکثر گھریلو تقریبات اور خاندانی ملاقاتوں تک محدود رہتی ہیں۔ اردو اور پنجابی میں ہونے والی گفتگو، مشترکہ کھانے اور موسیقی نے مختلف نسلوں کے درمیان تعلق کو مزید خوبصورت بنا دیا۔
خوشیوں کا میلہ، رشتوں کی خوشبو
خزاں کی خنکی میں جب بچے کھیل رہے تھے، خاندان میزوں کے گرد بیٹھے کھانے بانٹ رہے تھے اور دوست ایک دوسرے سے حال احوال پوچھ رہے تھے، تو یہ منظر ایک سادہ مگر خوبصورت حقیقت بیان کر رہا تھا:گھر سے دور بھی اپنی ثقافت، محبت اور مہمان نوازی کے ذریعے گھر جیسا ماحول بنایا جاسکتا ہے۔
نیو جرسی کے بھُٹہ فیملی فارم پر ہونے والی یہ تقریب اس بات کی خوشگوار مثال بن گئی کہ روایتی ذائقے، موسیقی، خاندانی میل جول اور ایک دوستانہ ماحول لوگوں کو کس طرح قریب لاسکتے ہیں۔ امریکہ کی سرزمین پر سجا یہ پاکستانی میلہ اپنے شرکا کے لیے صرف ایک دن کی تفریح نہیں تھا، بلکہ وطن کی خوشبو، ثقافتی اپنائیت اور اجتماعی خوشیوں سے بھرپور ایک یادگار تجربہ تھا۔
