• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » بینظیر بھٹو، اہلِ یہود اور اسرائیل
تازہ ترین

بینظیر بھٹو، اہلِ یہود اور اسرائیل

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 20, 2026Updated:اکتوبر 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

حسن مجتبیٰ
خصوصی تحریر⁦|⁩تاریخ، سیاست اور سفارت کاری

بینظیر بھٹو، اہلِ یہود اور اسرائیل

تحریر: حسن مجتبیٰ

تخلیص، ترجمہ تخلیق،⁦(⁩ٹرانسکریئیشن⁦)⁩حسن مجتبیٰ

’’ایک ایسی شخصیت جو مسلم دنیا کے اس حصے سے ہمارے تعلقات میں ایک پل بن سکتی تھی، جس حصے سے ہمارے تعلقات فطری طور پر محدود ہیں۔‘‘ یہ الفاظ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد اُس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ نے اُن کے بارے میں کہے تھے۔ ایہود اولمرٹ اسرائیلی شخصیات میں سے ایک تھے جن کے پاکستان کی دو مرتبہ سابق وزیراعظم اور مسلم دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو سے رابطے اور اچھے تعلقات تھے۔ دوسری قابلِ ذکر اسرائیلی شخصیات میں سابق اسرائیلی صدر شمعون پیریز اور امریکہ میں اسرائیل کے سابق سفیر ڈین گلمین شامل تھے۔

اگر بینظیر بھٹو آج زندہ ہوتیں اور یقیناً تیسری بار وزیراعظم منتخب ہو کر آتیں تو اسرائیل کو تسلیم کرنا تو بعد کی بات تھی، لیکن اسرائیل اور پاکستان کے تعلقات بہتر ہوتے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے دوسرے دورِ حکومت میں بھی ایک بیک چینل کے ذریعے اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں بہتری لا رہی تھیں۔ بینظیر بھٹو کو اسرائیل اور پاکستان کے درمیان بہتر تعلقات کے مخالف قوتوں نے راستے سے ہٹا دیا، لیکن بہرحال اُن کی جماعت، بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد انتخابات جیت کر ملکی اقتدار میں آ چکی تھی۔ چنانچہ میں نے اُن کی جماعت کی حکومت کے دوران اُس وقت کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے اقوام متحدہ میں اُن کی پریس کانفرنس کے دوران یہ سوال کیا کہ پاکستان کب اسرائیل کو تسلیم کرے گا، جب کہ عرب ممالک کی اچھی خاصی تعداد اسرائیل کو کب کی تسلیم کر چکی تھی۔ یہ⁦10⁩جولائی⁦2008⁩ء کی بات ہے۔

اس سے چودہ ماہ قبل، ستمبر⁦2007⁩ء میں، بینظیر بھٹو نے نو سالہ جلاوطنی سے پاکستان واپسی سے پہلے نیویارک کے مشہور مینڈرن اورینٹل ہوٹل میں اسرائیلی سفیر ڈین گلرمین کو ظہرانہ دیا تھا۔ اس میں اسرائیلی سفیر، اُن کی اہلیہ جین گلرمین اور آصف علی زرداری بھی شریک تھے۔ یہ ہوٹل نیویارک کے کولمبس سرکل پر واقع ہے۔

بینظیر بھٹو سے ملاقات کے بعد سفیر گلرمین نے کہا تھا: ’’میں زندگی میں اور اپنے کیریئر میں کئی لوگوں سے ملا ہوں، لیکن بینظیر بھٹو جیسی بہادر، ذہین اور خوش گفتار خاتون و رہنما نہیں دیکھی۔‘‘ اسرائیلی سفیر کے مطابق، ’’وہ واشنگٹن کے ساتھ ساتھ یروشلم سے بھی مخاطب تھیں، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ اسرائیل کا صدر جارج بش پر اثر و رسوخ ہے۔‘‘

نیویارک میں اس ظہرانے کے بعد اسرائیلی سفیر کی اہلیہ جین کی جانب سے بھی بینظیر بھٹو اور اُن کے شوہر آصف علی زرداری کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا گیا تھا۔

بینظیر بھٹو کی امریکی یہودیوں سے دوستیاں اور اسرائیلیوں کے ساتھ سماجی تعلقات کوئی نئی بات نہیں تھے اور نہ ہی یہ تعلقات ڈھکے چھپے تھے۔ ان کی ابتدا اُس وقت ہوتی ہے جب بینظیر بھٹو آکسفورڈ کے ریڈکلف اسکول میں داخل ہوتی ہیں۔ وہاں اُن کی دوستی ہارورڈ سے وابستہ ماہرِ معاشیات پروفیسر جان کینتھ گیلبرائتھ اور پھر سفیر کے بیٹے پیٹر گیلبرائتھ سے ہوتی ہے۔ یہ دوستی آگے چل کر خاندانی دوستی میں بدل جاتی ہے۔ ویسے تو پاکستان کے بھٹو ہوں یا امریکہ کے کینیڈی، دونوں کے بارے میں یہ کہنا مشکل ہے کہ وہ دشمنوں کی دشمنی کا زیادہ شکار ہوئے یا دوستوں کی بے وفائیوں کا۔

پیٹر گیلبرائتھ کا شمار بینظیر بھٹو کے بہترین دوستوں میں ہوتا تھا۔ پیٹر گیلبرائتھ ہی وہ شخص تھے جنہوں نے بینظیر بھٹو، اُن کے والد ذوالفقار علی بھٹو اور خاندان پر ضیا الحق کی فوجی آمریت کے ہاتھوں آنے والی مصیبتوں، قید و بند اور دار و رسن کی آزمائشوں کے دنوں میں ہمیشہ اُن کا ساتھ دیا۔ پیٹر گیلبرائتھ کی واشنگٹن اور کیپیٹل ہل پر کوششوں کے نتیجے میں بینظیر بھٹو کو فوجی آمریت کی قید و نظربندی سے رہائی ملی۔

بینظیر کی طویل نظربندی، جس کا بیشتر حصہ قیدِ تنہائی میں گزرا، کے دوران پیٹر گیلبرائتھ کچھ امریکی سینیٹروں اور کانگریس کے ارکان کے ہمراہ اُن کی خیریت معلوم کرنے پاکستان آنا چاہتے تھے۔ اس دباؤ کے نتیجے میں⁦1984⁩ء میں بینظیر بھٹو کو ملک چھوڑنے کی شرط پر رہائی ملی۔ پیٹر گیلبرائتھ کے ساتھ سینیٹر اسٹیفن سولارز بھی تھے، جنہوں نے کیپیٹل ہل سے ضیا الحق کی فوجی حکومت پر زبردست دباؤ ڈالا۔ وہ بینظیر بھٹو کی رہائی کی کوششوں میں سرگرم رہے۔

جب بینظیر بھٹو نے رہائی کے بعد امریکہ کا دورہ کیا تو واشنگٹن سمیت کئی مقامات اور تقریبات میں پیٹر گیلبرائتھ اُن کے ہمراہ تھے۔ یہ پہلا موقع تھا جب واشنگٹن کے بااثر حلقے بینظیر بھٹو کی شخصیت اور گفتگو سے انتہائی متاثر ہوئے۔ اسی دوران پیٹر گیلبرائتھ کے ذریعے مارک سیگل نے بینظیر بھٹو کے اعزاز میں ایک عشائیہ دیا، جس میں امریکی سیاست دان اور میڈیا کی شخصیات شریک تھیں۔ تب سے مارک سیگل بھی بینظیر بھٹو کے حلقۂ احباب میں شامل ہو گئے۔

آگے چل کر بینظیر بھٹو نے مارک سیگل کو اپنا لابیسٹ مقرر کیا۔ مارک سیگل صدر جمی کارٹر کے دور میں واشنگٹن میں یہودیوں کی جانب سے لابنگ کے حوالے سے جانے جاتے تھے۔ اُن کے مخالفین نے اُنہیں ’’بینظیر بھٹو کا یہودی‘‘ اور ہمالیائی صیہونی لابی کا نمائندہ بھی کہا۔ بینظیر بھٹو کے لیے مارک سیگل کی وفاداری بھی پیٹر گیلبرائتھ کی طرح اُن کے آخری وقت تک برقرار رہی اور وہ اُن کی وفات کے بعد بھی اُن کے ساتھ کھڑے رہے۔

یہ مارک سیگل ہی تھے جنہیں بینظیر بھٹو نے ایک خط دیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ کن اداروں اور افراد سے جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت کے دوران اُن کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے اور اُن کے قتل کی صورت میں پرویز مشرف سمیت کن لوگوں کو ذمہ دار سمجھا جائے۔ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد مارک سیگل نے وہ ای میل عام کی اور اسے سی این این کے ساتھ بھی شیئر کیا، جہاں اسے نشر کیا گیا۔ یہ وہ کہانی تھی جو بینظیر بھٹو اپنے قتل کے خطرے کے بارے میں دنیا کو بتانا چاہتی تھیں۔

بینظیر بھٹو کی آخری کتاب
The Reconciliation: Islam, Democracy, and the West
پر بھی مارک سیگل نے اُن کے ساتھ کام کیا تھا۔ بینظیر بھٹو نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں کتاب کا آخری باب بھی اُنہیں بھیجا تھا۔

مارک سیگل کے ساتھ بینظیر بھٹو کی دوستی اُن کے آخری وقت تک برقرار رہی۔ وہ یہودی تہواروں، مثلاً متزوہ، کی تقریبات میں شریک ہوتی تھیں، جب کہ آصف علی زرداری بھی مارک سیگل کی بیٹی کی شادی میں شریک ہوئے تھے۔

بینظیر بھٹو کی زندگی اور موت پر مارک سیگل نے ایک دستاویزی فلم بھی بنائی۔ اس فلم میں آصف علی زرداری اپنے انٹرویو میں کہتے ہیں: ’’پاکستانی جنرلوں کے نزدیک بینظیر بھٹو کا وزیراعظم ہونا قابلِ قبول نہیں تھا، کیونکہ اُن کی نظر میں وزیراعظم کی کرسی ہر ماہ ’نجس‘ ہو جاتی تھی۔‘‘

اس فلم میں یہ بھی دکھایا گیا ہے کہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد اُن کی بیٹی بختاور کو اپنی الماری کی دراز میں ماں کی جانب سے سالگرہ کا تحفہ ملا۔ اس کے ساتھ ایک چٹھی تھی جس میں لکھا تھا کہ وہ اُنہیں سالگرہ کا تحفہ پیشگی دے رہی ہیں، کیونکہ اُن کی اپنی زندگی کا کوئی بھروسا نہیں۔ یہ وہ انگوٹھی تھی جو بینظیر بھٹو نے اپنی بیٹی بختاور کے لیے رکھی تھی۔

بینظیر بھٹو کے قتل کے بارے میں موساد کے سابق سربراہ افریم ہلیوی نے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت میں لکھا تھا: ’’چون برس کی عمر میں بینظیر بھٹو کی موت نہ صرف پاکستان کا نقصان ہے بلکہ سیاسی ماحول کے حوالے سے پورے خطے اور اس سے باہر، بشمول امریکہ اور ایران کے ساتھ اُس کے تعلقات کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔‘‘

ہلیوی نے اس بااثر اسرائیلی روزنامے میں مزید لکھا کہ امریکہ اور ایران کے پاکستان اور افغانستان میں مشترکہ مفادات ہیں اور دونوں ممالک پاکستان میں حکومت کو گرنے نہیں دیں گے، لیکن بینظیر بھٹو کی موت سے عدم استحکام پیدا کرنے والے رجحانات میں تیزی آئے گی۔

ماخذ اور حوالہ

اس مضمون کے آخری حصے میں موساد کے سابق سربراہ افریم ہلیوی کے حوالے سے اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت کا ذکر کیا گیا ہے۔ فراہم کردہ اصل متن میں ماخذ کے طور پر کیری کوہلر اور Jewish Telegraphic Agency (JTA) کا حوالہ بھی درج ہے۔

حسن مجتبیٰ

تحریر و تخلیق
حسن مجتبیٰ
مدیر اعلیٰ نیویارک اردو

حسن مجتبیٰ⁦|⁩تخلیقی ترجمہ

NYUrdu.com
آصف علی زرداری اردو کالم اسرائیل ایہود اولمرٹ بین الاقوامی تعلقات بینظیر بھٹو پاکستان اسرائیل تعلقات پاکستانی سیاست پیٹر گیلبرائتھ حسن مجتبیٰ ذوالفقار علی بھٹو ڈین گلمین سیاسی تاریخ مارک سیگل یہودی شخصیات
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleبیانیوں کا قبرستان
Next Article نیو جرسی میں پاکستانی میلہ
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.