آذربائیجان میں دنیا کے انڈر15فٹبالرز کا پہلا عالمی میلہ، پاکستان بھی شریک

ایک عظیم فٹبالر لیونل میسی کے بینن کے خلاف رواں ماہ اپنا آخری میچ کھیل کر دنیائے فٹبال کو خیرباد کہنے کے تناظر میں، دوسری جانب فیفا ایسے ہی غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل کھلاڑیوں کی تلاش کے لیے آذربائیجان کے شہر باکو میں دنیا بھر سے15سال سے کم عمر فٹبالرز کا ایک میلہ منعقد کر رہی ہے۔ اس میں پاکستان سمیت فیفا کی رکن ایسوسی ایشنز کی انڈر15ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔
یہ صرف فٹبال ٹورنامنٹ نہیں ہوگا بلکہ فیفا نے اپنی نوعیت کے اس اولین ایونٹ کو فیفا انڈر15فٹبال ورلڈ کپ اینڈ فیسٹیول کا نام دیا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ22اکتوبر سے30اکتوبر2026تک جاری رہے گا۔30اکتوبر کو پہلے فیفا انڈر15ورلڈ کپ اینڈ فیسٹیول کے چیمپئن کے فیصلے کے ساتھ اس ایونٹ کا اختتام ہوگا۔
باکو میں عالمی مقابلوں کے لیے غیر معمولی انتظامات
فیفا انڈر15ورلڈ کپ کے لیے آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں ہووسان کمپیٹیشن کمپلیکس تیار کیا گیا ہے، جہاں ٹورنامنٹ کے زیادہ تر میچ کھیلے جائیں گے۔ کرسٹل ہال میں بھی مقابلے منعقد ہوں گے۔ ٹورنامنٹ کے دوران تقریباً ایک ہزار میچ کھیلے جانے کا منصوبہ ہے۔ آذربائیجان نے اس ایونٹ کے لیے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔

باکو کے پاس جدید کھیلوں کی سہولتیں، بنیادی ڈھانچہ اور بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کا تجربہ موجود ہے۔ فیفا نے بھی آذربائیجان کے معیاری انفراسٹرکچر کو میزبانی کے انتخاب کی اہم خصوصیات میں شمار کیا ہے۔
اس ٹورنامنٹ کے لیے وسیع انفراسٹرکچر تیار کیا گیا ہے۔ متعدد پچز پر بیک وقت20میچ کھیلے جا سکیں گے۔ منتظمین کے مطابق ہر پچ پر روزانہ10میچ کھیلنے کا منصوبہ ہے۔ باکو میں تقریباً3ہزار سے زائد کھلاڑی، کوچز اور دیگر ٹیم اسٹاف ایک ہفتے سے زیادہ قیام کریں گے۔
کم دورانیے کے میچ، زیادہ مواقع
کھلاڑیوں کی عمروں اور جسمانی نشوونما کو مدنظر رکھتے ہوئے میچوں کے لیے روایتی90منٹ کا دورانیہ مقرر نہیں کیا گیا۔ ہر میچ40منٹ کا ہوگا، جس میں دونوں ہاف20، 20 منٹ پر مشتمل ہوں گے۔ کھیل کے لیے گراؤنڈ بھی روایتی سائز سے چھوٹا رکھا گیا ہے۔ اس ایڈیشن میں ہر ٹیم آٹھ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوگی اور میچ68میٹر لمبی اور47میٹر چوڑی پچز پر کھیلے جائیں گے۔

چھوٹے گراؤنڈ اور کم دورانیے کے میچوں سے کھلاڑیوں میں مسابقت اور جیت کا جذبہ بڑھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس فارمیٹ میں انہیں پاسنگ، گیند پر کنٹرول، ڈربلنگ، پوزیشننگ، فوری فیصلے کرنے اور ٹیم ورک جیسی صلاحیتوں کے اظہار کے زیادہ مواقع مل سکتے ہیں۔ یہی مہارتیں مستقبل میں بڑے کھلاڑیوں کی شناخت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
فیفا کا طویل مدتی منصوبہ
فیفا کونسل نے دسمبر2025کے اجلاس میں اس ٹورنامنٹ کے انعقاد کی تصدیق کی تھی اور جون میں آذربائیجان کو میزبانی سونپی گئی۔ میزبان ملک نے نسبتاً کم وقت میں عالمی مقابلوں کے لیے انتظامات مکمل کیے۔ فیفا کونسل کے اعلان کے مطابق2027میں لڑکیوں کے لیے بھی اسی نوعیت کے ورلڈ کپ کا انعقاد ہوگا، جبکہ2028میں لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے مقابلے ہوں گے۔ ان ایونٹس میں فیفا کی تمام211رکن ایسوسی ایشنز کی ٹیمیں حصہ لینے کی اہل ہوں گی۔

فیفا نے میچوں کا شیڈول اس انداز سے ترتیب دیا ہے کہ مسابقتی جذبے اور کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود کے درمیان توازن برقرار رہے۔ ٹیموں کو32گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ فارمیٹ کے مطابق شکست کھانے والی ٹیمیں بھی ایونٹ سے فوری طور پر باہر نہیں ہوں گی بلکہ ابتدائی مرحلے میں اپنی کارکردگی اور گروپ پوزیشن کی بنیاد پر اگلے مرحلے میں مقابلہ جاری رکھ سکیں گی۔
اگلے مرحلے میں ٹیموں کی درجہ بندی کے مطابق گروپس تشکیل دیے جائیں گے۔ اس مرحلے کے ہر گروپ میں سرفہرست رہنے والی ٹیم کو ٹرافی دینے کا منصوبہ ہے، جبکہ گروپ اے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم فیفا انڈر15ورلڈ کپ اینڈ فیسٹیول2026کی چیمپئن قرار پائے گی۔
پاکستان کی14رکنی ٹیم کا اعلان

پاکستان فٹبال فیڈریشن نے فیفا انڈر15ورلڈ کپ اینڈ فیسٹیول2026کے لیے14رکنی اسکواڈ کا اعلان کیا ہے۔ ٹیم میں گول کیپرز، ڈیفنڈرز، مڈفیلڈرز اور فارورڈز شامل ہیں۔ پاکستانی کھلاڑیوں کو بین الاقوامی سطح پر اپنی صلاحیتیں آزمانے کا موقع ملے گا۔
پاکستان کا اعلان کردہ اسکواڈ
گول کیپرز: شایان عبدالجبار مروت، محمد سلمان
ڈیفنڈرز: مقبول احمد، محمد عالم، امیر حمزہ، شہراز خان، رمیز رضا
مڈفیلڈرز: الہان علی خان، بخشی حمال خان، محمد مصطفیٰ
فارورڈز: اویس فیض، دانش مسیح، زین العابدین، کلیم اللہ
ہیڈ کوچ: احسان اللہ
اسسٹنٹ کوچ: شاہ جہاں بلوچ
گول کیپنگ کوچ: جعفر خان
پاکستانی ٹیم20اکتوبر کو اسلام آباد سے باکو کے لیے روانہ ہونے والی ہے۔ اس سے قبل لاہور میں پاکستان انڈر15ٹیم کے انتخاب کے لیے21کھلاڑیوں کا تربیتی کیمپ منعقد کیا گیا، جہاں نوجوانوں کو عالمی مقابلے کے لیے فنی تربیت دینے کے ساتھ ذہنی طور پر بھی تیار کیا گیا۔
کیمپ میں احمد زاہد اللہ خان، حسن زیب خان، محمد معاذ عدنان، ساحل خان، سمیر عبدالصمد، شاہ زیب نواز اور ذوالنورین نے بھی شرکت کی، تاہم وہ حتمی اسکواڈ کا حصہ نہیں بن سکے۔
پاکستان کے گروپ اور میچوں کا شیڈول

پاکستان کو گروپ اے ڈی میں رکھا گیا ہے۔ اس گروپ میں قبرص، گیمبیا، اردن، جنوبی سوڈان اور نائیجیریا کی ٹیمیں شامل ہیں۔ پاکستان کے ابتدائی میچوں کا شیڈول درج ذیل ہے۔
| تاریخ | مقابلہ | پاکستانی وقت |
|---|---|---|
| 24 اکتوبر 2026 | پاکستان بمقابلہ گیمبیا | دوپہر3:30بجے |
| 25 اکتوبر 2026 | پاکستان بمقابلہ جنوبی سوڈان | دوپہر1:45بجے |
| 25 اکتوبر 2026 | پاکستان بمقابلہ قبرص | رات8:30بجے |
| 26 اکتوبر 2026 | پاکستان بمقابلہ اردن | دوپہر12:30بجے |
| 26 اکتوبر 2026 | پاکستان بمقابلہ نائیجیریا | شام7:15بجے |
نوٹ:یہ شیڈول فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر مرتب کیا گیا ہے۔ اشاعت سے پہلے فیفا کے سرکاری شیڈول سے اوقات کی تصدیق کر لیں۔
نوجوان کھلاڑیوں کو عالمی سطح پر مواقع فراہم کرنا
فیفا کے چیف آف گلوبل فٹبال ڈیولپمنٹ آرسین ونگر کے مطابق اس ایونٹ کا مقصد ان ملکوں کے باصلاحیت کھلاڑیوں کو بھی اپنی مہارت دکھانے کے یکساں مواقع فراہم کرنا ہے جو عالمی سطح پر کوالیفائنگ راؤنڈ سے آگے نہیں بڑھ پاتے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ٹیلنٹ اور صلاحیت دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے اور ایسے نوجوانوں کو مناسب مواقع دے کر دریافت کیا جا سکتا ہے۔
آرسین ونگر کے مطابق اس ایونٹ کے ذریعے دنیا بھر کے فٹبالرز، کوچز اور تکنیکی عملے کی نئی نسل کو ایک منفرد تجربہ حاصل ہوگا۔ نوجوان کھلاڑی مختلف ثقافتوں، کھیل کے انداز اور فٹبال کی روایات سے واقف ہوں گے اور مقابلوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں گے۔ اس پروگرام کے ذریعے رکن ایسوسی ایشنز کی حوصلہ افزائی بھی مقصود ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی ترقی اور تربیت میں سرمایہ کاری جاری رکھیں۔
فیڈریشن آف انٹرنیشنل فٹبال ایسوسی ایشنز(فیفا)کے صدر جیانی انفینٹینو نے کہا ہے کہ انڈر15ورلڈ کپ کا انعقاد دنیا بھر کے باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے بنیادی عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ایونٹ دنیا بھر میں فٹبال کے فروغ اور ترقی کے لیے سرمایہ کاری کے عمل کو آگے بڑھانے کی مثال ہے۔
پاکستانی فٹبال کے لیے ایک اہم موقع
پاکستان میں فٹبال کا ٹیلنٹ بڑی تعداد میں موجود ہے، لیکن نوجوان کھلاڑیوں کی جدید تقاضوں کے مطابق تربیت اور اپنی صلاحیتوں کے اظہار کے مواقع محدود ہیں۔ کراچی، لاہور، کوئٹہ، پشاور، ملتان، اسلام آباد، چمن اور ملک کے دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں باصلاحیت کھلاڑی موجود ہیں، مگر انہیں اکثر اعلیٰ معیار کی تربیت اور بین الاقوامی سطح کے مقابلوں تک رسائی نہیں مل پاتی۔
ایسے حالات میں انڈر15ورلڈ کپ میں پاکستانی نوجوانوں کی شرکت ملک میں فٹبال کے فروغ کے لیے نئی روح پھونک سکتی ہے۔ تاہم اس موقع سے حقیقی فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان فٹبال فیڈریشن کو نچلی سطح، خصوصاً اسکولوں اور کالجوں میں فٹبال کے فروغ کی واضح حکمت عملی اور طویل مدتی پالیسی مرتب کرنا ہوگی۔
گزشتہ دس برسوں کے دوران پاکستان فٹبال فیڈریشن کے تنازعات نے اس کھیل کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انتظامی استحکام، کوچنگ کے معیار، نوجوان کھلاڑیوں کی شناخت، مقامی مقابلوں اور جدید تربیتی سہولتوں پر توجہ دی جائے۔ پاکستان کے لیے یہ ایک سنہری موقع ہے کہ وہ نوجوان ٹیلنٹ تلاش کرے اور اسے جدید خطوط پر تربیت دے تاکہ کھلاڑی عالمی سطح پر اپنے حریفوں کا مقابلہ کر سکیں اور ملک کا نام روشن کریں۔
فیفا انڈر15ورلڈ کپ کے گروپس
فراہم کردہ معلومات کے مطابق ایونٹ کے گروپس کی فہرست درج ذیل ہے۔ ناموں اور گروپوں کی حتمی ترتیب کو اشاعت سے پہلے فیفا کے سرکاری ریکارڈ سے ملانا ضروری ہے۔
انگولا، اسٹونیا، فرانس، کوسوو، مالدیپ، جنوبی افریقہ
الجزائر، ارجنٹینا، چائنیز تائی پے، ملاوی، عمان، سورینام
کمبوڈیا، انگلینڈ، مونٹی نیگرو، نکاراگوا، آئرلینڈ، زمبابوے
برازیل، ڈی آر کانگو، ایل سلواڈور، گنی بساؤ، نیپال، تیونس
بارباڈوس، چلی، کانگو، اسپین، کویت، تاجکستان
مراکش، فلپائن، کوسٹاریکا، لائبیریا، بیلیز، کیوراساؤ
بنگلہ دیش، برونڈی، فجی، پرتگال، انڈونیشیا، ویلز
میکسیکو، شام، ہنگری، ایتھوپیا، ملائیشیا، ڈومینیکا
اسکاٹ لینڈ، بلغاریہ، گیبون، لیٹویا، لیسوتھو
چین، جاپان، سعودی عرب، انگولا، سولومن آئی لینڈ، جمہوریہ وسطی افریقہ
سینیگال، بھارت، لائوس، گریناڈا، کیمرون، بحرین
اٹلی، قطر، ہانگ کانگ، ترکمانستان، بینن، کک آئی لینڈ
کولمبیا، تھائی لینڈ، ڈومینیکن ری پبلک، ساموا، ایسواتینی
کروشیا، یونان، سینٹ لوسیا، فلسطین، اروبا
بیلاروس، پیرو، منگولیا، مالی، بوٹسوانا، پاپوا نیوگنی
کینیڈا، گوئٹے مالا، گنی، ہنڈوراس، سنگاپور، امریکن ساموا
جنوبی کوریا، لکسمبرگ، بھوٹان، لیتھوانیا، ونسنٹ اینڈ گریناڈائنز، متحدہ عرب امارات
بوسنیا و ہرزیگووینا، برونائی، گیانا، ایران، ماریشس، ویتنام
مصر، عراق، مکاؤ، سینٹ کٹس اینڈ نیوس، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، کیمین آئی لینڈ
مڈغاسکر، موزمبیق، نیوزی لینڈ، پورٹو ریکو، صومالیہ، وینزویلا
کرغزستان، ٹونگا، کیپ ورڈے، ایکواڈور، استوائی گنی، یوگنڈا
پیراگوئے، جبرالٹر، بولیویا، سیشلز، تاہیتی
ازبکستان، گھانا، بہاماس، قازقستان، میانمار، گوام
کوموروس، مالدووا، مونسریٹ، تنزانیہ، یوراگوئے، زیمبیا
البانیہ، آئیوری کوسٹ، موریطانیہ، روانڈا، ترک اینڈ کیکوس، وانواتو
چاڈ، کینیا، مالٹا، نائیجر، شمالی مقدونیہ، پاناما
شمالی آئرلینڈ، لبنان، برکینا فاسو، نیو کیلیڈونیا، اینٹیگوا اینڈ بارباڈوس
کیوبا، جمیکا، سری لنکا، چیکیا، ٹوگو، یو ایس ورجن آئی لینڈ
جارجیا، نمیبیا، پولینڈ، برٹش ورجن آئی لینڈ، برمودا، سائو ٹومے و پرنسیپے
پاکستان، جنوبی سوڈان، نائیجیریا، قبرص، اردن، گیمبیا
روس، افغانستان، سوڈان، جبوتی، سیرالیون، ترکیہ
آسٹریلیا، آذربائیجان، ہیٹی، انڈورا، اسرائیل، تیمور لیستے
نوجوان ٹیلنٹ سے مستقبل کے عالمی ستاروں تک
یہ ٹورنامنٹ صرف ایک نئی ٹرافی کے لیے مقابلہ نہیں بلکہ نوجوان فٹبالرز کے ایک نئے دور کا آغاز ہے۔ اس کی اصل کامیابی یہ ہوگی کہ کتنے کھلاڑیوں کو زیادہ میچ کھیلنے، تجربہ حاصل کرنے، اپنی تکنیک بہتر بنانے اور عالمی فٹبال کے ماحول کو سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ ممکن ہے کہ آج ان میدانوں میں کھیلنے والے انہی نوعمر کھلاڑیوں میں سے کئی مستقبل میں عالمی فٹبال کے افق پر ستاروں کی طرح جگمگائیں۔
