• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » پنجاب کو موٹرویز، سندھ کو سنگِ بنیاد
تازہ ترین

پنجاب کو موٹرویز، سندھ کو سنگِ بنیاد

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 21, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

رائے و تجزیہ | NY URDU

ایم⁦-6:⁩پنجاب کو موٹرویز، سندھ کو سنگِ بنیاد

اسحاق سومرو، کالم نگار

تحریر و تجزیہ

اسحاق سومرو

ishaksoomro@gmail.com

پاکستان کی سمندری بندرگاہوں کو اندرونِ ملک شہروں، خشک بندرگاہوں اور منڈیوں سے ملانے والی موٹروے ابتدا ہی سے قومی ترجیح ہونی چاہیے تھی۔ مگر موٹرویز کا جال پنجاب میں پھیلتا رہا، جبکہ سندھ سے گزرنے والا اس کا لازمی رابطہ نامکمل رہا۔ سندھ یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ وفاقی حکومت بعض علاقوں کے لیے وسائل تلاش کر لیتی ہے، لیکن سندھ کو بار بار سرمایہ کاروں، مالی بندوبست اور سنگِ بنیاد کی ایک اور تقریب کا انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے؟

وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی تشہیری تصاویر کے ساتھ معاوضے پر چلائے جانے والے اشتہارات اب سوشل میڈیا پر کثرت سے نظر آتے ہیں، جن میں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ایم⁦-6⁩موٹروے پر پیش رفت کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ ان اشتہارات کے مطابق⁦70⁩کروڑ⁦50⁩لاکھ امریکی ڈالر، یعنی تقریباً⁦200⁩ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اور نومبر⁦2026⁩ء میں سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد روہڑی سے رانی پور تک تقریباً⁦60⁩کلومیٹر حصے کی تعمیر شروع ہوگی۔ تعمیر کا عملی آغاز یقیناً خوش آئند ہوگا۔ لیکن برسوں کے اعلانات کے بعد سندھ کے عوام کا زمینی کام دیکھ کر پیش رفت کا اندازہ لگانا بالکل بجا ہے۔

سکھر کے قریب روہڑی کو حیدرآباد کے قریب جامشورو سے ملانے والی⁦306⁩کلومیٹر طویل ایم⁦-6⁩، پشاور تا کراچی موٹروے راہداری کی ایک اہم نامکمل کڑی ہے۔ تقریباً⁦400⁩ارب روپے کی تخمینی لاگت والے اس منصوبے کو اطلاعات کے مطابق پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تین حصوں کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک اور اوپیک فنڈ سے مالی وسائل حاصل کر لیے گئے ہیں، جبکہ باقی دو حصے سرکاری و نجی شراکت داری یا تعمیر، آپریشن اور منتقلی، یعنی بی او ٹی، کے تحت بنانے کا منصوبہ ہے۔

سندھ سے گزرنے والے اس ناگزیر قومی رابطے کی تکمیل کے لیے اتنی طویل مالی تگ و دو کیوں درکار رہی ہے؟

ایم⁦-6:⁩اعلانات، سرمایہ کار اور تاخیر

ایم⁦-6⁩کے لیے⁦2016⁩ء میں اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق مالی مشکلات کے باعث⁦2018⁩ء میں منصوبہ سردخانے میں ڈال دیا گیا، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایسا طریقہ تلاش کرتی رہی جس میں حکومت کو مالی وسائل فراہم نہ کرنا پڑیں۔ مختلف مراحل پر چائنا اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کارپوریشن، شینڈونگ، ایف ڈبلیو او اور سائنو ہائیڈرو کے مشترکہ منصوبے، چائنا کمیونی کیشنز، ٹیکنو، سی ایم سی اور اے سی سی کے کنسورشیم، اٹلی کی سی ایم سی اور زیڈ کے بی سمیت مختلف کمپنیوں اور اتحادوں کی تجاویز سامنے آئیں۔ مگر ان کوششوں کے نتیجے میں تعمیر شروع نہ ہوسکی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے⁦13⁩دسمبر⁦2022⁩ء کو منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا، لیکن کام شروع نہیں ہوا۔ مارچ⁦2025⁩ء میں مالی وسائل اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے منصوبے کو پانچ حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اب ایک اور افتتاح کی تشہیر ہو رہی ہے، حالانکہ دو حصوں کے مالی بندوبست کی صورتِ حال اب بھی غیر یقینی ہے۔ کمپنیوں کے نام، تجاویز اور مالی طریقے بدلتے رہے، جبکہ سندھ کا انتظار طویل ہوتا گیا۔ اتنا طویل اور بے نتیجہ عمل یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی تلاش، موٹروے کی تعمیر کے بجائے وقت گزارنے کا ذریعہ بن گئی۔

ایم⁦-9:⁩ایک اور طویل انتظار کی کہانی

سندھ کراچی تا حیدرآباد ایم⁦-9⁩کے معاملے میں بھی ایسی ہی صورتِ حال دیکھ چکا ہے۔ ایم⁦-9⁩کے لیے⁦1998⁩ء میں اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ مختلف مراحل پر ملائیشیا کی بینا پوری ہولڈنگز، چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن، سامبو، ایک ترک کمپنی، این ایل سی، ای او بی آئی اور دیگر اداروں کی تجاویز سامنے آئیں۔ لیکن ان تجاویز سے کوئی ایسا حتمی بندوبست نہ ہوسکا جس کے تحت تعمیر شروع ہوتی۔

صدر آصف علی زرداری نے مارچ⁦2013⁩ء میں سنگِ بنیاد رکھا، مگر کام شروع نہ ہوا۔ مارچ⁦2015⁩ء میں وزیراعظم نواز شریف کے دور میں دوسری بار سنگِ بنیاد رکھا گیا، جس کے بعد ایف ڈبلیو او نے بی او ٹی کے تحت تعمیر شروع کی۔ پہلی بار اظہارِ دلچسپی طلب کرنے سے عملی کام کے آغاز تک تقریباً⁦17⁩سال گزر چکے تھے۔ عوام کے لیے تجاویز، مذاکرات اور تقریبات کا یہ مسلسل سلسلہ بے نتیجہ رہا۔ وقت گزرتا گیا، مگر سندھ ایک ضروری سفری اور تجارتی رابطے کا منتظر رہا۔

ایم⁦-9⁩کی تکمیل کے بعد بھی اس کے ڈیزائن، معیار اور بھاری تجارتی ٹریفک کے لیے موزونیت پر سوالات برقرار رہے۔ بعد میں کراچی اور حیدرآباد کے درمیان ایک الگ موٹروے، جسے ایم⁦-10⁩کہا گیا، کی تجاویز نے ایک اور سوال کھڑا کردیا⁦:⁩اس اہم راستے کو ابتدا ہی میں مناسب معیار کے مطابق کیوں نہیں بنایا گیا؟

پنجاب کی موٹرویز اور سندھ کا سوال

دوسری طرف پنجاب کو مکمل یا جزوی طور پر آٹھ فعال موٹرویز کی سہولت میسر ہے⁦:⁩ایم⁦-1⁩، ایم⁦-2⁩، ایم⁦-3⁩، ایم⁦-4⁩، ایم⁦-5⁩، ایم⁦-11⁩، ایم⁦-14⁩اور ایم⁦-15⁩۔ مزید منصوبوں، بشمول ایم⁦-12⁩اور ایم⁦-13⁩، پر بھی پیش رفت کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ لاہور، ساہیوال اور بہاول نگر کو ملانے والا مرحلہ وار منصوبہ اور سیالکوٹ سے کرتارپور تک مجوزہ گرو نانک ایکسپریس وے بھی شامل ہیں۔

پنجاب کے عوام اچھی سڑکوں کے حق دار ہیں۔ سندھ کے عوام بھی اسی توجہ اور عزم کے حق دار ہیں۔ اس کی معاشی منطق واضح ہے۔ کراچی کی سمندری بندرگاہوں سے وہ تجارت گزرتی ہے جس کی منزل اندرونِ ملک صنعتیں، کھیت، شہر، خشک بندرگاہیں اور منڈیاں ہیں۔ اس لیے ان بندرگاہوں سے موٹروے کے رابطے کی تکمیل قومی ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی کا مرکزی نکتہ ہونی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس اندرونِ ملک طویل حصے فعال ہوگئے، جبکہ جنوبی راہداری نامکمل رہی۔

پنجاب کے عوام اچھی سڑکوں کے حق دار ہیں۔ سندھ کے عوام بھی اسی توجہ اور عزم کے حق دار ہیں۔

وفاقی ذمہ داری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم

جب پنجاب کو فائدہ پہنچانے والے منصوبوں کے لیے وسائل دستیاب دکھائی دیں، مگر سندھ کے ضروری رابطے کو بار بار نئے مالی طریقوں اور ٹھیکے دینے کی نئی کوششوں سے مشروط کیا جائے، تو امتیازی سلوک کا احساس بڑھتا ہے۔ وفاقی حکومت ان فیصلوں کی وضاحت کیے بغیر اس احساس کو رد نہیں کرسکتی جنہوں نے اسے جنم دیا۔

سندھ کو سنگِ بنیاد نہیں، مکمل موٹروے چاہیے

ایم⁦-6⁩کی تکمیل ایک قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی حکومت کو پوری موٹروے کے لیے مالی وسائل یقینی بنانے، تعمیر کا قابلِ اعتماد نظام الاوقات جاری کرنے اور اس کی تکمیل کی ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ پاکستان کا برابر کا حصہ ہے۔ اس کے عوام کو یہ برابری سرکاری سرمایہ کاری، محفوظ سڑکوں اور مکمل منصوبوں کی صورت میں محسوس ہونی چاہیے۔

سنگِ بنیاد کا ایک اور پتھر سندھ کی شکایت کا جواب نہیں بن سکتا۔ مکمل موٹروے بن سکتی ہے۔

رائے و تجزیہ — نیو یارک اُردو
|
ishaksoomro@gmail.com
اسحاق سومرو ایم-6 موٹروے، سندھ، پنجاب، اسحاق سومرو، موٹرویز پاکستان، نیشنل ہائی وے اتھارٹی، وفاقی ترقیاتی منصوبے، کراچی بندرگاہ، ایم-9 موٹروے، سندھ کی معیشت، بنیادی ڈھانچہ، علاقائی مساوات
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleآذربائیجان میں فیفا انڈر⁦15⁩فٹبال ورلڈ کپ
Next Article تاجکستان کا دین اور ریاست⁦:⁩امن یا جبر کی کشمکش؟
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.