ایم-6:پنجاب کو موٹرویز، سندھ کو سنگِ بنیاد
پاکستان کی سمندری بندرگاہوں کو اندرونِ ملک شہروں، خشک بندرگاہوں اور منڈیوں سے ملانے والی موٹروے ابتدا ہی سے قومی ترجیح ہونی چاہیے تھی۔ مگر موٹرویز کا جال پنجاب میں پھیلتا رہا، جبکہ سندھ سے گزرنے والا اس کا لازمی رابطہ نامکمل رہا۔ سندھ یہ سوال پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ وفاقی حکومت بعض علاقوں کے لیے وسائل تلاش کر لیتی ہے، لیکن سندھ کو بار بار سرمایہ کاروں، مالی بندوبست اور سنگِ بنیاد کی ایک اور تقریب کا انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے؟
وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کی تشہیری تصاویر کے ساتھ معاوضے پر چلائے جانے والے اشتہارات اب سوشل میڈیا پر کثرت سے نظر آتے ہیں، جن میں طویل عرصے سے تاخیر کا شکار ایم-6موٹروے پر پیش رفت کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ ان اشتہارات کے مطابق70کروڑ50لاکھ امریکی ڈالر، یعنی تقریباً200ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اور نومبر2026ء میں سنگِ بنیاد رکھنے کے بعد روہڑی سے رانی پور تک تقریباً60کلومیٹر حصے کی تعمیر شروع ہوگی۔ تعمیر کا عملی آغاز یقیناً خوش آئند ہوگا۔ لیکن برسوں کے اعلانات کے بعد سندھ کے عوام کا زمینی کام دیکھ کر پیش رفت کا اندازہ لگانا بالکل بجا ہے۔
سکھر کے قریب روہڑی کو حیدرآباد کے قریب جامشورو سے ملانے والی306کلومیٹر طویل ایم-6، پشاور تا کراچی موٹروے راہداری کی ایک اہم نامکمل کڑی ہے۔ تقریباً400ارب روپے کی تخمینی لاگت والے اس منصوبے کو اطلاعات کے مطابق پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ تین حصوں کے لیے اسلامی ترقیاتی بینک اور اوپیک فنڈ سے مالی وسائل حاصل کر لیے گئے ہیں، جبکہ باقی دو حصے سرکاری و نجی شراکت داری یا تعمیر، آپریشن اور منتقلی، یعنی بی او ٹی، کے تحت بنانے کا منصوبہ ہے۔
سندھ سے گزرنے والے اس ناگزیر قومی رابطے کی تکمیل کے لیے اتنی طویل مالی تگ و دو کیوں درکار رہی ہے؟
ایم-6:اعلانات، سرمایہ کار اور تاخیر
ایم-6کے لیے2016ء میں اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ اطلاعات کے مطابق مالی مشکلات کے باعث2018ء میں منصوبہ سردخانے میں ڈال دیا گیا، جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی ایسا طریقہ تلاش کرتی رہی جس میں حکومت کو مالی وسائل فراہم نہ کرنا پڑیں۔ مختلف مراحل پر چائنا اسٹیٹ کنسٹرکشن انجینئرنگ کارپوریشن، شینڈونگ، ایف ڈبلیو او اور سائنو ہائیڈرو کے مشترکہ منصوبے، چائنا کمیونی کیشنز، ٹیکنو، سی ایم سی اور اے سی سی کے کنسورشیم، اٹلی کی سی ایم سی اور زیڈ کے بی سمیت مختلف کمپنیوں اور اتحادوں کی تجاویز سامنے آئیں۔ مگر ان کوششوں کے نتیجے میں تعمیر شروع نہ ہوسکی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے13دسمبر2022ء کو منصوبے کا سنگِ بنیاد رکھا، لیکن کام شروع نہیں ہوا۔ مارچ2025ء میں مالی وسائل اور سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے کے لیے منصوبے کو پانچ حصوں میں تقسیم کردیا گیا۔ اب ایک اور افتتاح کی تشہیر ہو رہی ہے، حالانکہ دو حصوں کے مالی بندوبست کی صورتِ حال اب بھی غیر یقینی ہے۔ کمپنیوں کے نام، تجاویز اور مالی طریقے بدلتے رہے، جبکہ سندھ کا انتظار طویل ہوتا گیا۔ اتنا طویل اور بے نتیجہ عمل یہ تاثر پیدا کرتا ہے کہ سرمایہ کاروں کی تلاش، موٹروے کی تعمیر کے بجائے وقت گزارنے کا ذریعہ بن گئی۔
ایم-9:ایک اور طویل انتظار کی کہانی
سندھ کراچی تا حیدرآباد ایم-9کے معاملے میں بھی ایسی ہی صورتِ حال دیکھ چکا ہے۔ ایم-9کے لیے1998ء میں اظہارِ دلچسپی کی درخواستیں طلب کی گئی تھیں۔ مختلف مراحل پر ملائیشیا کی بینا پوری ہولڈنگز، چائنا روڈ اینڈ برج کارپوریشن، سامبو، ایک ترک کمپنی، این ایل سی، ای او بی آئی اور دیگر اداروں کی تجاویز سامنے آئیں۔ لیکن ان تجاویز سے کوئی ایسا حتمی بندوبست نہ ہوسکا جس کے تحت تعمیر شروع ہوتی۔
صدر آصف علی زرداری نے مارچ2013ء میں سنگِ بنیاد رکھا، مگر کام شروع نہ ہوا۔ مارچ2015ء میں وزیراعظم نواز شریف کے دور میں دوسری بار سنگِ بنیاد رکھا گیا، جس کے بعد ایف ڈبلیو او نے بی او ٹی کے تحت تعمیر شروع کی۔ پہلی بار اظہارِ دلچسپی طلب کرنے سے عملی کام کے آغاز تک تقریباً17سال گزر چکے تھے۔ عوام کے لیے تجاویز، مذاکرات اور تقریبات کا یہ مسلسل سلسلہ بے نتیجہ رہا۔ وقت گزرتا گیا، مگر سندھ ایک ضروری سفری اور تجارتی رابطے کا منتظر رہا۔
ایم-9کی تکمیل کے بعد بھی اس کے ڈیزائن، معیار اور بھاری تجارتی ٹریفک کے لیے موزونیت پر سوالات برقرار رہے۔ بعد میں کراچی اور حیدرآباد کے درمیان ایک الگ موٹروے، جسے ایم-10کہا گیا، کی تجاویز نے ایک اور سوال کھڑا کردیا:اس اہم راستے کو ابتدا ہی میں مناسب معیار کے مطابق کیوں نہیں بنایا گیا؟
پنجاب کی موٹرویز اور سندھ کا سوال
دوسری طرف پنجاب کو مکمل یا جزوی طور پر آٹھ فعال موٹرویز کی سہولت میسر ہے:ایم-1، ایم-2، ایم-3، ایم-4، ایم-5، ایم-11، ایم-14اور ایم-15۔ مزید منصوبوں، بشمول ایم-12اور ایم-13، پر بھی پیش رفت کی گئی ہے۔ ان کے علاوہ لاہور، ساہیوال اور بہاول نگر کو ملانے والا مرحلہ وار منصوبہ اور سیالکوٹ سے کرتارپور تک مجوزہ گرو نانک ایکسپریس وے بھی شامل ہیں۔
پنجاب کے عوام اچھی سڑکوں کے حق دار ہیں۔ سندھ کے عوام بھی اسی توجہ اور عزم کے حق دار ہیں۔ اس کی معاشی منطق واضح ہے۔ کراچی کی سمندری بندرگاہوں سے وہ تجارت گزرتی ہے جس کی منزل اندرونِ ملک صنعتیں، کھیت، شہر، خشک بندرگاہیں اور منڈیاں ہیں۔ اس لیے ان بندرگاہوں سے موٹروے کے رابطے کی تکمیل قومی ٹرانسپورٹ منصوبہ بندی کا مرکزی نکتہ ہونی چاہیے تھی۔ اس کے برعکس اندرونِ ملک طویل حصے فعال ہوگئے، جبکہ جنوبی راہداری نامکمل رہی۔
پنجاب کے عوام اچھی سڑکوں کے حق دار ہیں۔ سندھ کے عوام بھی اسی توجہ اور عزم کے حق دار ہیں۔
وفاقی ذمہ داری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم
جب پنجاب کو فائدہ پہنچانے والے منصوبوں کے لیے وسائل دستیاب دکھائی دیں، مگر سندھ کے ضروری رابطے کو بار بار نئے مالی طریقوں اور ٹھیکے دینے کی نئی کوششوں سے مشروط کیا جائے، تو امتیازی سلوک کا احساس بڑھتا ہے۔ وفاقی حکومت ان فیصلوں کی وضاحت کیے بغیر اس احساس کو رد نہیں کرسکتی جنہوں نے اسے جنم دیا۔
سندھ کو سنگِ بنیاد نہیں، مکمل موٹروے چاہیے
ایم-6کی تکمیل ایک قومی ذمہ داری ہے۔ وفاقی حکومت کو پوری موٹروے کے لیے مالی وسائل یقینی بنانے، تعمیر کا قابلِ اعتماد نظام الاوقات جاری کرنے اور اس کی تکمیل کی ذمہ داری قبول کرنے کی ضرورت ہے۔ سندھ پاکستان کا برابر کا حصہ ہے۔ اس کے عوام کو یہ برابری سرکاری سرمایہ کاری، محفوظ سڑکوں اور مکمل منصوبوں کی صورت میں محسوس ہونی چاہیے۔
سنگِ بنیاد کا ایک اور پتھر سندھ کی شکایت کا جواب نہیں بن سکتا۔ مکمل موٹروے بن سکتی ہے۔
