مغربی کنارے میں آبادکاروں کے حملے،10مشتبہ افراد گرفتار
امریکی صحافی شدید زخمی، فلسطینی مسیحی گاؤں کا دورہ کرنے والے یورپی سفارت کار بھی مبینہ حملے کا نشانہ بنے؛ اسرائیلی سکیورٹی اداروں کی مشترکہ کارروائی
اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے پیر کی صبح یہودیہ و سامریہ، جسے مغربی کنارہ بھی کہا جاتا ہے، میں پُرتشدد حملوں کے سلسلے کے بعد10مشتبہ افراد کو گرفتار کر لیا، جن میں ایک امریکی صحافی شدید زخمی ہوئی جبکہ فلسطینی مسیحی گاؤں کا دورہ کرنے والے یورپی سفارت کاروں کو بھی مبینہ طور پر نشانہ بنایا گیا۔
یہ گرفتاریاں ’’آپریشن اولیو لیف‘‘ کے نام سے کی جانے والی ایک مربوط کارروائی کے دوران عمل میں آئیں، جس میں اسرائیلی پولیس، داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت، سرحدی پولیس اور اسرائیلی دفاعی افواج شامل تھیں۔ حکام نے یروشلم کے شمال میں واقع بنیامین کے علاقے میں مختلف مقامات پر چھاپے مارے اور ایسی گاڑیاں اور شواہد قبضے میں لیے جن کے بارے میں شبہ ہے کہ ان کا حملوں سے تعلق تھا۔
یہ کارروائی جمعے کو امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن پر ہونے والے حملے کے بعد کی گئی، جو ابو فلاح کے قریب فلسطینیوں کی زیتون کی فصل کی کٹائی کی کوریج کر رہی تھیں، جب مبینہ طور پر نقاب پوش اسرائیلی آبادکاروں نے ان پر حملہ کیا۔ لیوائن کی پسلیاں اور ریڑھ کی ہڈی کے مہرے ٹوٹ گئے، جبکہ ہاتھ پر لگنے والی چوٹوں کے علاج کے لیے ان کی سرجری بھی کی گئی۔
ہفتے کے روز نقاب پوش آبادکاروں کے ایک دوسرے گروہ نے مبینہ طور پر فرانس، بیلجیم اور پولینڈ کے یورپی سفارت کاروں پر حملہ کیا، جو اکثریتی مسیحی آبادی والے فلسطینی گاؤں طیبیہ کا دورہ کر رہے تھے۔ اس واقعے میں بیلجیم کی ایک سفارتی گاڑی کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
امریکی سفیر کی شدید مذمت
اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی نے لیوائن پر حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ’’نقاب پوش بزدلوں کی جانب سے کیا گیا دہشت گردی کا ایک قابلِ مذمت فعل‘‘ قرار دیا اور مطالبہ کیا کہ ذمہ داروں کو طویل قید کی سزائیں دی جائیں۔
اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے بھی تشدد کی مذمت کی، جبکہ وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس بات پر زور دیا کہ سفارتی وفد نے اسرائیلی فوجی حکام کے ساتھ رابطہ اور ہم آہنگی کیے بغیر ایک حساس علاقے میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔
اسرائیلی پولیس کے سربراہ ڈینی لیوی نے زور دیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مشتبہ افراد کی شناخت یا وابستگی سے قطع نظر غیر جانب دارانہ انداز میں کارروائی کرنی چاہیے۔
یہ گرفتاریاں ایسے وقت میں عمل میں آئی ہیں جب زیتون کی سالانہ فصل کی کٹائی کے دوران تشدد کے واقعات پر بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے، جس سے اسرائیلی حکام پر ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے اور اس کے ساتھ ساتھ یہودیہ و سامریہ میں سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے دباؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔
