فرانس میں پُرتشدد مظاہرے، بین الاقوامی ایکٹوسٹ نیٹ ورکس کے کردار پر سوالات
امریکی تحقیقات میں بائیں بازو کی تنظیموں اور سرگرم میڈیا نیٹ ورکس کا ذکر؛ فرانس میں جلاؤ گھیراؤ، پولیس پر حملوں اور یہودی برادری کے تحفظات پر تشویش
فرانس میں صدارتی انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی اور پُرتشدد مظاہروں کے پس منظر میں بائیں بازو کی متعدد تنظیموں اور سرگرم میڈیا اداروں کے بین الاقوامی روابط توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کی تحقیقات کے مطابق، امریکہ میں اسرائیل مخالف مظاہروں کی تشہیر کرنے والے بعض نیٹ ورکس اب فرانس میں بڑھتی ہوئی احتجاجی تحریک کو بھی نمایاں کر رہے ہیں۔ فرانس کے مختلف شہروں میں گاڑیوں کو آگ لگانے، کاروباری مراکز میں لوٹ مار اور پولیس پر حملوں سمیت تشدد کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔
امریکی نیوز ادارے Just the News کی ایک تحقیق میں شنگھائی میں مقیم امریکی ٹیکنالوجی ارب پتی نیویل رائے سنگھم (Neville Roy Singham) سے منسلک تنظیموں کا جائزہ لیا گیا ہے۔ سنگھم کی جانب سے سوشلسٹ اور اسرائیل مخالف سرگرم نیٹ ورکس کی مبینہ مالی معاونت امریکی کانگریس کے تفتیش کاروں کی توجہ حاصل کر چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، وہی سرگرم میڈیا نیٹ ورک جس نے حماس کے خلاف اسرائیل کی جنگ کے دوران مظاہروں کی تشہیر کی، اب فرانس میں پھیلتی ہوئی احتجاجی تحریک کی ویڈیوز اور بیانیے بھی آگے بڑھا رہا ہے۔
فرانس میں احتجاجی تحریک کا آغاز ستمبر کے اواخر میں طلبہ کے مظاہروں سے ہوا، جن میں اسکولوں کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال، اساتذہ کی کمی اور کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبہ کی موجودگی جیسے مسائل اٹھائے گئے۔ تاہم، یہ تحریک تیزی سے پھیل کر ملک گیر احتجاج میں تبدیل ہو گئی، جس میں مزدور یونینوں، کمیونسٹ تنظیموں، بنیاد پرست بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں اور فلسطین کے حامی کارکنوں نے بھی حصہ لیا۔
Fox News Digital کی ایک الگ تحقیق میں50ایسی تنظیموں کی نشاندہی کی گئی جو ان مظاہروں میں شریک تھیں یا ان کی تشہیر کر رہی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان میں سے صرف15طلبہ یا نوجوانوں کی تنظیمیں تھیں۔ باقی میں12مزدور یونینیں، آٹھ کمیونسٹ یا سوشلسٹ تنظیمیں، سیاسی جماعتیں اور فلسطینیوں کی حمایت کرنے والے گروہ شامل تھے۔
مظاہروں سے متعلق رپورٹ میں بیان کردہ اعدادوشمار
ماخذ: Fox News Digital کی تحقیق، جیسا کہ فراہم کردہ مضمون میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ اعدادوشمار متعلقہ رپورٹ سے منسوب ہیں؛ انہیں تمام مظاہرین کی سیاسی وابستگی کا مکمل احاطہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
امریکی ایکٹوسٹ نیٹ ورک اور فرانس کی تحریک
ان تنظیموں میں نیویارک میں قائم میڈیا ادارہ BreakThrough News بھی شامل ہے، جسے سنگھم کے مالی معاونتی نیٹ ورک سے منسلک بتایا جاتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس ادارے نے فرانسیسی مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کی ویڈیوز نشر کیں، احتجاج کو حکومتی کفایت شعاری کی پالیسیوں کے خلاف وسیع تر عوامی بغاوت کے طور پر پیش کیا اور مختلف ممالک میں نوجوانوں کے اسی نوعیت کے مظاہروں کی تشہیر کی۔
سنگھم نے2017میں اپنی سافٹ ویئر کمپنیThoughtWorksفروخت کی تھی، جس کے بعد وہ شنگھائی منتقل ہو گئے۔ چینی کمیونسٹ پارٹی سے ہم آہنگ تنظیموں کے ساتھ ان کے روابط پر بھی توجہ دی جاتی رہی ہے۔ امریکی کانگریس کے ریپبلکن ارکان نے اس امکان کی تحقیقات کی ہیں کہ آیا ان سے منسلک نیٹ ورک ایسی امریکی تنظیموں کو مالی معاونت فراہم کرتا ہے جو بیجنگ کے لیے سازگار بیانیے کو فروغ دیتی ہیں۔
2026 میں ایوانِ نمائندگان کی نگرانی سے متعلق کمیٹی نے سنگھم کو سمن جاری کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ کانگریسی تفتیش کاروں نے ان کے مالی نیٹ ورک سے منسلک بعض غیر منافع بخش تنظیموں کا بھی جائزہ لیا ہے۔ ان تحقیقات نے امریکی سیاسی سرگرمیوں میں غیر ملکی اثرورسوخ کے ممکنہ کردار کے بارے میں سوالات اٹھائے ہیں۔
اہم فرق:روابط اور براہِ راست مالی معاونت
فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق، سنگھم سے منسلک تنظیموں اور ان کے سیاسی بیانیوں کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم، دستیاب عوامی رپورٹنگ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ سنگھم نے فرانس کے فسادات کی مالی معاونت کی یا چینی حکومت نے ان پُرتشدد واقعات کی ہدایت دی۔ کسی تنظیم کی جانب سے مظاہروں کی تشہیر، اس کی مالی معاونت اور احتجاجی تشدد کو براہِ راست منظم کرنا الگ الگ دعوے ہیں، جن کے لیے الگ شواہد درکار ہوتے ہیں۔
فرانس میں مظاہروں نے پُرتشدد رخ اختیار کر لیا
احتجاجی تحریک نے17اکتوبر کو ایک خطرناک موڑ اختیار کیا، جب لاکھوں افراد پر مشتمل بتائے جانے والے مظاہروں کے دوران مختلف مقامات پر تشدد پھیل گیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے حوالے سے فراہم کردہ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ بلوائیوں نے گاڑیوں کو آگ لگائی، کاروباری مراکز میں لوٹ مار کی، پولیس اہلکاروں پر حملے کیے اور شہر لیموج(Limoges)کے تاریخی سٹی ہال کو آگ لگا دی۔
فرانسیسی حکام نے ابتدائی طور پر1,200سے زیادہ گرفتاریوں اور پولیس کے150سے زائد اہلکاروں کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ فراہم کردہ مضمون کے مطابق، بعد کی اطلاعات میں یہ تعداد مزید بڑھ گئی۔ ان اعدادوشمار کی حتمی تصدیق کے لیے متعلقہ تاریخوں کی سرکاری تفصیلات اور تازہ رپورٹوں سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
فرانسیسی وزیرِاعظم سباستیاں لیکورنو (Sébastien Lecornu) نے انتہائی بائیں بازو کے انتہا پسند عناصر پر الزام لگایا کہ انہوں نے جائز احتجاج کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ صدر ایمانوئل میکرون نے تباہی کے ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا عزم ظاہر کیا۔
اگرچہ بہت سے مظاہرین نے پُرامن طور پر احتجاج کیا، تاہم تشدد نے فرانس میں بڑھتی ہوئی سیاسی تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے۔ معاشی مشکلات، انتہا پسند سیاسی سرگرمیوں، امیگریشن سے متعلق اختلافات اور بڑھتی ہوئی یہود دشمنی جیسے معاملات ملک میں شدید بحث کا موضوع بن چکے ہیں۔
تشدد سے متعلق رپورٹ میں بیان کردہ واقعات
یہ واقعات فراہم کردہ مضمون میں رائٹرز اور فرانسیسی حکام سے منسوب اطلاعات کی بنیاد پر بیان کیے گئے ہیں۔
یہودی برادری میں انتہا پسندی کے خدشات
مظاہروں کے دوران فلسطینی پرچموں کے ساتھ کمیونسٹ بینروں کی موجودگی نے بعض مبصرین کے ان خدشات کو بڑھایا ہے جنہیں وہ ’’ریڈ گرین الائنس‘‘ (Red-Green Alliance) کہتے ہیں۔ یہ اصطلاح بنیاد پرست بائیں بازو کے بعض عناصر اور اسلام پسند سیاسی تحریکوں کے درمیان مشترکہ سیاسی مقاصد کے لیے تعاون کے تصور کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔ تاہم، اس اصطلاح کا استعمال بذاتِ خود یہ ثابت نہیں کرتا کہ مختلف گروہ کسی ایک منظم اتحاد کے تحت کام کر رہے ہیں۔
Fox News کی رپورٹ کے مطابق، فسادات کے دوران سکیورٹی خدشات کے باعث بعض یہودی عبادت گاہوں نے سبت کی دوپہر کی عبادات منسوخ کر دیں، جبکہ کمیونٹی کے بعض افراد کو مشورہ دیا گیا کہ وہ اپنی یہودی شناخت کی نمایاں علامات چھپا کر رکھیں۔
فرانس کے یہودی رہنماؤں نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتی ہوئی یہود دشمنی نہ صرف یہودی برادری کے لیے خطرہ ہے بلکہ فرانس کی جمہوری اقدار اور معاشرتی ہم آہنگی کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ فرانس یورپ کی سب سے بڑی یہودی برادریوں میں سے ایک کا گھر ہے، اس لیے وہاں سیاسی تشدد اور یہود دشمنی کے خدشات خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
فراہم کردہ مضمون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ فسادات بنیادی طور پر یہودیوں یا اسرائیل کے خلاف شروع نہیں ہوئے تھے۔ تاہم، موجودہ بے چینی نے فرانسیسی یہودیوں میں ملک کے سیاسی مستقبل اور ان کے تحفظ کے بارے میں پہلے سے موجود خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
2027 کے صدارتی انتخابات سے پہلے سیاسی دباؤ
فرانس2027کے صدارتی انتخابات کی جانب بڑھ رہا ہے اور ملک میں بنیاد پرست سیاسی تحریکوں کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے ساتھ بین الاقوامی سرگرم نیٹ ورکس کے روابط بھی حکام کی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ امریکہ اور یورپ میں اس بات پر بحث جاری ہے کہ ایسے نیٹ ورکس مقامی شکایات کو کس حد تک عالمی سیاسی مہمات میں تبدیل کرتے ہیں۔
یہ بحث ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فرانس میں معاشی مسائل، سرکاری خدمات پر دباؤ، امیگریشن، قومی شناخت اور مذہبی و نسلی اقلیتوں کے تحفظ سے متعلق اختلافات سیاسی منظرنامے پر نمایاں ہیں۔ ان معاملات پر احتجاج کرنے والے تمام افراد کو ایک ہی نظریاتی گروہ یا تشدد کے حامیوں کے طور پر دیکھنا درست نہیں ہوگا؛ مظاہروں میں شرکت، ان کی تشہیر اور پُرتشدد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے درمیان فرق برقرار رکھنا ضروری ہے۔
فرانس سے آگے پھیلتا بین الاقوامی سرگرم نیٹ ورک
Fox News کی19اکتوبر کی ایک مزید رپورٹ نے اس کی تحقیقات کا دائرہ بڑھاتے ہوئے54تنظیموں کا ذکر کیا، جبکہ20اکتوبر کی ایک تحقیق میں نو ممالک میں پھیلے101تنظیموں کے وسیع تر نیٹ ورک کی نشاندہی کی گئی۔
Fox News کے مطابق، کمیونسٹ اور سوشلسٹ نوجوانوں کی28تنظیموں پر مشتمل ایک اتحاد نومبر میں12یورپی ممالک میں مربوط مظاہروں کی تیاری کر رہا تھا۔ اگر یہ منصوبے اسی انداز میں آگے بڑھتے ہیں جس طرح رپورٹ میں بیان کیے گئے ہیں تو فرانس میں جاری بے چینی سے آگے بھی بین الاقوامی سطح پر احتجاجی سرگرمیاں جاری رہ سکتی ہیں۔
اس معاملے میں تین بنیادی سوالات
- کون سی تنظیمیں مظاہروں میں براہِ راست شریک تھیں، اور کون سی صرف ان کی تشہیر کر رہی تھیں؟
- مالی معاونت اور تنظیمی روابط کے بارے میں کون سے دعوے دستاویزی شواہد سے ثابت ہوتے ہیں؟
- کیا کسی نیٹ ورک کے مظاہروں کو براہِ راست منظم کرنے یا تشدد کی ہدایت دینے کے شواہد موجود ہیں؟
