• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » شہزادی ریما کا حوثیوں کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ
تازہ ترین

شہزادی ریما کا حوثیوں کے خلاف عالمی کارروائی کا مطالبہ

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹراکتوبر 28, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

"`html

مشرقِ وسطیٰ⁦|⁩علاقائی سلامتی

شہزادی ریما کی حوثیوں کے خلاف عالمی کارروائی کی اپیل، علاقائی سلامتی کو خطرات سے خبردار

سعودی سفیر نے نیویارک ٹائمز میں اپنے مضمون میں حوثی تحریک کے مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے، اسلحے کی اسمگلنگ روکنے اور باب المندب کی سلامتی کے لیے بین الاقوامی تعاون پر زور دیا۔

امریکہ میں سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر آل سعود نے حوثی تحریک کی سرگرمیوں کو علاقائی سلامتی، عالمی تجارت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ اس گروہ کے عسکری اور مالیاتی نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جائیں۔

منگل کے روز امریکی اخبار دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والے ایک رائے پر مبنی مضمون میں شہزادی ریما نے حوثیوں کے خلاف اسی نوعیت کے بین الاقوامی عزم پر زور دیا جس کے ذریعے، ان کے بقول، ماضی میں دیگر دہشت گرد تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کی گئی تھیں۔

شہزادی ریما نے حوثی تحریک کو ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم قرار دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس کی قیادت نے برسوں کے دوران اپنا عسکری نیٹ ورک مضبوط کیا، امن معاہدوں کی خلاف ورزی کی اور جنگ بندیوں سے فائدہ اٹھا کر دوبارہ اسلحہ جمع کیا۔ یہ الزامات ان کے مضمون میں پیش کیے گئے مؤقف کا حصہ ہیں۔

سعودی عرب پر میزائل اور ڈرون حملوں کا دعویٰ

شہزادی ریما کے مطابق، حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے تقریباً دو دہائیوں کے دوران ایران کی حمایت سے ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا۔ انہوں نے اپنے مضمون میں لکھا کہ مارچ⁦2016⁩سے حوثیوں نے سعودی عرب کی سمت ایک ہزار سے زیادہ بیلسٹک میزائل اور ڈرون داغے۔

سعودی سفیر نے مؤقف اختیار کیا کہ حوثیوں کا خطرہ صرف سعودی عرب اور یمن تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق، باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی عالمی تجارت کے لیے سنگین خدشات پیدا کرتی ہے، کیونکہ ان کے مضمون کے مطابق دنیا کی تقریباً⁦10⁩فیصد تجارت اس اہم بحری راستے سے گزرتی ہے۔

باب المندب کی اہمیت: یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحرِ ہند سے ملانے والے اہم سمندری راستے کا حصہ ہے۔ اس علاقے میں سلامتی کی خرابی بحری نقل و حمل، تجارتی ترسیل اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔

تیل کی قیمتوں اور توانائی کی منڈیوں پر اثرات

شہزادی ریما نے اپنے مضمون میں دعویٰ کیا کہ اسی ماہ سعودی توانائی کی تنصیبات پر حملوں کے باعث تیل کی قیمتیں⁦100⁩ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئیں۔ ان کے مطابق، حوثیوں کی سرگرمیوں اور بحری راستوں کو درپیش خطرات کے اثرات علاقائی حدود سے باہر بھی محسوس کیے جاسکتے ہیں۔

توانائی کی منڈیوں پر کسی مخصوص حملے کے اثرات کا تعین کرتے وقت دیگر عوامل، عالمی طلب و رسد اور جغرافیائی سیاسی صورتِ حال کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ شہزادی ریما نے اپنے مضمون میں حوثیوں کی کارروائیوں کو ان خدشات کے اہم اسباب میں شمار کیا۔

یمن کی حکومت کی حمایت اور فوجی کارروائیاں

سعودی عرب نے⁦2015⁩سے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت کی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعاء پر قبضہ کرلیا تھا۔ سعودی عرب یمن کے بڑے انسانی امدادی عطیہ دہندگان میں بھی شامل ہے۔

شہزادی ریما کے مضمون کے مطابق، یمنی حکومتی فورسز بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں، الجوف اور مأرب میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جنہیں سعودی فضائی معاونت بھی حاصل ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کارروائیوں کے دوران حوثیوں کے لیے بھیجے جانے والے⁦750⁩ٹن سے زیادہ اسلحے کو قبضے میں لیا گیا۔

یہ دعوے سعودی سفیر کے مضمون میں بیان کیے گئے ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق کے لیے متعلقہ یمنی حکام یا دیگر معتبر ذرائع کی اطلاعات کا جائزہ ضروری ہوگا۔

حوثیوں کی جنگی معیشت ختم کرنے کا مطالبہ

شہزادی ریما نے کہا کہ حوثیوں کے خلاف کارروائی صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ ان کے مالیاتی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے مبینہ بھتہ خوری کے نیٹ ورکس، فرنٹ کمپنیوں اور مالی وسائل کے دیگر ذرائع کو ختم کرنے پر زور دیا۔

ان کے مطابق، سعودی عرب نے اپنے مالیاتی نظام کو حوثیوں اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے استعمال سے روکنے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ پابندیوں کے نفاذ میں تعاون کر رہی ہے اور یمن کی حکومت کی جانب سے اسلحے اور رقوم ضبط کرنے کی کوششوں کی حمایت کرتی ہے۔

سعودی سفیر نے دیگر ممالک سے بھی اپیل کی کہ وہ حوثیوں کی مالی معاونت کے ذرائع بند کریں، سمندری راستوں سے اسلحے کی اسمگلنگ روکیں اور یمنی حکومت کو اپنی سلامتی اور سیاسی ترجیحات کے حصول کے لیے درکار مدد فراہم کریں۔

حوثیوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیل

شہزادی ریما نے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثی تحریک کو دہشت گرد تنظیم قرار دیں۔ انہوں نے اپنے مضمون میں کہا کہ امریکہ پہلے ہی یہ اقدام کرچکا ہے اور دوسرے ممالک کو بھی اسی سمت آگے بڑھنا چاہیے۔

دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی قانونی حیثیت اور اس کے نتائج ہر ملک کے قوانین اور متعلقہ سرکاری فیصلوں پر منحصر ہوتے ہیں۔ ایسے فیصلوں سے پابندیوں، مالیاتی لین دین اور تنظیم سے وابستہ افراد یا اداروں کے خلاف قانونی اقدامات پر اثر پڑ سکتا ہے۔

شہزادی ریما نے حوثیوں پر بچوں کی نظریاتی تربیت اور انہیں جنگ میں استعمال کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔ ان کے مطابق، دس سال کی عمر کے بچوں سمیت طلبہ کو ایسے نعرے لگانے پر مجبور کیا جاتا ہے جن میں ’’امریکہ مردہ باد‘‘ کا مفہوم شامل ہے، جبکہ ہزاروں بچوں کو لڑائی میں بھیجا گیا۔

بچوں کو مسلح تنازعات میں بھرتی کرنا اور استعمال کرنا بین الاقوامی انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ سے متعلق سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔ تاہم مضمون میں بیان کردہ مخصوص تعداد اور واقعات کی تصدیق کے لیے آزاد شواہد اور معتبر نگرانی کرنے والے اداروں کی رپورٹس اہم ہوں گی۔

داعش سے موازنہ اور عالمی اتحاد کی اپیل

شہزادی ریما نے حوثی تحریک کا موازنہ داعش سے کیا، خصوصاً اس دور سے جب داعش نے عراق کے شہر موصل پر قبضہ کیا اور نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا۔ ان کے مطابق، عالمی برادری کو حوثیوں کے خطرے کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے استدلال کیا کہ حوثیوں کو شکست دینے کے لیے یمن کی قیادت میں، بین الاقوامی حمایت سے چلنے والی مہم درکار ہوگی، جس کی مثال انہوں نے داعش کے خلاف قائم کیے گئے اتحاد سے دی۔

اس مؤقف کے تحت شہزادی ریما نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کی مالی معاونت روکیں، سمندر کے راستے اسلحے کی اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کو ختم کریں اور یمن کی حکومت کو مزید مؤثر مدد فراہم کریں۔

سیاسی حل کے لیے مسلح مہم کا خاتمہ ضروری قرار

شہزادی ریما کے مطابق، یمن میں پائیدار سیاسی تصفیے تک پہنچنے کے لیے حوثیوں کی مسلح مہم کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے خیال میں، جب تک اس گروہ کے عسکری وسائل، مالیاتی ذرائع اور بیرونی معاونت کے نیٹ ورکس پر قابو نہیں پایا جاتا، امن کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔

تاہم یمن کے تنازعے کا سیاسی حل صرف عسکری دباؤ پر منحصر نہیں ہوگا۔ پائیدار تصفیے کے لیے یمنی فریقوں کے درمیان مذاکرات، شہریوں کا تحفظ، انسانی امداد کی رسائی اور علاقائی طاقتوں کے درمیان رابطہ کاری بھی اہم عوامل ہیں۔

شہزادی ریما کا مضمون سعودی عرب کے اس مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ حوثیوں کی سرگرمیاں علاقائی سلامتی اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ ہیں اور اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے وسیع بین الاقوامی تعاون درکار ہے۔ اس کے ساتھ، یمن میں دیرپا امن کے امکانات کا جائزہ لیتے وقت عسکری اقدامات کے علاوہ سفارتی اور انسانی پہلوؤں کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔

شہزادی ریما بنت بندر، سعودی عرب، حوثی، یمن، باب المندب، بحیرہ احمر، ایران، علاقائی سلامتی، عالمی تجارت، توانائی کی منڈی
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleعبدالسید نے القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت پر امریکی کارروائی کو تنقید کا نشانہ بنایا
Next Article آرٹس کونسل کراچی میں تیسرا عالمی ثقافتی میلہ 
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

ہیلے اسٹیونز نے مائیک راجرز کی حمایت کر دی

نومبر 3, 2026
Add A Comment
Leave A Reply Cancel Reply

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.