نیویارک اُردو|ثقافت و فنونِ لطیفہ
کراچی میں تیسرا عالمی ثقافتی میلہ: 150 ملکوں کے فنکار، فن کے ذریعے امن کا پیغام
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں29اکتوبر سے22نومبر تک جاری رہنے والے ورلڈ کلچر فیسٹیول میں ایک ہزار سے زائد بین الاقوامی اور500سے زیادہ پاکستانی فنکار شریک ہوں گے۔
کراچی ایک بار پھر عالمی ثقافتوں کے سنگم میں تبدیل ہونے جا رہا ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کا تیسرا ورلڈ کلچر فیسٹیول فنونِ لطیفہ، بین الاقوامی مکالمے اور ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے دنیا کو قریب لانے کی ایک بڑی کوشش ہے۔
پاکستان مختلف تہذیبوں، زبانوں، روایات اور فنون سے مالامال ملک ہے، جبکہ اس کا سب سے بڑا شہر کراچی اس تنوع کی نمایاں تصویر پیش کرتا ہے۔ ملک کے تقریباً ہر خطے سے تعلق رکھنے والے لوگ اس شہر میں آباد ہیں۔ اسی لیے کراچی کو بجا طور پر ’’منی پاکستان‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں مختلف ثقافتیں ایک دوسرے سے ملتی ہیں، زبانیں ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارتی ہیں اور فن و ادب کے کئی رنگ ایک ہی شہری فضا میں سانس لیتے ہیں۔
کراچی میں ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے متعدد ادارے کام کر رہے ہیں، لیکن آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ یہاں سال بھر ادب، موسیقی، تھیٹر، شاعری، کتابوں کی رونمائی، مکالموں، شخصیات سے گفتگو اور فنونِ لطیفہ کی مختلف اصناف پر پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں اس ادارے نے اپنی سرگرمیوں کو مقامی دائرے سے نکال کر عالمی سطح تک وسعت دی ہے۔

29 اکتوبر سے22نومبر تک عالمی ثقافتوں کا جشن
آرٹس کونسل کراچی میں تیسرے ورلڈ کلچر فیسٹیول2026کا آغاز جمعرات،29اکتوبر کو ہو رہا ہے، جو22نومبر تک جاری رہے گا۔ منتظمین کے مطابق اس میلے میں امریکہ، ایران، عراق، فلسطین اور لاطینی امریکہ سمیت دنیا کے تقریباً150ملکوں سے ایک ہزار سے زائد فنکار شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ500سے زیادہ پاکستانی فنکار بھی تین ہفتوں سے زائد جاری رہنے والے اس ثقافتی اجتماع میں اپنے فن کا مظاہرہ کریں گے۔
دنیا کے مختلف حصوں میں جنگوں اور تنازعات کے باوجود چھ براعظموں سے فنکاروں کی شرکت اس میلے کو خصوصی اہمیت دیتی ہے۔ تھیٹر، رقص، موسیقی، بصری فنون، فلم، ورکشاپس، ٹاک شوز، نمائشوں، اسکریننگ، قصہ گوئی اور مختلف پرفارمنسز کے ذریعے شرکا اپنے اپنے معاشروں کی ثقافتی شناخت پیش کریں گے۔
فیسٹیول کی نمایاں جھلکیاں
- تقریباً150ملکوں سے فنکاروں کی شرکت
- ایک ہزار سے زائد بین الاقوامی فنکار
- 500 سے زیادہ پاکستانی فنکار
- تین ہفتوں سے زائد ثقافتی سرگرمیاں
- تھیٹر، موسیقی، رقص، فلم، مصوری اور ثقافتی مکالمے
- تقریباً80فیصد پروگرام مفت، تاہم پیشگی رجسٹریشن ضروری
یہ اس نوعیت کا تیسرا عالمی ثقافتی میلہ ہے۔ پہلے فیسٹیول کا انعقاد2024میں ہوا، جس میں43ملکوں کے فنکاروں نے شرکت کی۔ دوسرے فیسٹیول میں شریک ممالک کی تعداد بڑھ کر144ہو گئی، جبکہ رواں برس منتظمین کا ہدف تقریباً150ملکوں کے فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا ہے۔ تیس سے زائد ملکوں کے فنکار تھیٹر، موسیقی، مصوری اور رقص کے فن پارے بھی پیش کریں گے۔

ایک خاموش ادارے سے شہر کی ثقافتی دھڑکن تک
آرٹس کونسل کراچی کی موجودہ رونق اور سرگرمیوں کو سمجھنے کے لیے اس کے ماضی پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ ایک زمانہ تھا جب شام پانچ بجے اس کے دروازے بند ہو جاتے تھے اور دن کے وقت بھی خاص چہل پہل دکھائی نہیں دیتی تھی۔ کبھی کبھار تصویری نمائش منعقد ہو جاتی، مگر مجموعی طور پر ادارے پر جمود طاری محسوس ہوتا تھا۔ یہاں مخصوص حلقوں کے افراد ہی زیادہ نظر آتے تھے۔
اس صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش تقریباً ایک چوتھائی صدی پہلے شروع ہوئی۔1997میں صحافیوں کے ایک گروپ نے آرٹس کونسل کی رکنیت حاصل کی اور انتخابی عمل میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جاوید صبا، سرور جاوید، منصور زبیری اور دیگر ساتھیوں نے اس کوشش میں حصہ لیا۔ ابتدا میں کامیابی کے امکانات کم دکھائی دیتے تھے، لیکن ان دوستوں کا مقصد انتخابی عمل کو زندہ رکھنا اور ادارے میں تبدیلی کی راہ کھولنا تھا۔
بعد کے برسوں میں ادریس بختیار، قیصر محمود، فیضان دادا، معین الحق، سیف الرحمٰن گرامی، سرور جاوید اور دیگر اہلِ قلم کے درمیان ہونے والی گفتگو نے اس عمل کو مزید تقویت دی۔ ایس ایچ ہاشمی مرحوم اور سیف الرحمٰن گرامی نے انتخابی عمل میں حصہ لے کر ادارے میں جمود توڑنے کی کوشش کی۔ بڑے آڈیٹوریم کی تعمیر، ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ اور ادارے کی رونق بحال کرنے کی سمت میں اقدامات کیے گئے۔ محمد احمد شاہ بھی اسی ٹیم کا حصہ بنے۔

محمد احمد شاہ کی قیادت اور آرٹس کونسل کی نئی شناخت
ایس ایچ ہاشمی اور سیف الرحمٰن گرامی سے شروع ہونے والی کوششوں کا سفر مختلف مراحل سے گزرتا ہوا محمد احمد شاہ کی قیادت میں ایک نئی شکل اختیار کر گیا۔ ان کی فعال قیادت، مسلسل محنت اور ثقافتی سرگرمیوں کے لیے واضح وژن نے آرٹس کونسل کو علم و فنون کے ایک نمایاں مرکز میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
آج آرٹس کونسل میں ایک ہی دن میں کئی پروگرام منعقد ہوتے ہیں۔ مختلف آڈیٹوریمز، سیمینار ہالز اور کانفرنس کی جگہوں پر ادب، موسیقی، تھیٹر اور دیگر موضوعات پر تقریبات جاری رہتی ہیں۔ بیرون ملک سے ادیبوں، شاعروں، فنکاروں، کھلاڑیوں اور ثقافتی نمائندوں کو مدعو کیا جاتا ہے۔ آرٹس کونسل کی سرگرمیاں کراچی تک محدود نہیں رہیں بلکہ پاکستان کے دوسرے شہروں اور بیرون ملک بھی ثقافتی پروگرام منعقد کیے جا رہے ہیں۔
محمد احمد شاہ کی کوششوں نے آرٹس کونسل کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں مدد دی ہے۔ ثقافت کے ذریعے معاشروں کو جوڑنے، مختلف ملکوں کے فنکاروں کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور پاکستان کے بارے میں براہِ راست تجربے کے مواقع پیدا کرنے کی یہ کوشش انہیں پاکستان کے نمایاں ثقافتی سفیروں میں شامل کرتی ہے۔
ثقافت کی زبان سرحدوں سے آگے جاتی ہے؛ فنکار جب ایک ہی اسٹیج پر ملتے ہیں تو اختلاف کے باوجود مکالمے اور باہمی احترام کی گنجائش پیدا ہوتی ہے۔
جنگوں اور سیاسی تقسیم کے درمیان ثقافتی مکالمہ
ورلڈ کلچر فیسٹیول کی اہمیت محض تفریح یا فنکارانہ مظاہروں تک محدود نہیں۔ ایسے وقت میں جب دنیا کے مختلف خطے جنگوں، سیاسی تنازعات، نفرت اور سماجی تقسیم کا سامنا کر رہے ہیں، ثقافتی سرگرمیاں لوگوں کو ایک دوسرے کی تاریخ، اقدار، طرزِ زندگی اور انسانی تجربات سمجھنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
فن کسی قوم کی شناخت کو سامنے لاتا ہے اور لوگوں کو ایسے پہلوؤں سے روشناس کراتا ہے جو خبروں اور سیاسی بیانات میں اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ تھیٹر، موسیقی، مصوری اور رقص کے ذریعے فنکار اپنے معاشرے کے دکھ، امیدیں، یادیں اور خواب دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ یہی ثقافتی تبادلہ برداشت، احترام اور امن کے پیغام کو فروغ دینے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اس تناظر میں کراچی میں ہونے والا عالمی ثقافتی میلہ پاکستان کے لیے اپنی ثقافتی گوناگونی کو دنیا کے سامنے پیش کرنے اور دوسرے معاشروں کو قریب سے سمجھنے کا موقع ہے۔ یہ میلہ اس تصور کو تقویت دیتا ہے کہ سیاسی اختلافات کے باوجود انسانوں کے درمیان رابطے کے دروازے کھلے رہنے چاہییں۔

محمد احمد شاہ:ثقافتی سفارت کاری کا پلیٹ فارم
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے صدر محمد احمد شاہ نے نیویارک اُردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ کلچر فیسٹیول عالمی سطح پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کا اہم حوالہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق اس کا بنیادی مقصد ثقافت کے ذریعے لوگوں کو قریب لانا اور امن کا پیغام پہنچانا ہے۔ یہ میلہ موسیقی یا تھیٹر کی کسی ایک صنف تک محدود نہیں بلکہ مختلف فنون کو ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے۔
محمد احمد شاہ کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں موسیقی، رقص اور فلم کے الگ الگ بڑے فیسٹیول منعقد ہوتے ہیں، لیکن ورلڈ کلچر فیسٹیول فن کی متعدد اقسام کو ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ ثقافتی سفارت کاری کا بھی حصہ ہے، جس کے ذریعے پاکستان، سندھ اور کراچی کے بارے میں پائے جانے والے غلط تصورات کا ازالہ کیا جا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی فنکاروں اور وفود کو پاکستان مدعو کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود یہاں کی ثقافت اور روزمرہ زندگی کا تجربہ کریں اور اپنے ملک واپس جا کر پاکستان کے بارے میں اپنا مشاہدہ اور مثبت تاثر دوسروں تک پہنچا سکیں۔ گزشتہ فیسٹیول کے دوران کراچی کے شہریوں نے غیر ملکی فنکاروں کا پرتپاک استقبال کیا اور بعض مہمانوں کو اپنے گھروں پر بھی مدعو کیا۔
احمد شاہ کے مطابق کراچی نے ماضی میں لسانی تقسیم کے باعث مشکل حالات دیکھے ہیں۔ اس میلے کے ذریعے سندھ، خیبر پختونخوا، بلوچستان، پنجاب، کشمیر اور سرائیکی خطے سمیت پاکستان کے مختلف حصوں کے فنکاروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا جا رہا ہے۔ اس طرح پاکستانی فنکاروں کو بین الاقوامی فنکاروں کے ساتھ کام کرنے اور اپنی صلاحیتیں عالمی سطح پر پیش کرنے کے مواقع بھی ملتے ہیں۔

مہران نائٹ، فیوژن پرفارمنس اور علاقائی موسیقی
اس سال کے پروگرام میں پاکستانی اور غیر ملکی فنکاروں کے اشتراک سے مشترکہ یا فیوژن پرفارمنسز بھی پیش کی جائیں گی۔ سندھ کے روایتی سازوں اور موسیقی کے ورثے کو خصوصی طور پر اجاگر کیا جائے گا، جبکہ صوبے کی ثقافت اور فنون کو نمایاں کرنے کے لیے ’’مہران نائٹ‘‘ کا اہتمام بھی کیا جائے گا۔
محمد احمد شاہ نے گزشتہ سال کی ایک مشترکہ پرفارمنس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اکبر خمیسو خان اور بیلجیم سے آئے ہوئے مہمان موسیقار کی پیشکش کو شائقین نے پسند کیا تھا۔ پاکستان کی موسیقی کلاسیکی اور لوک روایات سمیت کئی رنگوں پر مشتمل ہے۔ بین الاقوامی فنکاروں نے پاکستانی روایتی سازوں، بالخصوص الغوزہ اور بورندو، میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔
ایسی مشترکہ پرفارمنسز ثقافتی تبادلے کو عملی شکل دیتی ہیں۔ جب مختلف ملکوں کے فنکار ایک دوسرے کے ساز، آہنگ اور اندازِ اظہار سے واقف ہوتے ہیں تو نئے تخلیقی امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ اس عمل سے مقامی فنون کو عالمی سامعین تک پہنچانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی فنکاروں کو پاکستان کے ثقافتی ورثے سے قریب آنے کا موقع ملتا ہے۔
ایک اسٹیج پر امریکہ، ایران، روس، یوکرین اور فلسطین کے فنکار
محمد احمد شاہ نے گفتگو میں کہا کہ اس فیسٹیول میں مختلف سیاسی اختلافات رکھنے والے ملکوں کے فنکار بھی شریک ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یوکرین اور روس، امریکہ اور ایران کے فنکاروں کی موجودگی، نیز فلسطین کے دو تھیٹر گروپس کی شرکت، اس میلے کو ایک خاص علامتی اہمیت دیتی ہے۔ ان فلسطینی تھیٹر گروپس سے وابستہ کئی فنکار تنازعے کے دوران اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ لاطینی امریکہ سے آنے والے فنکار بھی اپنی پرفارمنسز پیش کریں گے۔
احمد شاہ نے اپنے میلے کے بارے میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ یہ مختلف ملکوں کے لوگوں کو اس انداز سے اکٹھا کرتا ہے جو عالمی سیاسی فورمز پر ہمیشہ ممکن نہیں ہو پاتا۔ اس بیان کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ثقافتی پلیٹ فارم ایسے لوگوں کے درمیان رابطے کا موقع فراہم کر سکتا ہے جو سیاسی سطح پر ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہوں۔

حکومتِ سندھ کا تعاون اور انتظامی تیاری
اس بڑے عالمی ایونٹ کے انعقاد میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے ساتھ حکومتِ سندھ اور متعدد سرکاری محکمے تعاون کر رہے ہیں۔ منتظمین کے مطابق تقریباً20سرکاری محکمے اس ایونٹ کی معاونت میں شامل ہیں۔ محکمۂ ثقافت اور متعلقہ ادارے انتظامی رابطوں اور سہولتوں کی فراہمی میں کردار ادا کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر ساؤتھ جاوید نبی کھوسہ رابطہ کاری کے امور کی نگرانی کریں گے، جبکہ آرٹس کونسل میں ایک سہولت ڈیسک قائم کرنے کا منصوبہ بھی ہے۔
منصوبہ بندی میں سول ایوی ایشن اتھارٹی، ایئرپورٹ سیکیورٹی فورس، پولیس اور دیگر سیکیورٹی ادارے بھی شامل ہیں۔ کمشنر کراچی سید حسن نقوی کے مطابق شہری اور سیکیورٹی ادارے، جن میں ٹاؤن انتظامیہ، پولیس، ایس ایس یو، کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور سول ڈیفنس شامل ہیں، میلے کے کامیاب انعقاد کے لیے کام کریں گے۔ ان کے مطابق غیر ملکی وفود کی آمدورفت اور مختلف مقامات پر سیکیورٹی انتظامات کو یقینی بنایا جائے گا۔
کمشنر کراچی نے یہ بھی کہا کہ غیر ملکی وفود کو این ای ڈی یونیورسٹی، زیبسٹ، جامعہ کراچی اور مزارِ قائد جیسے اہم مقامات کا دورہ کرایا جائے گا۔ اسکولوں کے بچوں کو بھی میلے میں لانے کا منصوبہ ہے تاکہ نئی نسل کو دنیا کی مختلف ثقافتوں سے روشناس کرایا جا سکے۔
آرٹ ولیج کا منصوبہ:ثقافت کو عمارتوں سے باہر لانا
سندھ کے چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ کے مطابق چند ہی برسوں میں فیسٹیول میں شریک ملکوں کی تعداد میں اضافہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ثقافتی سرگرمیوں کو آرٹس کونسل کی عمارت سے باہر پھیلانے اور اطراف کے علاقے کو آرٹ ولیج میں تبدیل کرنے کے تصور پر کام کر رہی ہے۔
اس منصوبے میں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن، ٹاؤن انتظامیہ، واٹر بورڈ، ڈپٹی کمشنر آفس اور دیگر متعلقہ ادارے تعاون کریں گے۔ اطراف کی سڑکوں کی بہتری، روشنی کے انتظامات، بینچوں کی تنصیب، کھانے پینے کی سہولتوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے بہتر راستوں کی فراہمی اس منصوبے کا حصہ ہیں۔ آرٹس کونسل، عجائب گھروں اور دیگر ثقافتی مقامات کو ایک مربوط ثقافتی ماحول کے طور پر ترقی دینے کا تصور بھی پیش کیا گیا ہے۔

سندھ کی ثقافت اور پاکستان کا مثبت تشخص
صوبائی وزیر برائے ثقافت و سیاحت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ سندھ صوفیا کی سرزمین ہے اور اس کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے۔ انہوں نے شاہ عبداللطیف بھٹائی کی شاعری کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس میں خواتین کے مقام، وقار اور حقوق کے پہلو بھی نمایاں ہیں۔ ان کے مطابق محکمۂ ثقافت آرٹس کونسل کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی حکومتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ملک بھر میں محبت، رواداری اور امن کے فروغ کے لیے ثقافتی سرگرمیوں کو وسعت دیں۔
ذوالفقار علی شاہ کے مطابق ورلڈ کلچر فیسٹیول دنیا میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر کرنے کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ تین برسوں میں پاکستان کے سیاحتی مقامات کا دورہ کرنے والے غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں تقریباً50فیصد اضافہ ہوا ہے اور ثقافتی سرگرمیاں بھی اس مثبت رجحان میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
اس ضمن میں ضروری ہے کہ ثقافتی میلے کو محض چند ہفتوں کی تقریب نہ سمجھا جائے۔ اگر ایسے پروگراموں سے مستقل ثقافتی روابط، سیاحتی تعاون، فنکاروں کے تبادلے اور مقامی فنون کی سرپرستی کے مواقع پیدا ہوں تو ان کے اثرات فیسٹیول کی مدت سے کہیں آگے تک جا سکتے ہیں۔
عوام کے لیے رسائی:زیادہ تر پروگرام مفت
منتظمین کے مطابق فیسٹیول کے تقریباً80فیصد پروگرام مفت ہوں گے، تاہم ان میں شرکت کے لیے پیشگی رجسٹریشن درکار ہو گی۔ چھ سے آٹھ بڑے کنسرٹس کے لیے ٹکٹ متعارف کرائے جائیں گے۔ مفت پروگراموں اور رجسٹریشن کے اس انتظام سے شہریوں، طلبہ اور فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد کے لیے شرکت کے مواقع بڑھ سکتے ہیں۔
فیسٹیول کی کامیابی کا ایک اہم پیمانہ یہ بھی ہو گا کہ اس میں کراچی کے مختلف طبقوں، نوجوانوں، طلبہ اور خاندانوں کی کتنی مؤثر شرکت ہوتی ہے۔ ثقافت اسی وقت وسیع معاشرتی اثر پیدا کرتی ہے جب وہ صرف محدود حلقوں تک نہ رہے بلکہ عام شہری بھی اسے دیکھ سکیں، اس سے سیکھ سکیں اور اس کا حصہ بن سکیں۔
فن کے ذریعے دنیا کو قریب لانے کی کوشش
کراچی کا تیسرا ورلڈ کلچر فیسٹیول پاکستان کی ثقافتی گوناگونی، سندھ کے ورثے اور بین الاقوامی روابط کو ایک پلیٹ فارم پر پیش کرنے کا موقع ہے۔ اس کی اصل کامیابی صرف شریک ملکوں کی تعداد یا بڑے پروگراموں میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہو گی کہ یہ مختلف معاشروں کے درمیان کتنی دیرپا دوستی، باہمی احترام اور تخلیقی تعاون کو فروغ دیتا ہے۔ اگر فنکاروں کی یہ ملاقات مکالمے، رواداری اور امن کے پیغام کو عام شہریوں تک پہنچانے میں کامیاب ہوتی ہے تو کراچی واقعی ثقافت کے ذریعے دنیا کو قریب لانے والا شہر ثابت ہو سکتا ہے۔
تحریر:نصیر احمد|نیویارک اُردو
