امریکہ اور ایران ایک بار پھر بڑی جنگ کے دہانے پر:کیا3نومبر کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں بڑی فوجی کارروائی شروع ہو سکتی ہے؟
مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک نئے اور ممکنہ طور پر خطرناک مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ امریکی وسط مدتی انتخابات میں چند دن باقی ہیں اور نئی فوجی کارروائی سے متعلق رپورٹس سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم کسی بڑے امریکی حملے کی حتمی منظوری یا تاریخ کا اعلان نہیں ہوا۔ یہی فرق خبر اور قیاس آرائی میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اکتوبر کے اواخر میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق امریکی حکام اور اتحادی ممالک ایران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائیوں کے خطرات پر غور کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال صرف سفارتی تناؤ نہیں بلکہ خطے میں پہلے سے موجود فوجی تصادم، بحری سلامتی کے مسائل اور غیر حل شدہ جوہری اختلافات سے جڑی ہے۔
نومبر کے انتخابات:فوجی فیصلوں کا ممکنہ موڑ
امریکی وسط مدتی انتخابات3نومبر کو ہوں گے۔ واشنگٹن کے سامنے تین بنیادی راستے ہو سکتے ہیں:فوجی کارروائی میں اضافہ، مذاکرات کی بحالی، یا موجودہ معاشی و عسکری دباؤ کو برقرار رکھنا۔ انتخابی کیلنڈر فوجی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہو سکتا ہے، مگر محض انتخابات کے بعد حملہ یقینی سمجھنا درست نہیں۔
میرے عسکری تجزیے کے مطابق کسی بھی محدود فضائی کارروائی سے فوری فوجی اہداف حاصل ہو سکتے ہیں، لیکن اس کے بعد ایرانی ردعمل، توانائی کی قیمتیں اور امریکی فوجیوں کی سلامتی ایک بالکل الگ امتحان ہوں گے۔ جنگ کا وقت طے کرنا نسبتاً آسان ہے؛ جنگ کے نتائج مکمل طور پر اپنے اختیار میں رکھنا بہت مشکل۔
پینٹاگون کے ممکنہ اہداف
اگر نئی کارروائی ہوتی ہے تو ممکنہ اہداف میں ایران کے میزائل اور ڈرون ڈھانچے، پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ و رسد کے مراکز، اور جوہری پروگرام سے منسلک تنصیبات شامل ہو سکتی ہیں۔ یہ عسکری تجزیے پر مبنی امکانات ہیں، کسی تصدیق شدہ آپریشنل فہرست کا بیان نہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کی فضائی برتری اہم ہے، لیکن صرف بمباری کسی ریاست کی زیرِ زمین تنصیبات، منتشر صنعتی صلاحیت اور سیاسی مزاحمت کو لازماً ختم نہیں کرتی۔ فضائی کامیابی اور مستقل سیاسی نتیجے میں فرق رکھنا ضروری ہے۔
ایران کی جوابی کارروائی کی صلاحیت
ایران کے عسکری نظام کو حالیہ تصادم سے نقصان پہنچا ہے، مگر یہ فرض نہیں کیا جا سکتا کہ اس کے پاس جوابی کارروائی کی کوئی صلاحیت نہیں رہی۔ میزائل اور ڈرون پیداوار، علاقائی نیٹ ورک، متبادل سپلائی راستے اور غیر روایتی حربے کسی بھی نئی کشیدگی کے دورانیے کو بڑھا سکتے ہیں۔
تہران کی ممکنہ کارروائیوں سے اسرائیلی شہروں، خلیجی توانائی کی تنصیبات، بحری جہازوں یا امریکی فوجی مفادات کے لیے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اگر بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا تو محدود حملہ بھی وسیع علاقائی تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے لیے سلامتی کا سوال
اسرائیل ایران کے جوہری پروگرام، میزائل صلاحیت اور تہران سے منسلک مسلح گروہوں کو اپنی سلامتی کے اہم خطرات سمجھتا ہے۔ اسرائیلی حکمت عملی میں پیشگی دفاعی اقدامات کو خاص اہمیت حاصل ہے، لیکن نئے حملوں کی صورت میں اسرائیلی شہری بھی میزائل اور ڈرون حملوں کا سامنا کر سکتے ہیں۔
ہر ریاست کی سلامتی کے تحفظ کی کوشش کے ساتھ شہری آبادی کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پابندی بھی ضروری ہے۔ اسرائیلی اور ایرانی عوام دونوں کے لیے جنگ کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز اور عالمی معیشت
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے۔ بحری جہازوں پر حملوں، بارودی سرنگوں کے خطرات یا بحری ناکہ بندی میں سختی سے تیل کی ترسیل اور عالمی بیمہ و مال برداری کی لاگت متاثر ہو سکتی ہے۔
کسی بڑے تصادم کے معاشی نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے۔ جنوبی ایشیا، یورپ اور افریقہ کی درآمدی معیشتوں میں ایندھن کی قیمتیں، مہنگائی اور تجارت کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے سفارتی اور سلامتی کا امتحان
پاکستان کی ایران کے ساتھ سرحد مشترک ہے، جب کہ سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک سے اس کے اہم معاشی اور دفاعی تعلقات ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی نئی جنگ کی صورت میں اسلام آباد کو سرحدی سلامتی، توانائی کی ضروریات اور خطے میں متوازن سفارت کاری کے مسائل کا سامنا ہو گا۔
پاکستان کے لیے دانشمندانہ راستہ علاقائی تناؤ کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں حصہ لینا اور کسی براہِ راست جنگ میں کھنچے جانے کے خطرات محدود کرنا ہوگا۔ یہ ایک تجزیاتی رائے ہے، پاکستان کی کسی سرکاری پالیسی کا اعلان نہیں۔
کیا مذاکرات کا راستہ موجود ہے؟
فوجی تیاریوں کے ساتھ سفارتی رابطوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ اس لیے کشیدگی کو ناگزیر جنگ کے طور پر پیش کرنا قبل از وقت ہے۔ کسی بھی پائیدار معاہدے کے لیے جوہری نگرانی، پابندیوں میں نرمی، علاقائی تحفظات اور قابلِ اعتبار ضمانتوں جیسے معاملات پر اتفاق ضروری ہوگا۔
آگے کے تین ممکنہ منظرنامے
پہلا منظرنامہ منتخب فوجی اہداف کے خلاف محدود لیکن شدید کارروائی ہے؛ دوسرا ایرانی جوابی حملوں کے نتیجے میں وسیع علاقائی جنگ کا پھیلاؤ؛ اور تیسرا سخت فوجی و معاشی دباؤ کے دوران سفارتی سمجھوتہ۔ ان میں سے کسی کو یقینی نتیجہ یا مصدقہ امریکی فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
حتمی تجزیہ
امریکہ کے پاس بڑی فوجی کارروائی کی غیر معمولی صلاحیت اور اسرائیل کے پاس جدید دفاعی و انٹیلی جنس وسائل موجود ہیں۔ لیکن عسکری طاقت کسی تنازع کے مستقل سیاسی حل کی ضمانت نہیں۔ تہران کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ میزائل حملے، بحری تجارت کو خطرات اور علاقائی مسلح نیٹ ورک وسیع پیمانے پر تباہ کن نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
آنے والے دنوں میں سوال صرف یہ نہیں ہوگا کہ پہلا حملہ کون کرتا ہے، بلکہ یہ ہوگا کہ اس کے بعد پیدا ہونے والے تصادم کو روکنے کی صلاحیت کس کے پاس باقی رہتی ہے۔ نئی جنگ شروع کرنا آسان ہو سکتا ہے؛ اسے ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہوگا۔
منصور حسین لغاری — سابق امریکی فوجی، دفاعی و عسکری تجزیہ نگار، انسانی حقوق کے کارکن اور گلوبل یوتھ یونٹی پروجیکٹ کے بانی و صدر۔
