ٹرمپ کا دعویٰ:ایران کی باقی ماندہ جوہری تنصیبات دس منٹ میں تباہ کر سکتے ہیں
امریکی انتخابات کے بعد4نومبر کو ممکنہ حملوں کی اطلاعات، تہران کی سرحدوں سے باہر تک جوابی کارروائی کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ امریکہ ایران کی باقی ماندہ جوہری تنصیبات کو صرف دس منٹ میں تباہ کر سکتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اطلاعات کے مطابق واشنگٹن اور اسرائیل3نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران کے خلاف ممکنہ نئے فوجی حملوں کی تیاری کر رہے ہیں۔
فلوریڈا میں اپنی رہائش گاہ مارالاگو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج ایران کی جوہری صلاحیتوں کو بڑی حد تک ختم کر چکی ہیں، تاہم چند اہداف ابھی باقی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے خاص طور پر پِک ایکس ماؤنٹین (Pickaxe Mountain) کا ذکر کیا، جسے ایک مشتبہ زیرِ زمین جوہری کمپلیکس سمجھا جاتا ہے۔ مغربی انٹیلی جنس اداروں کے خیال میں اس مقام پر جوہری مواد موجود ہو سکتا ہے، تاہم تہران اس تنصیب میں جوہری سرگرمیاں جاری رکھنے کی تردید کرتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن انہوں نے تہران کی قابلِ اعتماد حیثیت پر سوال اٹھایا۔ امریکی صدر نے ایک بار پھر واضح کیا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران کی سرحدوں سے باہر تک جوابی کارروائی کی دھمکی
دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے ہفتے کے روز سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے فوجی کمانڈروں کو ہدایت دی ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں فوری جواب دینے کی تیاری کی جائے، اور اس ردعمل کو جغرافیائی حدود تک محدود نہ رکھا جائے۔
خامنہ ای سے منسوب بیان کے مطابق ایرانی مسلح افواج کو ہدایت دی گئی ہے کہ کسی بھی خطرے کا جواب ”فوری، مؤثر اور جغرافیائی طور پر غیر محدود“ انداز میں دیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق ایرانی رہنما نے فوجی کمانڈروں کو اہداف کی فہرستوں پر نظرثانی کرنے اور ان میں امریکی و اسرائیلی فوجی، اقتصادی اور دیگر تزویراتی تنصیبات کو شامل کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔
ایرانی دھمکیوں سے یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ نئی فوجی محاذ آرائی صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہے گی بلکہ امریکی فوجی اڈوں، خلیجی عرب ممالک اور بین الاقوامی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
4 نومبر کو ممکنہ امریکی حملوں کی اطلاعات
امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی کشیدگی کے دوران ایسی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں کہ واشنگٹن نے اپنے خلیجی اتحادیوں کو ایران کے خلاف ممکنہ امریکی حملوں کے لیے تیار رہنے کا انتباہ دیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ کارروائی4نومبر سے شروع ہو سکتی ہے، یعنی امریکی وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد۔
تین سینئر خلیجی عرب عہدیداروں کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق مجوزہ فوجی آپریشن مختصر مگر شدید ہو سکتا ہے۔ تاہم خطے کی حکومتیں وسیع پیمانے پر ایرانی جوابی کارروائی کے خدشات کے پیش نظر واشنگٹن پر زور دے رہی ہیں کہ وہ سفارتی متبادل کو ترجیح دے۔
اس کے علاوہ الگ رپورٹنگ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی فوجی منصوبہ سازوں نے ایران کے باقی ماندہ جوہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کے لیے نئے حملوں کے مختلف امکانات اور منصوبے تیار کیے ہیں۔
اسرائیل کی سیاسی صورتحال بھی اہم
ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے وقت کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ اسرائیل کے27اکتوبر کے انتخابات کے نتیجے میں حکومت سازی کے لیے واضح اکثریت سامنے نہیں آئی۔ اس صورتحال میں وزیرِاعظم بن یامین نیتن یاہو عبوری حکومت کی سربراہی کر رہے ہیں جبکہ اتحادی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں۔
اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتحال اور امریکی انتخابات کے بعد ممکنہ فیصلوں کے تناظر میں خطے میں سفارتی اور فوجی سرگرمیوں پر توجہ مرکوز ہے۔
روبیو:ٹرمپ نے حملوں کا حتمی فیصلہ نہیں کیا
بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کے باوجود امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کے روز کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف نئے حملوں کے بارے میں ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق واشنگٹن سفارت کاری کے لیے بھی تیار ہے۔
اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے مختلف امکانات زیرِ غور ہونے کی اطلاعات کے باوجود امریکی حکومت کی جانب سے کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔
فی الحال امریکہ اور ایران کے درمیان ایک نئی فوجی محاذ آرائی کا امکان موجود ہے۔ تاہم ایران کی جانب سے اپنی سرحدوں سے باہر تک جوابی کارروائی کی دھمکی اور واشنگٹن کی جانب سے باقی ماندہ جوہری اہداف کا کھلے عام ذکر اس صورتحال کو مزید حساس بنا رہا ہے۔ امریکی انتخابات کے فوراً بعد کے دن مشرق وسطیٰ کے لیے اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
