نیلی سونامی پر بغلیں نہ بجائیں، کیا ہر گھر سے ممدانی نکلے گا؟
تحریر: حسن مجتبیٰ | مدیرِ اعلیٰ، نیو یارک اُردو
کسی کی ہار ہوئی ہے اور کسی کی جیت
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے امریکی سیاسی لینڈ اسکیپ کی کایا پلٹ دی ہے۔ کایا اس لحاظ سے پلٹی کہ پہلے صرف نیویارک ظہران ممدانی کو بھگت رہا تھا، اب امریکہ کے ایک بڑے حصے کو نیلی لہر کا سامنا ہے۔ کسی نے ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹ اور کانگریس میں اس جیت کو ’’بلیو سونامی‘‘ کا نام دیا ہے۔ سونامی کوئی مثبت اصطلاح بہرحال نہیں ہے۔ سونامی کا دوسرا نام تباہی ہے۔ کاش ایسا نہ ہو۔ ہماری نیک تمنائیں یہی کہتی ہیں۔
ہار جیت تو انتخابات کا گرامر ہوتی ہے۔ ’’آج کسی کی ہار ہوئی ہے اور کسی کی جیت، گاؤ خوشی کے گیت‘‘ کے مصداق۔
لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ نیلی لہر، بقولِ شخصے یہ نیلی سونامی، تعصب و نفرت نہ لے آئے۔ ہمیں خدشہ یہ ہے کہ یہود دشمنی(اینٹی سیمیٹزم)کے واقعات اور نفرت کی بنیاد پر جرائم میں اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ان انتخابات میں کئی امیدوار اسرائیل مخالف نعروں اور یہود مخالف بیانیے پر جیت کر آئے ہیں۔
ایسا لگتا تھا کہ بلیو یا ڈیموکریٹک امیدواروں کی مہم اسرائیل اور یہود دشمن بیانیے کا حصہ رہی۔ پس انتخاباتی منظرنامے میں اسرائیل اور فلسطین کے تعلقات میں بہتری نہیں بلکہ خرابی کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
یہ مت بھولیں کہ نیویارک میں بروکلین کی جے اسٹریٹ نے ان انتخابات میں نیلے امیدواروں کو جتوانے کے لیے ان کی انتخابی مہم کے فنڈ میں دس ملین ڈالر عطیہ دیا تھا۔ نتیجہ کیا ملا؟ چک شومر اور حکیم جیفیریز جیسے اسرائیل دوست، اینٹی سیمیٹک قانون سازوں کی آوازوں کی صدائے بازگشت اب کہاں گونجا کرے گی؟ اسرائیل مخالف اراکین کی تعداد میں اضافہ نہ فقط امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کے توازن میں بگاڑ کا موجب بنے گا بلکہ اس سے امریکی اور اسرائیلی عوام کے تعلقات بھی گہنا سکتے ہیں۔ کیا اب تو گھر گھر سے ممدانی نکلے گا؟ امید کرتے ہیں کہ ایسا نہیں ہو۔
صرف ایک عبدل السید ہی کی مثال لیجیے کہ وہ دہشت گرد حماس کو دہشت گرد کہنے کے لیے تیار نہیں۔ ہم جشن منا رہے ہیں۔ منانا بھی چاہیے کہ جشن منانے والوں کا حق ہے۔ وسط مدتی انتخابات کے نتائج میں مسلمان امیدواروں کی ایک اچھی خاصی تعداد منتخب ہو کر آئی ہے۔ لیکن یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کی کامیابیوں کے پیچھے یہودی و عیسائی ووٹ اور پیسے نے بھی اپنا کام دکھایا ہے۔ نیز یہ بھی کہ اسرائیل میں انیس نشستیں عرب پارٹیوں نے جیتی ہیں(اس میں کسی عقیدے یا مذہب کا کمال نہیں، یہ کرشمہ اسرائیلی جمہوریت کا ہے)۔ اسی طرح اگر مسلمان یا کسی بھی عقیدے یا لاعقیدے کے امیدوار امریکہ میں جیت کر آئے ہیں تو یہ بھی امریکی جمہوریت کی کرشمہ سازی ہے، جو دنیا کی سب سے قدیم جمہوریت ہے۔ اور جیسا کہ اسی صفحے پر ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں، اسرائیل ایک جدید جمہوریت ہے۔
نیویارک اردو بہرحال امریکی وسط مدتی انتخابات میں کامیاب ہونے والے تمام امیدواروں کو مبارک باد دیتے ہوئے امید کرتا ہے کہ دونوں ایوان اور پارٹیاں اقوامِ ابراہیمی کے مابین، اور بالخصوص امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بہتر تعلقات قائم کرنے، مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن اور امن دشمن تاریخ کی ناکارہ قوتوں کی بیخ کنی کے لیے وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر کام کریں گے۔ یعنی اس ضمن میں وائٹ ہاؤس، کیپیٹل ہل اور کنیسٹ میں تعلقات کا توازن اور ترقی برقرار رہیں گے۔
