امریکہ نے عراق اور شام کے درمیان عراق۔شام خام تیل پائپ لائن کی بحالی اور ازسرِ نو تعمیر کے لیے تاریخی مفاہمتی یادداشت(ایم او یو)پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے کی سلامتی، استحکام اور معاشی خوشحالی کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق عراق اور شام کی حکومتوں نے اس منصوبے کو دوطرفہ اور علاقائی سطح پر اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ترجیحی انفراسٹرکچر منصوبے کے طور پر آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ اس منصوبے کے ذریعے عراق کی تیل پیداوار کو بحیرہ روم کی برآمدی منڈیوں اور دیگر عالمی منڈیوں سے دوبارہ جوڑا جائے گا، جس سے توانائی کے ایک اہم تجارتی راستے کی بحالی ممکن ہوگی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تکنیکی اور مالیاتی امور کی تکمیل کے لیے امریکی قیادت میں قائم ایک بین الاقوامی کنسورشیم کام کرے گا، جبکہ امریکی کمپنیاں تعمیراتی عمل میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق بحالی کے بعد اس پائپ لائن کے ذریعے ابتدائی مرحلے میں یومیہ20لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل کی صلاحیت حاصل ہوگی، جو اسے خطے کے اہم ترین توانائی منصوبوں میں شامل کر دے گی۔
امریکہ نے اس پیش رفت کو شام اور عراق کے تعلقات کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا پائپ لائن کی بحالی، اس کے آپریشن، قانونی فریم ورک کی تشکیل اور بین الاقوامی کنسورشیم کے ساتھ تعمیری تعاون پر اتفاق خطے میں خوشحالی کے ذریعے امن اور استحکام کو فروغ دے گا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ جے ٹرمپ کے وژن اور قیادت کی بدولت ممکن ہوئی، جس کا مقصد خطے میں اقتصادی روابط کو مضبوط بنا کر دیرپا سلامتی اور استحکام کو فروغ دینا ہے۔

