چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
تحریر:حسن مجتبیٰ، مدیر اعلیٰ

لو، ہم آ بھی چکے۔ اگست کا مہینہ ہے۔ پیارے پاکستان کے قیام میں آنے کا مہینہ۔ دنیا میں دو ممالک ہیں جو مذہب کے نام پر قائم کیے گئے۔ ایک بڑی قدرِ مشترک جو پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ہے، پھر بھی بڑی دوریاں، رکاوٹیں، یک طرفہ کدورتیں اور نفرتیں۔ ایک قدرِ مشترک پاکستان اور اسرائیل میں اور بھی ہے کہ دونوں چودہ تاریخ کو وجود میں آئے تھے۔ ایک چودہ اگست کو اور دوسرا ملک چودہ مئی کو۔ صرف عمر میں ایک سال کا فرق ہے۔
چودہ اگست انیس سو سینتالیس اور چودہ مئی انیس سو اڑتالیس۔
چودہ اگست سنہ سینتالیس، جسے سرکاری اور میڈیائی سطح پر یومِ آزادی کہا جاتا ہے اور جسے عوام الناس تقسیم یا پارٹیشن کہتے ہیں۔ کئی لوگ اس دن کو ’’اوہ جدوں لٹ پئی سی‘‘ سے بھی یاد کرتے ہیں۔
خون چکاں تقسیم۔ دس لاکھ لوگوں کا قتلِ عام۔ پڑوسی نے پڑوسی کے نرخرے کاٹے۔ کئی لاکھ لوگ وطن بدر ہوئے، کئی ہزار بچیوں اور عورتوں کی عصمتیں لٹیں۔ پنجاب کی تقسیم ہوئی۔ ہندوستان کی تقسیم ہوئی۔ ’’آزادی‘‘ سر آنکھوں پر۔ لیکن، جیسا کہ اپنا وطن کھونے والی لکھاری، پروفیسر میری بہن ریٹا کوٹھاری نے کہا ہے:آزادی کا سورج طلوع تو ہوا، لیکن لاکھوں انسانوں کے لہو میں ڈوبا ہوا۔
چودہ اور پندرہ اگست ایک رستا ہوا زخم بھی تو ہے، جو برصغیر میں رہنے والوں کے دلوں سے رستا رہا ہے۔
ہولوکاسٹ کے پانچ برسوں کے اندر اندر یہ ایک اور ہولوکاسٹ طرز کا قتلِ عام تھا۔
انسانی تاریخ میں ایک اور وسیع واردات۔ ایک بہت بڑی دربدری۔ آزادی کا اعلان تو ہوا، لیکن لوگ اپنے گھروں کو چھوڑ کر سرپٹ بھاگ رہے تھے کہ انہیں معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں جائیں گے۔
لیکن اگر دنیا کا ضمیر ہولوکاسٹ کی مذمت کرتے ہوئے یہ کہتا کہ ’’نہیں، پھر کبھی نہیں‘‘ — Never Again — تو1947کا ہولوکاسٹ شاید ہی دوبارہ دہرایا جاتا۔
فیض احمد فیض نے اپنی شاعری میں اسے یوں کہا تھا: ’’یہ وہ صبح تو نہیں‘‘۔
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں، جس کی آرزو لے کر
چلے تھے کہ یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہو گا شبِ سست موج کا ساحل
کہیں تو رکے گا سفینۂ غمِ دل۔
سفینۂ غمِ دل کہیں رکا ہی نہیں۔ ایک وعدہ بھی جو کبھی وفا ہوا بھی نہیں۔
لیکن یہ بھی تو اسی نظم میں فیض نے کہا تھا:
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیِ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
ابھی تو اگست کا پورا مہینہ رواں ہے۔ ابھی تو ہم ایک سلسلۂ داستانوں کا یہاں شائع کرتے رہیں گے؛ اس آزادیِ نیم شب کی، تقسیم کی، لُٹ کی، دربدری کی، خون آشامی کی۔ زخموں کو کریدنا اور پھر انہیں مندمل بھی ہم نے اور آپ نے کرنا ہے۔ فاصلے گھٹانے ہیں، محبتیں بڑھانی ہیں اور نئی محبتیں پیدا کرنی ہیں۔
پڑھنے لکھنے والوں سے بھی میری یہ بینتی ہے کہ تقسیم، تحریکِ آزادی اور خون آشامی کی اگر کہانیاں، داستانیں اور بیتی ہوئی آپ بیتیان ان کے پاس ہوں تو وہ ضرور ہم سے شیئر کریں، تاکہ ہم مل کر یہ عہد دہرا سکیں:نہیں، پھر کبھی نہیں۔

