• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » ٹام کاٹن نے عبدالالسید کو ’’حقیقی انتہا پسند‘‘ قرار دے دیا
امریکہ

ٹام کاٹن نے عبدالالسید کو ’’حقیقی انتہا پسند‘‘ قرار دے دیا

ہ امریکہ دنیا بھر میں آزادی کی قوتوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران جیسے بنیاد پرست امریکہ مخالف نظاموں کا خاتمہ امریکہ کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 11, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

واشنگٹن⁦:⁩امریکی سینیٹر ٹام کاٹن نے ایران کی حکومت کو ایک بنیاد پرست اور امریکہ مخالف نظام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے نظاموں کا خاتمہ امریکہ کو زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے۔ انہوں نے ایرانی عوام کی آزادی کی جدوجہد کی حمایت پر بھی زور دیا۔

سینیٹر ٹام کاٹن نے یہ گفتگو اتوار کو فاکس نیوز کے پروگرام ’’Life, Liberty & Levin‘‘ میں میزبان مارک لیون کے ساتھ گفتگو کے دوران کی۔ پروگرام میں انہوں نے آنجہانی سینیٹر لنڈسے گراہم کی سیاسی میراث اور ڈیموکریٹک پارٹی میں ڈیموکریٹک سوشلسٹوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

کاٹن نے ایران کے معاملے کا موازنہ سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کی سوویت کمیونزم کے خلاف پالیسی سے کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو دنیا بھر میں آزادی کی قوتوں اور اپنے ان دوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے جو آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حالات کے مطابق امریکہ کی حمایت کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابقہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ ’’مدد راستے میں ہے‘‘ اور انہیں اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرنا چاہیے۔

کاٹن نے کہا، ’’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ایرانی عوام آج ایران پر حکمرانی کرنے والے انقلابی انتہا پسندوں کے پہلے اور سب سے زیادہ متاثرین ہیں۔ وہ اس سے کہیں بہتر مستقبل کے مستحق ہیں۔ اور اگر انہیں ایسا مستقبل ملتا ہے تو امریکہ زیادہ محفوظ جگہ ہوگا، جبکہ دنیا بھی زیادہ محفوظ اور پُرامن ہو گی۔‘‘

کاٹن نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی لکھا کہ امریکہ دنیا بھر میں آزادی کی قوتوں اور اپنے دوستوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ایران جیسے بنیاد پرست امریکہ مخالف نظاموں کا خاتمہ امریکہ کو زیادہ محفوظ بناتا ہے۔

امریکی سینیٹر نے اپنی گفتگو اور بعد ازاں دیے گئے بیانات میں ایران کے حامیوں یا دیگر ایسے عناصر کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے حوالے سے بھی خبردار کیا جنہیں وہ امریکہ کا کھلا دشمن قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جو افراد غلط بیانی یا جعلی مقاصد کے تحت امریکہ میں داخل ہو کر بنیاد پرستانہ اور امریکہ مخالف سرگرمیوں کو فروغ دینا چاہتے ہیں، انہیں ملک میں رہنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ کاٹن نے اسے قومی سلامتی کا معاملہ قرار دیا اور امریکہ میں بنیاد پرست گروہوں کے لیے بیرونی مالی معاونت کے خدشات کا بھی حوالہ دیا۔

ایرانی اپوزیشن اور تارکین وطن کا ردعمل

کاٹن کے بیانات پر ایرانی اپوزیشن رہنماؤں اور بیرونِ ملک مقیم ایرانی حلقوں کی جانب سے فوری ردعمل سامنے آیا۔ ولی عہد رضا پہلوی کے سرکاری مواصلاتی اکاؤنٹ نے کاٹن کا ’’ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے‘‘ پر شکریہ ادا کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ ایرانی عوام موجودہ حکومت کے بنیادی متاثرین ہیں اور ایک آزاد اور جمہوری ایران امریکہ کا مضبوط اتحادی ثابت ہو سکتا ہے۔

دیگر ایرانی اپوزیشن حلقوں نے بھی کاٹن کے مؤقف کا خیرمقدم کرتے ہوئے ایرانی عوام کو موجودہ حکومت کا سب سے بڑا شکار قرار دیا اور ایسے جمہوری انتقالِ اقتدار کی امید ظاہر کی جو ایران کو امریکہ کے لیے ایک اہم شراکت دار بنا سکے۔

ولی عہد رضا پہلوی اور وسیع تر ایرانی اپوزیشن تحریکوں کے حامی طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ایران کا مذہبی نظام عوامی حمایت اور سیاسی جواز کھو چکا ہے اور ایرانی عوام کی جانب سے اس نظام کی تبدیلی خطے میں استحکام اور مغرب کے لیے سکیورٹی خطرات میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

ناقدین کی جانب سے مخالفت

تاہم کاٹن کے بیانات کو بعض ’’امریکہ فرسٹ‘‘ حلقوں اور غیر ملکی تنازعات میں امریکی مداخلت کے مخالفین کی جانب سے تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔

ناقدین نے الزام عائد کیا کہ کاٹن ایسی مداخلت پسندانہ خارجہ پالیسی کی حمایت کر رہے ہیں جو امریکی داخلی ترجیحات کے بجائے بیرونی مفادات کو اہمیت دیتی ہے۔ ان حلقوں نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی کوششوں کے ممکنہ نتائج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایسی پالیسی طویل جنگ اور مسلسل فوجی مداخلت کا باعث بن سکتی ہے۔

بعض ناقدین نے امریکہ کی مشرقِ وسطیٰ پالیسی پر جاری وسیع تر بحث کے تناظر میں اے آئی پی اے سی سمیت مختلف تنظیموں کے کردار کا بھی حوالہ دیا۔

یہ اختلافات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیوں، آبنائے ہرمز میں خلل اور سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ ایران میں حکومت کی تبدیلی، جوہری پروگرام اور ایرانی حمایت یافتہ گروہوں سے متعلق پالیسی پر بحث جاری ہے۔

ایران کے حوالے سے کاٹن کا سخت مؤقف

کاٹن کا حالیہ بیان ایران کے بارے میں ان کے دیرینہ سخت گیر مؤقف سے مطابقت رکھتا ہے۔ وہ سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین اور ایرانی حکومت کے مسلسل ناقد ہیں۔

کاٹن متعدد مواقع پر ایرانی حکومت کو ’’انقلابی انتہا پسندوں‘‘ کا نظام قرار دے چکے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ حکومت کئی دہائیوں سے امریکی شہریوں اور مفادات کو نشانہ بناتی رہی ہے، اس لیے محض معاہدوں کے ذریعے اسے قابلِ اعتماد طور پر محدود نہیں کیا جا سکتا۔

ان کا یہ بیان امریکہ اور ایران کے درمیان مسلسل کشیدگی، سابقہ فوجی جھڑپوں، آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں اور سفارتی کوششوں کے پس منظر میں سامنے آیا ہے۔

کاٹن کا مؤقف اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جس کے مطابق ایران کے ساتھ دیرپا سکیورٹی کے حصول کے لیے صرف اس کی جوہری سرگرمیوں یا خطے میں حمایت یافتہ گروہوں سے نمٹنا کافی نہیں بلکہ تہران میں موجود سیاسی نظام کی نوعیت کو بھی بنیادی مسئلہ سمجھنا ہوگا۔

آبنائے ہرمز اسلامی جمہوریہ ایران امریکہ امریکہ فرسٹ امریکی خارجہ پالیسی ایران ایران امریکہ کشیدگی ایران میں حکومت کی تبدیلی ایرانی اپوزیشن ایرانی تارکین وطن ایرانی جوہری پروگرام ایرانی عوام ٹام کاٹن ڈونلڈ ٹرمپ ڈیموکریٹک سوشلسٹ رضا پہلوی فاکس نیوز قومی سلامتی لنڈسے گراہم مارک لیون مشرق وسطیٰ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleشام میں بشار الاسد کو سزائے موت
Next Article لیویٹ کی ڈیموکریٹس پر شدید تنقید، ’’تباہ کن سوشلسٹ‘‘ قرار دے دیا
نیوز ڈیسک

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
امریکہ

کیا امریکہ اسرائیل کی سالانہ امداد روک دے گا؟

نومبر 3, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.