پیوٹن کا جاپان کے متنازع شمالی جزائر کا پہلا دورہ، ٹوکیو کی شدید مذمت، سفیر طلب
ٹوکیو،14اگست 2026
جاپان کی وزیراعظم سناے تاکائیچی نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے جاپان کے زیرِ تنازع شمالی علاقوں کے پہلے دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ’’بالکل ناقابل قبول‘‘ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دورہ جاپانی عوام کے جذبات اور بین الاقوامی قانون کے لیے ایک سنگین توہین ہے۔
پیوٹن نے جمعرات کے روز ایتوروفو کا دورہ کیا، جسے روس میں ایتورپ کہا جاتا ہے۔ یہ ان چار جزائر میں شامل ہے جنہیں جاپان اپنے شمالی علاقوں کا حصہ قرار دیتا ہے۔ ہوکائیدو کے قریب واقع ان جزائر پر دوسری جنگِ عظیم کے آخری ایام میں سوویت یونین نے قبضہ کر لیا تھا اور اس کے بعد سے یہ روسی کنٹرول میں ہیں۔
روسی سرکاری میڈیا کے مطابق پیوٹن نے جزیرے میں مچھلیوں کی پراسیسنگ کے ایک پلانٹ کا دورہ کیا، کیویار چکھا، ایک ہسپتال اور اسکول کا معائنہ کیا اور مقامی رہائشیوں سے ملاقات کی۔ ٹوکیو کے نزدیک یہ سرگرمیاں ان جزائر پر روسی کنٹرول کو مزید مستحکم کرنے کی دانستہ کوشش کا اظہار ہیں۔
وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں سناے تاکائیچی نے کہا کہ شمالی علاقے تاریخی اعتبار سے بھی اور بین الاقوامی قانون کے تحت بھی جاپان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ان کے مطابق روسی صدر کا یہ دورہ جاپان کے مستقل مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتا اور جاپانی عوام کے جذبات کو مجروح کرتا ہے، اس لیے یہ ’’بالکل ناقابل قبول‘‘ ہے۔
تاکائیچی نے کہا کہ جاپان متعدد مرتبہ ماسکو سے مطالبہ کر چکا تھا کہ روسی صدر کو ان جزائر کا دورہ نہ کرنے دیا جائے، تاہم پیوٹن نے اس کے باوجود دورہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد جاپان اور روس کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہونے کے باوجود جاپان نے تعلقات کے حوالے سے ہر ممکن کوشش کی ہے۔ تاہم ان کے بقول پیوٹن کا یہ دورہ جاپان میں روس مخالف جذبات کو مزید مضبوط کرنے اور دونوں ممالک کے تعلقات کی درمیانی اور طویل مدت میں بحالی کو مزید مشکل بنانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتا۔
جاپانی وزیراعظم نے امید ظاہر کی کہ روسی حکومت اس معاملے کی سنگینی کو پوری طرح محسوس کرے گی۔
جاپان کے وزیر خارجہ توشیمیتسو موتیگی نے بھی فوری کارروائی کرتے ہوئے روسی سفیر نکولائی نوزدریف کو طلب کیا اور ان کے سامنے باضابطہ طور پر شدید احتجاج ریکارڈ کرایا۔
موتیگی نے اپنے مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ شمالی علاقے، جن میں ایتوروفو بھی شامل ہے، تاریخی اعتبار سے اور بین الاقوامی قانون کے تحت جاپان کے علاقے کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جاپانی حکومت روسی صدر کے اس دورے پر سخت احتجاج کرتی ہے۔
شمالی علاقوں کا تنازع کئی دہائیوں سے جاپان اور روس کے درمیان تعلقات میں بنیادی رکاوٹ بنا ہوا ہے اور یہی تنازع دوسری جنگِ عظیم کے بعد دونوں ممالک کے درمیان باضابطہ امن معاہدے کی راہ میں ایک اہم رکاوٹ بھی سمجھا جاتا ہے۔
جاپان طویل عرصے سے ان جزائر پر اپنے دعوے کو برقرار رکھتے ہوئے تنازع کا پرامن حل تلاش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ ٹوکیو میں پیوٹن کے حالیہ دورے کو ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جا رہا ہے جو جاپان کے مؤقف اور ان سابق جاپانی باشندوں اور ان کے خاندانوں کے دیرینہ دکھ کو نظرانداز کرتا ہے جنہیں دوسری جنگِ عظیم کے بعد ان کے آبائی علاقوں سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔
جاپان کا سخت ردعمل اس اصول پر اس کے مستقل مؤقف کی عکاسی کرتا ہے کہ علاقائی سالمیت اور تاریخی انصاف کو طاقت یا یک طرفہ اقدامات کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
ٹوکیو اب بھی روس سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ اپنے اقدامات کی سنگینی کو سمجھے اور شمالی علاقوں کے بارے میں جاپان کے مستقل اور قانونی مؤقف کا احترام کرے۔

