• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » نئے صوبوں سے کیا ہو جائے گا؟
ایشیا

نئے صوبوں سے کیا ہو جائے گا؟

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 17, 2026Updated:اگست 17, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

"`

کراس پوسٹ

نئے صوبوں سے کیا ہو جائے گا؟

تحریر: یاسر جواد

یاسر جواد


لیبل بدلنے سے کیا ہو جائے گا؟ اگر انتظامی ڈھانچہ، حکمرانی اور عوامی سہولیات کے مسائل وہی رہیں تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کا حل نہیں بن سکتے۔

چند صحافی نئے صوبوں کے حق میں دلائل دینے کے لیے روزانہ بہت کشٹ اٹھا رہے ہیں اور اعداد و شمار کو گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔ کبھی امریکہ کے صوبوں یا ریاستوں کی مثال دی جاتی ہے اور کبھی ہندوستان کے نئے صوبوں کی۔ کبھی آبادی کو بنیاد بنا کر ناروے اور سویڈن سے مقابلہ کیا جاتا ہے اور کبھی چین کے تجربے سے سیکھنے کا کہا جاتا ہے۔

حالانکہ ہمارا موازنہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے سوا کسی سے بھی کرنا غیر ضروری ہے۔

1947ء میں پنجاب کے دو حصے ہوئے تو دونوں حصے پنجابی ہی رہے۔ پھر اُدھر والے پنجاب کے تین حصے ہو گئے۔ البتہ کشمیر سمیت کئی علاقے اب بھی ایسے ہیں جو نہ صوبہ ہیں، نہ پوری طرح پاکستان کا حصہ ہیں اور نہ ہندوستان کا۔

پختون بھی خود کو افغانستان کے ساتھ زیادہ ریلیٹ کرتے ہیں۔ سندھ میں ویسے ہی بلوچ قبائل کا بڑا حصہ آباد ہے، اور کراچی و حیدرآباد میں ہمارے اردو بولنے والے مہاجروں کی تیسری چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ لیکن انگریزوں کی بنائی ہوئی حلقہ بندی اب بھی قائم ہے۔

انتظامی تقسیم اور اصل مسئلہ

مغل دور میں صوبہ ملتان ہوتا تھا۔ انگریزوں نے⁦1849⁩ء میں ضلع ملتان بنایا، اور وہاڑی، ملتان، خانیوال اور لودھراں اس کی چار تحصیلیں بنائی گئیں۔

گزشتہ چالیس پچاس سال کے دوران یہ تحصیلیں الگ الگ اضلاع بن گئے، کوئی فرق پڑا؟ اب یہ اضلاع صوبے بنا دیے جائیں اور ان کی تحصیلوں کو اضلاع بنا دیا جائے تو کیا ہو جائے گا؟

اگر سماجی تقسیم کی بات کی جائے تو وہاں بھی پھوٹ ہمیشہ سے موجود ہے اور شاید اکیسویں صدی میں تو رہے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ وڑائچ کہاں آباد ہیں، جالب کہاں کے ہیں، چیمہ کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، ساہی اور ٹوانے اور وٹو، کھوسے اور سکھیرے کس علاقے میں ہوتے ہیں۔

دو تین تو لبرل بھی ایسے ہیں جو ضلعی اور ڈومیسائل والی شناخت پر فخر کرتے ہیں۔ وزیرآباد کے ’’عظیم لوگوں‘‘ کی فہرست بنانے اور بتانے والے بھی کم نہیں۔


ایسے میں⁦32⁩صوبے بن جائیں یا ون یونٹ، سماجی اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔

جنوبی پنجاب کے مسائل

جنوبی پنجاب کہلانے والے علاقے کے مسائل گھٹنے کی بجائے بڑھیں گے۔ بیوروکریسی کی نئی پرتیں ان کی زندگی برباد کر دیں گی۔

خود اختیاری کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ذلیل کس علاقے کے بیوروکریٹ سے ہونا ہے اور تعلیم و سہولیات سے محرومی کا الزام کس کو دینا ہے؟

لیبل بدلنے سے کیا ہو جائے گا؟

پیپسی کو اب بھی لوگ کوک ہی کہتے ہیں اور پیلی بوتل کو شیزان۔


’’لیبل بدلنے سے کیا ہو جائے گا؟‘‘

اب تو آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ تہذیب کو چھوڑ کر ثقافت پر زور کیوں دیا جانے لگا؟

لہٰذا اب آپ اور ہم اپنی اپنی ثقافت کی ڈفلی اپنے اپنے ضلعے⁦(⁩صوبے⁦)⁩میں بجائیں گے اور تہذیب سے چھٹی لیں گے۔

یہ مضمون یاسر جواد کی

ویب سائٹ سے کراس پوسٹ کیا جارہا ہے۔
اعلانِ لاتعلقی:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

"`

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleجنونی محبت کی بیماری کیا ہے؟ علامات، وجوہات، تشخیص اور علاج
Next Article اٹل بہاری واجپائی: 16 اگست، امن کی آواز خاموش ہو گئی
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.