"`
نئے صوبوں سے کیا ہو جائے گا؟
لیبل بدلنے سے کیا ہو جائے گا؟ اگر انتظامی ڈھانچہ، حکمرانی اور عوامی سہولیات کے مسائل وہی رہیں تو نئے صوبے بھی پرانے مسائل کا حل نہیں بن سکتے۔
چند صحافی نئے صوبوں کے حق میں دلائل دینے کے لیے روزانہ بہت کشٹ اٹھا رہے ہیں اور اعداد و شمار کو گھماتے پھراتے رہتے ہیں۔ کبھی امریکہ کے صوبوں یا ریاستوں کی مثال دی جاتی ہے اور کبھی ہندوستان کے نئے صوبوں کی۔ کبھی آبادی کو بنیاد بنا کر ناروے اور سویڈن سے مقابلہ کیا جاتا ہے اور کبھی چین کے تجربے سے سیکھنے کا کہا جاتا ہے۔
حالانکہ ہمارا موازنہ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے سوا کسی سے بھی کرنا غیر ضروری ہے۔
1947ء میں پنجاب کے دو حصے ہوئے تو دونوں حصے پنجابی ہی رہے۔ پھر اُدھر والے پنجاب کے تین حصے ہو گئے۔ البتہ کشمیر سمیت کئی علاقے اب بھی ایسے ہیں جو نہ صوبہ ہیں، نہ پوری طرح پاکستان کا حصہ ہیں اور نہ ہندوستان کا۔
پختون بھی خود کو افغانستان کے ساتھ زیادہ ریلیٹ کرتے ہیں۔ سندھ میں ویسے ہی بلوچ قبائل کا بڑا حصہ آباد ہے، اور کراچی و حیدرآباد میں ہمارے اردو بولنے والے مہاجروں کی تیسری چوتھی نسل پروان چڑھ رہی ہے۔ لیکن انگریزوں کی بنائی ہوئی حلقہ بندی اب بھی قائم ہے۔
انتظامی تقسیم اور اصل مسئلہ
مغل دور میں صوبہ ملتان ہوتا تھا۔ انگریزوں نے1849ء میں ضلع ملتان بنایا، اور وہاڑی، ملتان، خانیوال اور لودھراں اس کی چار تحصیلیں بنائی گئیں۔
گزشتہ چالیس پچاس سال کے دوران یہ تحصیلیں الگ الگ اضلاع بن گئے، کوئی فرق پڑا؟ اب یہ اضلاع صوبے بنا دیے جائیں اور ان کی تحصیلوں کو اضلاع بنا دیا جائے تو کیا ہو جائے گا؟
اگر سماجی تقسیم کی بات کی جائے تو وہاں بھی پھوٹ ہمیشہ سے موجود ہے اور شاید اکیسویں صدی میں تو رہے گی۔ ہم جانتے ہیں کہ وڑائچ کہاں آباد ہیں، جالب کہاں کے ہیں، چیمہ کس علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، ساہی اور ٹوانے اور وٹو، کھوسے اور سکھیرے کس علاقے میں ہوتے ہیں۔
دو تین تو لبرل بھی ایسے ہیں جو ضلعی اور ڈومیسائل والی شناخت پر فخر کرتے ہیں۔ وزیرآباد کے ’’عظیم لوگوں‘‘ کی فہرست بنانے اور بتانے والے بھی کم نہیں۔
ایسے میں32صوبے بن جائیں یا ون یونٹ، سماجی اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔
جنوبی پنجاب کے مسائل
جنوبی پنجاب کہلانے والے علاقے کے مسائل گھٹنے کی بجائے بڑھیں گے۔ بیوروکریسی کی نئی پرتیں ان کی زندگی برباد کر دیں گی۔
خود اختیاری کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ نے ذلیل کس علاقے کے بیوروکریٹ سے ہونا ہے اور تعلیم و سہولیات سے محرومی کا الزام کس کو دینا ہے؟
لیبل بدلنے سے کیا ہو جائے گا؟
پیپسی کو اب بھی لوگ کوک ہی کہتے ہیں اور پیلی بوتل کو شیزان۔
’’لیبل بدلنے سے کیا ہو جائے گا؟‘‘
اب تو آپ کو سمجھ آ گئی ہو گی کہ تہذیب کو چھوڑ کر ثقافت پر زور کیوں دیا جانے لگا؟
لہٰذا اب آپ اور ہم اپنی اپنی ثقافت کی ڈفلی اپنے اپنے ضلعے(صوبے)میں بجائیں گے اور تہذیب سے چھٹی لیں گے۔
ویب سائٹ سے کراس پوسٹ کیا جارہا ہے۔
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
"`

