• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے
مضمون/کالم

شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 17, 2026Updated:اگست 17, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

"`html

خصوصی کالم

شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے

تحریر: حسن مجتبیٰ

حسن مجتبیٰ

’’شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے‘‘

جب ہم میں سے بہت سوں نے اسے پاکستان ٹیلی ویژن کی اسکرین پر پہلی بار دیکھا تو وہ
’’شیطان الرجیم سے پناہ مانگتے، بسم اللہ پڑھتے اور نحمدہ کہتے‘‘
’’عزیز ہم وطنو⁦!⁩السلام علیکم‘‘ کہہ رہا تھا۔ اپنی تحریر شدہ تقریر کے اوراق وہ اپنی انگلی سے، اپنی بڑی مونچھوں تلے چھپے منہ میں زبان سے تھوک لگا کر الٹتا تھا۔

وہ بقولِ شخصے پرانے زمانے کی فلموں کے اس ولن کی طرح لگتا تھا جو ہیروئن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے وہاں، تھوڑی دیر بعد گزرنے والی ٹرین کی پٹریوں پر پھینک دیتا ہے۔

یہ پانچ جولائی انیس سو ستتر کی شب کو پاکستان میں آنے والا جنرل محمد ضیاء الحق اور اس کا مارشل لا تھا، جس کے بارے میں پھر احمد فراز نے کہا تھا:


دیکھنے والوں نے دیکھا ہے
اک شب جب شب خون پڑا
گلیوں میں بارود کی بو تھی
کلیوں پر سب خون پڑا

رکھوالوں کی نیت بدلی
گھر کے مالک بن بیٹھے
جو آواز جہاں سے اٹھی
اس پر تیر و تبر برسے

ایسے ہونٹ سلے لوگوں کے
آوازوں کو بھی ترسے

پاکستان میں ہر آدمی اور ہر گھر کے پاس اس دورِ پرآشوب کے متعلق ایک ذاتی یادداشت اور ایک ذاتی قصہ کہانی ضرور ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ایک پوری نسل اپنی کمر پر کوڑے کھانے کے لیے ’’میڈیکلی فٹ‘‘ قرار دے دی گئی تھی۔

ننگی پشت سے بھی نیچے کی ادھڑتی کھال اور گوشت سے بہتے ہوئے خون والا کوئی سیاسی قیدی جلاد کو گالیاں دے کر کہتا تھا: ’’مارو!‘‘

’’لڈی ہے جمالو، پاؤ لڈی ہے جمالو‘‘ اسی دور کی فلم ’’صاحب جی‘‘ کا گانا تھا۔ اس نسل نے اپنے آپ کو ’’لڈی ہے جمالو‘‘ میں گم کردیا تھا اور پھر ایسی راہ پر چل پڑی تھی جو تلوار سے تیز اور بال سے بھی نرم تھی۔


’’جو راہ ادھر کو جاتی ہے، مقتل سے گزر کر جاتی ہے‘‘

شاید ایسے ہی سفر کو کہا گیا تھا۔ یہ ضیاء الحق تھے۔ ’’تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔‘‘

مجھے نہیں معلوم کہ حیدرآباد سندھ میں پکے قلعے کے صدر دروازے پر لگا ہوا ضیاء الحق کا کٹ آؤٹ اب بھی موجود ہے یا نہیں، لیکن وہاں ’’قیوم چریا‘‘ نامی شخص ضیاء الحق کا زبردست مداح تھا جو سنہ⁦1985⁩ء کے غیر جماعتی انتخابات میں ایم پی اے بھی بنا۔

اس نے کہا تھا کہ اگر جنرل ضیاء نے ملک سے مارشل لا اٹھا دیا تو وہ اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دے گا۔ لیکن ہنسی بھول جانے والے اس عہد میں ہنسنے کی جو چیزیں ہوتی تھیں، وہ قیوم چریا کی تقریریں ہوا کرتی تھیں۔

نیاز اسٹیڈیم کا منظر

نیاز اسٹیڈیم میں کالے خان کو چینی کی بلیک مارکیٹنگ کے الزام میں سرعام کوڑے لگائے گئے۔ اسے دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ آئے اور انہوں نے یہ مناظر بھی ویسے ہی دیکھے جیسے وہ وہاں کرکٹ کے میچ دیکھا کرتے تھے۔

اسٹیڈیم میں ٹنگی ٹکٹکی پر اوندھے منہ، شلوار گھٹنوں تک اتری ہوئی تھی۔ کالے خان کے منہ کے آگے لاؤڈ اسپیکر فٹ کیے گئے تھے اور جلاد جب اسے کوڑے مارتا تو کالے خان کی چیخیں کسی ذبح ہوتے ہوئے بکرے کی رونگٹے کھڑے کردینے والی آواز کی طرح سارے اسٹیڈیم میں پھیل جاتیں۔

لوگ اس پر ’’نعرۂ تکبیر‘‘، ’’مردِ مومن، مردِ حق، ضیاء الحق‘‘ اور ’’اسلام زندہ باد‘‘ کے نعرے بلند کرتے۔

کہتے ہیں کہ کالے خان اور اس وقت کے مارشل لا انتظامیہ کے افسر کی رشوت کی رقم پر آپس میں نہیں بنی تھی۔ پر نانگو لین کوٹری کے میخانے میں چرس کی چلم پیتے ہوئے ’’فقرا‘‘ کہتے کہ ’’تھانیدار غلام علی خان نے کیس کے کاغذات ہی ایسے بنائے ہیں کہ کالے خان چھوٹ ہی نہیں سکتا۔‘‘

کالے خان تو کیا، صحافیوں سے لے کر نابینا عورت تک سب کو کوڑے لگائے گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ پورے ملک کو
’’تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی‘‘
اور کوڑوں کی تھاپ پر رقص سکھایا جا رہا تھا۔

مزاحمت کی چند آوازیں

بس شیما کرمانی ایک ایسی عورت تھیں جنہوں نے سچ مچ میں رقص کی جرأت کرلی تھی۔ کارٹونسٹ فیکا تھا جو ضیاء الحق کے کارٹون بنایا کرتا تھا۔

میں نے خود تو اس کے منہ سے نہیں سنا، لیکن مجھے ایک دوست بتا رہا تھا کہ ضیاء الحق کے مرنے پر فیقا نے کہا:
’’میرے کارٹونوں کے لیے کیریکٹر مر گیا۔‘‘

ضیاء الحق کا دور ایک ایسا ’’کمبل‘‘ ہے جسے پاکستان چھوڑ چکا، لیکن وہ آج تک پاکستان کو نہیں چھوڑتا۔

لیکن ’’ظلِ سبحانی‘‘ جنرل محمد ضیاء الحق کا یہ دور وہ ’’کمبل‘‘ ہے جسے پاکستان تو چھوڑ چکا، لیکن وہ آج تک پاکستان کو نہیں چھوڑتا۔

احمد فراز نے ضیاء الحق کی موت پر کہا تھا:


’’مجھے آج اس شعر کا مطلب سمجھ میں آیا ہے:

شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے‘‘

ضیاء الحق کا دور ایک ایسا کمبل ہے جسے پاکستان چھوڑ بھی چکا، لیکن وہ پیارے پاکستان کو نہیں چھوڑتا۔

حسن مجتبیٰ کی یہ تحریر پاکستان کے ایک انتہائی متنازع اور کرب ناک سیاسی دور کی یادوں، مشاہدات اور اجتماعی حافظے کو ادبی و صحافتی انداز میں بیان کرتی ہے۔
ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

"`

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleاٹل بہاری واجپائی: 16 اگست، امن کی آواز خاموش ہو گئی
Next Article روس۔یوکرین جنگ⁦:⁩میدانِ جنگ سے ابھرنے والے نئے عسکری حقائق
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.