"`html
شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے

جب ہم میں سے بہت سوں نے اسے پاکستان ٹیلی ویژن کی اسکرین پر پہلی بار دیکھا تو وہ
’’شیطان الرجیم سے پناہ مانگتے، بسم اللہ پڑھتے اور نحمدہ کہتے‘‘
’’عزیز ہم وطنو!السلام علیکم‘‘ کہہ رہا تھا۔ اپنی تحریر شدہ تقریر کے اوراق وہ اپنی انگلی سے، اپنی بڑی مونچھوں تلے چھپے منہ میں زبان سے تھوک لگا کر الٹتا تھا۔
وہ بقولِ شخصے پرانے زمانے کی فلموں کے اس ولن کی طرح لگتا تھا جو ہیروئن کے ہاتھ پاؤں باندھ کر اسے وہاں، تھوڑی دیر بعد گزرنے والی ٹرین کی پٹریوں پر پھینک دیتا ہے۔
یہ پانچ جولائی انیس سو ستتر کی شب کو پاکستان میں آنے والا جنرل محمد ضیاء الحق اور اس کا مارشل لا تھا، جس کے بارے میں پھر احمد فراز نے کہا تھا:
دیکھنے والوں نے دیکھا ہے
اک شب جب شب خون پڑا
گلیوں میں بارود کی بو تھی
کلیوں پر سب خون پڑا
رکھوالوں کی نیت بدلی
گھر کے مالک بن بیٹھے
جو آواز جہاں سے اٹھی
اس پر تیر و تبر برسے
ایسے ہونٹ سلے لوگوں کے
آوازوں کو بھی ترسے
پاکستان میں ہر آدمی اور ہر گھر کے پاس اس دورِ پرآشوب کے متعلق ایک ذاتی یادداشت اور ایک ذاتی قصہ کہانی ضرور ہے۔ یہ وہ دور تھا جب ایک پوری نسل اپنی کمر پر کوڑے کھانے کے لیے ’’میڈیکلی فٹ‘‘ قرار دے دی گئی تھی۔
ننگی پشت سے بھی نیچے کی ادھڑتی کھال اور گوشت سے بہتے ہوئے خون والا کوئی سیاسی قیدی جلاد کو گالیاں دے کر کہتا تھا: ’’مارو!‘‘
’’لڈی ہے جمالو، پاؤ لڈی ہے جمالو‘‘ اسی دور کی فلم ’’صاحب جی‘‘ کا گانا تھا۔ اس نسل نے اپنے آپ کو ’’لڈی ہے جمالو‘‘ میں گم کردیا تھا اور پھر ایسی راہ پر چل پڑی تھی جو تلوار سے تیز اور بال سے بھی نرم تھی۔
’’جو راہ ادھر کو جاتی ہے، مقتل سے گزر کر جاتی ہے‘‘
شاید ایسے ہی سفر کو کہا گیا تھا۔ یہ ضیاء الحق تھے۔ ’’تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔‘‘
مجھے نہیں معلوم کہ حیدرآباد سندھ میں پکے قلعے کے صدر دروازے پر لگا ہوا ضیاء الحق کا کٹ آؤٹ اب بھی موجود ہے یا نہیں، لیکن وہاں ’’قیوم چریا‘‘ نامی شخص ضیاء الحق کا زبردست مداح تھا جو سنہ1985ء کے غیر جماعتی انتخابات میں ایم پی اے بھی بنا۔
اس نے کہا تھا کہ اگر جنرل ضیاء نے ملک سے مارشل لا اٹھا دیا تو وہ اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دے گا۔ لیکن ہنسی بھول جانے والے اس عہد میں ہنسنے کی جو چیزیں ہوتی تھیں، وہ قیوم چریا کی تقریریں ہوا کرتی تھیں۔
نیاز اسٹیڈیم کا منظر
نیاز اسٹیڈیم میں کالے خان کو چینی کی بلیک مارکیٹنگ کے الزام میں سرعام کوڑے لگائے گئے۔ اسے دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ آئے اور انہوں نے یہ مناظر بھی ویسے ہی دیکھے جیسے وہ وہاں کرکٹ کے میچ دیکھا کرتے تھے۔
اسٹیڈیم میں ٹنگی ٹکٹکی پر اوندھے منہ، شلوار گھٹنوں تک اتری ہوئی تھی۔ کالے خان کے منہ کے آگے لاؤڈ اسپیکر فٹ کیے گئے تھے اور جلاد جب اسے کوڑے مارتا تو کالے خان کی چیخیں کسی ذبح ہوتے ہوئے بکرے کی رونگٹے کھڑے کردینے والی آواز کی طرح سارے اسٹیڈیم میں پھیل جاتیں۔
لوگ اس پر ’’نعرۂ تکبیر‘‘، ’’مردِ مومن، مردِ حق، ضیاء الحق‘‘ اور ’’اسلام زندہ باد‘‘ کے نعرے بلند کرتے۔
کہتے ہیں کہ کالے خان اور اس وقت کے مارشل لا انتظامیہ کے افسر کی رشوت کی رقم پر آپس میں نہیں بنی تھی۔ پر نانگو لین کوٹری کے میخانے میں چرس کی چلم پیتے ہوئے ’’فقرا‘‘ کہتے کہ ’’تھانیدار غلام علی خان نے کیس کے کاغذات ہی ایسے بنائے ہیں کہ کالے خان چھوٹ ہی نہیں سکتا۔‘‘
کالے خان تو کیا، صحافیوں سے لے کر نابینا عورت تک سب کو کوڑے لگائے گئے۔ ایسا لگتا تھا کہ پورے ملک کو
’’تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی‘‘
اور کوڑوں کی تھاپ پر رقص سکھایا جا رہا تھا۔
مزاحمت کی چند آوازیں
بس شیما کرمانی ایک ایسی عورت تھیں جنہوں نے سچ مچ میں رقص کی جرأت کرلی تھی۔ کارٹونسٹ فیکا تھا جو ضیاء الحق کے کارٹون بنایا کرتا تھا۔
میں نے خود تو اس کے منہ سے نہیں سنا، لیکن مجھے ایک دوست بتا رہا تھا کہ ضیاء الحق کے مرنے پر فیقا نے کہا:
’’میرے کارٹونوں کے لیے کیریکٹر مر گیا۔‘‘
لیکن ’’ظلِ سبحانی‘‘ جنرل محمد ضیاء الحق کا یہ دور وہ ’’کمبل‘‘ ہے جسے پاکستان تو چھوڑ چکا، لیکن وہ آج تک پاکستان کو نہیں چھوڑتا۔
احمد فراز نے ضیاء الحق کی موت پر کہا تھا:
’’مجھے آج اس شعر کا مطلب سمجھ میں آیا ہے:
شہید کی جو موت ہے، وہ قوم کی حیات ہے‘‘
ضیاء الحق کا دور ایک ایسا کمبل ہے جسے پاکستان چھوڑ بھی چکا، لیکن وہ پیارے پاکستان کو نہیں چھوڑتا۔
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
"`

