امریکی نمائندہ جیرڈ کُشنر نے پیر کے روز کہا کہ انہیں امید ہے کہ غزہ میں امن کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد میں پیش رفت ہوگی۔ ان کے مطابق حماس کے اسلحے سے دستبرداری کا عمل تقریباً30دن میں شروع ہو سکتا ہے، جبکہ بعض سرنگوں کو ختم کرنے کا کام60سے90دن میں شروع کیا جا سکتا ہے۔
تل ابیب میں فوکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کُشنر نے کہا کہ تقریباً30دن میں پیش رفت شروع ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق اس میں حماس کے کچھ ہتھیار واپس لینے کا عمل شامل ہو سکتا ہے، جبکہ بعض سرنگوں کو ختم کرنے کا کام60سے90دن کے عرصے میں شروع کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا:ہمیں امید ہے کہ بعض سرنگوں کو ختم کرنے کا عمل بھی60سے90دن کے اندر شروع ہو جائے گا، لہٰذا پیش رفت جلد شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ان اقدامات پر عمل درآمد کے لیے دونوں فریقوں کا تعاون ضروری ہے۔
کُشنر نے زور دیا کہ امریکہ اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو محدود کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا۔ ان کا کہنا تھا:اگر کوئی براہِ راست خطرہ موجود ہو تو اسرائیل کے حقِ دفاع کو محدود کرنے کا ہمارا کوئی ارادہ نہیں۔انہوں نے مزید کہا:پیش رفت بہت جلد ممکن ہے، لیکن ہمیں دونوں فریقوں کے تعاون کی ضرورت ہے۔
ٹرمپ کے داماد کُشنر نے بتایا کہ انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے تقریباً چار گھنٹے طویل ملاقات کی، جس میں انہوں نے کئی متنازع معاملات پر انہیں یقین دہانیاں کرائیں۔
کُشنر کے مطابق اسرائیلی فریق نے کچھ جائز خدشات کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ غزہ کی تعمیر نو میں مدد کے لیے پرعزم ہے، تاہم ہم غزہ کی تعمیر نو اس وقت تک نہیں ہونے دیں گے جب تک اس کا اسلحہ ختم نہیں کیا جاتا۔ کوئی بھی کسی ایسی جگہ مزید رقم نہیں لگانا چاہتا جہاں دہشت گرد دوبارہ قبضہ کر لیں۔
انہوں نے مزید کہا:اگر فوری خطرات موجود ہوں ،تو ہم اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کو محدود نہیں کریں گے، اسی لیے ہمیں اس بات کی وضاحت کرنا پڑی کہ اس کا مطلب کیا ہے۔
کُشنر نے کہا کہ حماس رضاکارانہ طور پر آئندہ60سے90دن کے دوران اپنے ہتھیاروں سے دستبردار ہو جائے یا ایسا کرنے سے انکار کرے، اسرائیل ہر صورت میں کامیاب ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا:اسرائیل کو امریکہ اور دیگر فریقوں کی جانب سے کہیں زیادہ حمایت حاصل ہوگی تاکہ وہ مناسب طریقے سے اپنا مشن مکمل کر سکے۔
کُشنر نے بتایا کہ انہوں نے حماس کے بعض عہدیداروں کے ساتھ انتہائی دوستانہ ملاقات بھی کی، تاہم ان کا کہنا تھا:کسی دہشت گرد تنظیم پر اعتماد کرنا بہت، بہت مشکل ہے۔
کُشنر کے یہ بیانات غزہ سے متعلق ٹرمپ کے منصوبے پر عمل درآمد کے لیے جاری امریکی کوششوں کے دوران سامنے آئے ہیں۔ آئندہ مرحلے میں حماس کو غیر مسلح کرنا اور اس کے فوجی انفراسٹرکچر کو ختم کرنا اہم معاملات میں شامل ہیں۔
کُشنر پیر کو اسرائیل سے روانہ ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل انہوں نے مصر میں حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کی تھی، جبکہ اس سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی ملاقات کر چکے تھے۔ ان ملاقاتوں کا مقصد اس منصوبے کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش تھا، جسے اکتوبر میں طے پانے والی جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملوں اور غزہ میں مزید علاقوں پر قبضے کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ دوسری جانب حماس اپنے ہتھیار چھوڑنے سے انکار کر رہی ہے۔
امریکی صدر نے گزشتہ ماہ اعلان کیا تھا کہ حماس نے مرحلہ وار اپنے ہتھیار ختم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ یہ پیش رفت ٹرمپ سے منسلک نام نہاد”امن کونسل”کی جانب سے پیش کیے گئے15نکاتی روڈ میپ کے تحت ہوئی، جس کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کو غزہ سے انخلا کرنا ہوگا۔
حماس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل جنگ بندی کی پاسداری کرتے ہوئے غزہ سے اپنی فوج واپس بلائے، جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان ٹرمپ کے جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر عمل درآمد کے مراحل اور ٹائم لائن کو لے کر اختلاف برقرار ہے۔

