• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » زندہ ہے ضیاء، زندہ ہے
فیچرڈ

زندہ ہے ضیاء، زندہ ہے

احمد نعیم خان ایڈیٹر کینیڈا
نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 20, 2026Updated:اگست 20, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

زندہ ہے ضیاء، زندہ ہے

تحریر: احمد نعیم خان

احمد نعیم خان

پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کی سیاسی قیادت میں اتنی جرات نہیں کہ آمر جنرل ضیاء الحق کی آئین میں کی گئی تبدیلیوں کو حاصل آئینی تحفظ کا ازسرِنو جائزہ لے سکے۔

"`

بہاولپور کی فضا میں پاک وَن کے حادثے کو تقریباً چار دہائیاں گزرنے کو ہیں، لیکن جنرل محمد ضیاء الحق کا تیار کردہ آئینی ڈھانچہ آج بھی پاکستان کے نظامِ حکومت میں گہری چھاپ رکھتا ہے۔

جنرل محمد ضیاء الحق⁦1988⁩میں طیارہ حادثے میں ہلاک ہو گئے، مگر ان کی سیاسی اور آئینی میراث محض ایک دھندلی تاریخی یاد نہیں۔ اس میراث کے کئی حصے آج بھی آئینی اور قانونی ڈھانچے میں موجود ہیں۔ ان میں نمایاں ترین آرٹیکل 270-A ہے، جس نے ضیاء دور کے متعدد صدارتی احکامات، مارشل لا ریگولیشنز، مارشل لا آرڈرز اور دیگر قوانین کو آئینی تحفظ فراہم کیا۔⁦1985⁩کی آئینی ترمیم کے ذریعے آرٹیکل⁦270-A⁩کو موجودہ شکل دی گئی۔ اس کے تحت⁦5⁩جولائی⁦1977⁩سے آرٹیکل کے نافذ ہونے تک جاری کیے گئے متعدد احکامات اور قوانین کو آئینی تحفظ دیا گیا، یوں ضیاء دور کے کئی قانونی اقدامات کو بعد کی عدالتی جانچ سے ایک خاص حد تک تحفظ حاصل ہوا۔

بعد کی جمہوری پارلیمانوں نے آئینی نظام میں اہم تبدیلیاں ضرور کیں۔ خصوصاً اٹھارہویں ترمیم نے صدارتی اختیارات کے توازن سمیت کئی معاملات میں نمایاں اصلاحات کیں، لیکن ضیاء دور کی آئینی میراث کے ہر پہلو کو ختم یا ازسرِنو جانچنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ یوں اس دور کے کئی قانونی اثرات پاکستان کے ریاستی اور سیاسی نظام میں برقرار رہے۔

ضیاء دور اور توہینِ مذہب کے قوانین

اس آئینی میراث کا ایک اہم اور متنازع پہلو پاکستان کے توہینِ مذہب سے متعلق قوانین کی بعد کی تاریخ ہے۔ ضیاء الحق کے دور میں پاکستان پینل کوڈ میں مذہبی جرائم سے متعلق متعدد سخت دفعات متعارف یا مزید سخت کی گئیں۔

بالخصوص دفعہ 295-B کے تحت قرآنِ مجید کی بے حرمتی کے لیے عمر قید کی سزا مقرر کی گئی، جبکہ دفعہ 295-C کے ذریعے حضور اکرم ﷺ کی شان میں توہین آمیز کلمات سے متعلق انتہائی سخت سزا متعارف کرائی گئی۔

اہم نکتہ:
آرٹیکل⁦270-A⁩نے ضیاء دور کے متعدد اقدامات کو آئینی توثیق دی، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ متعلقہ قوانین ہمیشہ کے لیے ناقابلِ ترمیم ہو گئے۔ پارلیمان اپنے آئینی اختیار کے تحت قوانین میں ترمیم یا انہیں منسوخ کر سکتی ہے۔

قانون سے باہر بنتا ہوا خوف

آج توہینِ مذہب کے الزامات کا اثر صرف عدالتی کمروں تک محدود نہیں۔ کئی معاملات میں الزام، مقدمے اور عدالتی عمل سے پہلے ہی معاشرتی دباؤ، دھمکیوں اور ہجومی تشدد کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس صورتحال میں بے بنیاد یا غیر ثابت شدہ الزامات بھی خطرناک نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔

سلمان تاثیر اور شہباز بھٹی کے قتل، اور لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس عارف اقبال بھٹی کے قتل جیسے واقعات پاکستان میں مذہبی الزامات کے گرد پیدا ہونے والی شدت پسندی اور قانون سے ماورا تشدد کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ایسے واقعات میں الزام اور ثبوت کے درمیان فرق، قانونی عمل کی اہمیت اور ریاست کی ذمہ داری مزید نمایاں ہو جاتی ہے۔

جب کسی الزام کے نتیجے میں عدالت کے فیصلے سے پہلے ہی ہجوم اپنا فیصلہ صادر کرنے لگے، ٹرائل جج دباؤ کا شکار ہوں اور پولیس افسران خوف کے ماحول میں کام کریں تو قانون کی حکمرانی شدید متاثر ہوتی ہے۔ انصاف کا بنیادی اصول یہی ہے کہ کسی بھی الزام کا فیصلہ شفاف قانونی عمل، ثبوت اور عدالت کے ذریعے ہو، نہ کہ ہجومی طاقت کے ذریعے۔

ضیاء کے سائے سے نکلنے کا سوال

تقریباً چار دہائیاں گزرنے کے باوجود پاکستان آج بھی اس سوال سے مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکا کہ ضیاء الحق کے دور میں بننے والے آئینی اور قانونی ڈھانچے کے کون سے حصے موجودہ جمہوری ریاست کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں اور کن میں اصلاح کی ضرورت ہے۔

محض حکومتوں کی تبدیلی یا معمول کے انتخابی عمل سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمان ضیاء دور سے ورثے میں ملنے والے قوانین اور آئینی تحفظات کا سنجیدہ، شفاف اور آئینی جائزہ لے، تاکہ قانون کی حکمرانی، بنیادی حقوق اور منصفانہ عدالتی عمل کو مضبوط بنایا جا سکے۔

اگر پاکستان واقعی ایک مضبوط جمہوری اور آئینی ریاست بننا چاہتا ہے تو اسے اپنی تاریخ کے مشکل ابواب سے نظریں نہیں چرانا ہوں گی۔ ضیاء الحق کا جسمانی وجود چار دہائیاں پہلے ختم ہو گیا، مگر اس دور کے کئی سیاسی و قانونی اثرات آج بھی موجود ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی سیاسی قیادت ان اثرات کا سامنا کرنے اور ضرورت پڑنے پر اصلاح کرنے کی آئینی جرات دکھا سکے گی؟

"`

“
ضیاء الحق گزر گئے، مگر ان کے دور کی کئی آئینی و قانونی نشانیاں آج بھی موجود ہیں۔ اصل سوال ان نشانیوں کو سمجھنے، پرکھنے اور جہاں ضروری ہو اصلاح کرنے کا ہے۔
”

ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات سے نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔
احمد نعیم خان
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleگیان، دھیان اور بھنگ
Next Article کراچی کا پیرس
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.