• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » کیا ایٹمی ہتھیار پاکستان کو واقعی محفوظ بناتے ہیں؟ آخری قسط
ایشیا

کیا ایٹمی ہتھیار پاکستان کو واقعی محفوظ بناتے ہیں؟ آخری قسط

نیوز ڈیسکBy نیوز ڈیسکاگست 24, 2026Updated:اگست 24, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

"`html

کیا ایٹمی ہتھیار پاکستان کو واقعی محفوظ بناتے ہیں؟

میزائل دفاع، جوہری بازدارندگی، روایتی جنگ، داخلی سلامتی اور بدلتی ہوئی عسکری ٹیکنالوجی کے تناظر میں پاکستان کی قومی سلامتی کا ایک غیر جانب دار جائزہ۔

منصور لغاری

منصور لغاری

میزائل دفاع ایک نئی مساوات پیدا کررہا ہے

جدید میزائل دفاع بھی جوہری توازن کو متاثر کرتا ہے۔

اگر کوئی ملک یہ صلاحیت حاصل کرتا ہے کہ وہ دشمن کے بیلسٹک میزائلوں کا بڑا حصہ فضا میں روک سکے تو مخالف ملک کو خدشہ ہوسکتا ہے کہ اس کی جوابی کارروائی کی صلاحیت کمزور ہورہی ہے۔

پھر وہ کیا کرسکتا ہے؟

مزید میزائل تیار کرسکتا ہے۔

ایک ہی وقت میں زیادہ میزائل داغنے کی صلاحیت پیدا کرسکتا ہے۔

ایسے میزائل بنا سکتا ہے جو دفاعی نظام کو دھوکا دے سکیں۔

یا مختلف راستوں سے حملہ کرنے والے نئے ہتھیار تیار کرسکتا ہے۔

اس طرح دفاعی ٹیکنالوجی بھی بعض اوقات ہتھیاروں کی نئی دوڑ پیدا کرسکتی ہے۔

یہ مسئلہ صرف جنوبی ایشیا کا نہیں بلکہ امریکہ، روس اور چین کی جوہری حکمتِ عملی میں بھی موجود ہے۔

تعداد سے زیادہ اہم چیز⁦:⁩دوسرا حملہ

جوہری ہتھیاروں کے بارے میں عام بحث اکثر اس سوال پر رک جاتی ہے کہ کس ملک کے پاس کتنے بم ہیں۔

عسکری اعتبار سے یہ مکمل تصویر نہیں۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے⁦:⁩اگر دشمن پہلے حملے میں آپ کو نشانہ بنائے تو کیا آپ کے پاس اس کے بعد بھی جوابی جوہری حملے کی قابلِ اعتماد صلاحیت باقی رہے گی؟

اسی کو دوسرے حملے کی صلاحیت کہا جاتا ہے۔

یہ جوہری بازدارندگی کا بنیادی ستون ہے۔

اگر مخالف کو یقین ہو کہ وہ اچانک حملہ کرکے آپ کی پوری جوہری قوت ختم نہیں کرسکتا، اور آپ پھر بھی تباہ کن جواب دے سکتے ہیں، تو اس کے لیے پہلا حملہ کرنا انتہائی خطرناک ہوجاتا ہے۔

اسی لیے جوہری طاقتیں اپنے ہتھیار مختلف مقامات پر رکھتی ہیں، متحرک میزائل استعمال کرتی ہیں اور بعض صورتوں میں آبدوزوں کے ذریعے جوابی حملے کی صلاحیت قائم کرتی ہیں۔

بازدارندگی کا اصل مقصد ہزاروں ہتھیار جمع کرنا نہیں۔

اصل مقصد دشمن کے ذہن میں یقین پیدا کرنا ہے کہ پہلا حملہ اسے محفوظ نہیں کرے گا۔

کیا زیادہ جوہری ہتھیار زیادہ سلامتی دیتے ہیں؟

ایک حد کے بعد ضروری نہیں۔

اگر کسی ملک کے پاس پہلے ہی قابلِ اعتماد جوابی کارروائی کی صلاحیت موجود ہے تو مزید ہتھیار لازماً اسی تناسب سے مزید سلامتی فراہم نہیں کرتے۔

اس کے برعکس زیادہ ہتھیاروں کے ساتھ حفاظت، کمانڈ، مواصلات، حادثاتی استعمال اور غلط فیصلے کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

یہاں قومی سلامتی اور اسلحے کی تعداد کے درمیان فرق سمجھنا ضروری ہے۔

طاقت صرف یہ نہیں کہ آپ دشمن کو کتنا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ طاقت یہ بھی ہے کہ آپ بحران کو کتنا قابو میں رکھ سکتے ہیں۔

ایک محفوظ ریاست کی اصل تعریف

یہاں بحث جوہری ہتھیاروں سے کہیں آگے نکل جاتی ہے۔

ایک ملک صرف اس لیے محفوظ نہیں ہوجاتا کہ اس کے پاس دشمن کے شہروں کو تباہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

حقیقی قومی طاقت کئی ستونوں پر قائم ہوتی ہے۔

مضبوط معیشت، سیاسی استحکام، قابلِ اعتماد ریاستی ادارے، جدید اور پیشہ ور فوج، مؤثر پولیس اور انٹیلی جنس، محفوظ سرحدیں، توانائی کا قابلِ اعتماد نظام، تعلیم یافتہ اور ہنرمند آبادی، جدید صنعت اور ایسی سفارت کاری جو غیر ضروری جنگوں کے امکانات کم کرے۔

جوہری ہتھیار اس عمارت کا ایک اہم ستون ہوسکتے ہیں، لیکن وہ پوری عمارت نہیں۔

سوویت یونین اس کی تاریخی مثال ہے۔ اس کے پاس دنیا کے سب سے بڑے جوہری ذخائر میں سے ایک موجود تھا، لیکن یہ طاقت اس کے سیاسی اور معاشی انہدام کو نہیں روک سکی۔

ایٹمی بم سرحد کی حفاظت کرسکتا ہے، وہ کمزور معیشت کو مضبوط نہیں کرسکتا۔

بھارت اور پاکستان کے لیے اصل امتحان

جنوبی ایشیا میں تقریباً دو ارب انسان بستے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان جوہری جنگ میں روایتی معنوں میں کوئی حقیقی فاتح نہیں ہوگا۔

یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے جوہری ہتھیاروں کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ انہیں کبھی استعمال کیا جائے۔

ان کی کامیابی یہ ہے کہ ان کے وجود کی وجہ سے انہیں استعمال کرنے کی نوبت نہ آئے۔

اگر جوہری بازدارندگی دونوں ممالک کو مکمل جنگ سے روکتی ہے تو یہ اپنا بنیادی مقصد پورا کررہی ہے۔

لیکن اسی نظام میں ایک خطرناک تضاد بھی موجود ہے۔

اگر سیاسی اور فوجی قیادت یہ یقین کرنے لگے کہ جوہری ہتھیار بڑی جنگ روک دیں گے، اس لیے محدود فوجی کارروائی نسبتاً محفوظ ہے، تو بازدارندگی خود خطرہ مول لینے کی ترغیب بن سکتی ہے۔

مئی⁦2025⁩کا بحران اسی لیے اہم تھا۔ دونوں ممالک نے فوجی طاقت استعمال کی، لیکن بالآخر کشیدگی روک دی گئی۔

اس تجربے سے اطمینان حاصل کرنے کے بجائے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

ہر اگلا بحران پچھلے بحران کی طرح ختم ہوگا، اس کی کوئی ضمانت نہیں۔

آخری بات

تو کیا ایٹمی ہتھیار پاکستان کو واقعی محفوظ بناتے ہیں؟

اس سوال کا درست جواب نہ مکمل⁦”⁩ہاں⁦”⁩ہے اور نہ مکمل⁦”⁩نہیں⁦”⁩۔

پاکستان کی جوہری صلاحیت نے بھارت کی روایتی فوجی برتری کے مقابل ایک مؤثر بازدار توازن قائم کیا ہے۔ کسی بھی بڑے پیمانے کے حملے کی قیمت ناقابلِ قبول بنانے کی صلاحیت پاکستان کی ریاستی سلامتی کے لیے حقیقی اور اہم فائدہ ہے۔

اس حقیقت کو نظر انداز کرنا درست عسکری تجزیہ نہیں ہوگا۔

لیکن یہ سمجھنا بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ جوہری بازدارندگی کی حدود کہاں ختم ہوتی ہیں۔

ایٹمی ہتھیار دہشت گردی ختم نہیں کرسکتے۔

وہ شورش کا سیاسی حل نہیں۔

وہ سائبر حملہ نہیں روک سکتے۔

وہ معاشی کمزوری دور نہیں کرسکتے۔

وہ ریاستی اداروں کو مضبوط نہیں بناتے۔

اور سب سے بڑھ کر، وہ انسانی غلطی اور غلط عسکری اندازے کو ختم نہیں کرسکتے۔

پاکستان کی جوہری صلاحیت اس کے قومی دفاع کا ایک انتہائی اہم ستون ہے، لیکن اسے پورا دفاع سمجھ لینا ایک خطرناک سادہ کاری ہوگی۔

اکیسویں صدی میں پاکستان کی حقیقی سلامتی کا انحصار صرف اس بات پر نہیں ہوگا کہ اس کے پاس کتنے جوہری ہتھیار ہیں۔

اصل سوال یہ ہوگا کہ اس کی معیشت کتنی مضبوط ہے، فوج کتنی جدید ہے، انٹیلی جنس کتنی مؤثر ہے، ادارے کتنے مستحکم ہیں، داخلی تنازعات کتنے دانشمندانہ طریقے سے حل کیے جاتے ہیں اور سیاسی قیادت بحران کے وقت کتنی ذمہ داری سے فیصلے کرتی ہے۔

جوہری ہتھیار دشمن کو ایک بڑی جنگ شروع کرنے سے روک سکتے ہیں۔

لیکن کسی قوم کو حقیقی معنوں میں محفوظ، مستحکم اور طاقتور بنانے کے لیے صرف ایٹمی بم کافی نہیں ہوتا۔
متعلقہ تحریر:

کیا ایٹمی ہتھیار پاکستان کو واقعی محفوظ بناتے ہیں؟ — پہلی قسط
مصنف کا تعارف

منصور لغاری امریکی فوج کے سابق اسپیشلسٹ، دفاعی و عسکری تجزیہ کار، انسانی حقوق کے کارکن اور گلوبل یوتھ یونٹی پروجیکٹ کے بانی ہیں۔ وہ بین الاقوامی سلامتی، دہشت گردی و انتہا پسندی، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور جدید جنگی حکمتِ عملی پر لکھتے ہیں۔

ڈس کلیمر:
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کرلیں۔
NYUrdu.com — خبر، تجزیہ اور رائے

"`

Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleپزشکیان نے امریکہ کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کا دفاع کر دیا، ’’مسئلے کے حل کا بہترین راستہ‘‘
Next Article عبد الحی السید کو اوشا وینس پر سوشل میڈیا پوسٹس کے باعث شدید تنقید کا سامنا
نیوز ڈیسک

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.