کینیڈا اور امریکہ کی تجارتی جنگ:کس کی جیت، کس کی ہار؟
کینیڈا اور امریکہ کے درمیان گزشتہ ڈیڑھ سال سے جاری تجارتی تنازع اس ہفتے اس وقت شدید تر ہو گیا جب دونوں حکومتوں نے ٹیرف(محصولات)کے معاملے پر ایک دوسرے کے خلاف تادیبی کارروائی کی۔ معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس تعطل سے دونوں معیشتوں کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
22 اگست کو کینیڈا کی وسیع پیمانے پر مصنوعات پر50فیصد امریکی ٹیرف نافذ العمل ہوا، جن میں ڈیری، الکحل، الیکٹرانکس، تعمیری سامان، ملبوسات اور زرعی مصنوعات شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس نے اس اقدام کو کینیڈا کی جانب سے امریکی ڈیری، الکحل اور گاڑیوں کی برآمدات کے ساتھ مبینہ ”امتیازی سلوک“ کے جواب میں انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ ٹیرف ان اشیاء پر بھی لاگو ہوتے ہیں جو کینیڈا، امریکہ اور میکسیکو کے درمیان موجود تجارتی معاہدےCUSMAکے مطابق ہیں، جبکہ امریکی حکام نے ان اقدامات کی کوئی اختتامی تاریخ بھی مقرر نہیں کی۔
کینیڈا کا جوابی وار
کینیڈا نے جواب دینے میں زیادہ دیر نہیں لگائی۔ منگل کے روز وزیر اعظم مارک کارنی نے سینکڑوں امریکی مصنوعات پر50فیصد تک کے جوابی ٹیرف کا اعلان کیا، جو8ستمبر سے نافذ العمل ہوں گے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں امریکی اسٹیل اور ایلومینیم پر کینیڈین ٹیرف دگنا ہو کر50فیصد ہو جائے گا، جبکہ اس کا دائرہ الیکٹرانکس، ڈیری اور دیگر اشیاء تک بھی پھیلایا جائے گا۔ کارنی کے مطابق یہ پیکیج ”واشنگٹن کے نئے ٹیرف کا برابر کا جواب“ ہوگا۔
”کینیڈا اس تنازع میں اپنی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔“
اوٹاوا میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مارک کارنی کا یہ بیان واضح اشارہ دیتا ہے کہ کینیڈین حکومت امریکی دباؤ کے سامنے فوری طور پر پیچھے ہٹنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔
تنازع کی ابتدا کہاں سے ہوئی؟
موجودہ تجارتی کشمکش کا آغاز فروری2025میں ہوا، جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا اور میکسیکو سے درآمد ہونے والی اشیاء پر تقریباً عالمگیر ٹیرف عائد کیے۔ زیادہ تر اشیاء پر25فیصد محصولات عائد کیے گئے، جبکہ کینیڈین توانائی کے لیے10فیصد ٹیرف رکھا گیا۔
کینیڈا نے بھی جوابی ٹیرف عائد کیے جو بالآخر تقریباً155ارب کینیڈین ڈالر مالیت کی امریکی اشیاء تک پھیل گئے۔ اس کے بعد تنازع اسٹیل، ایلومینیم، گاڑیوں اور صارفین کی اشیاء تک وسیع ہوتا چلا گیا۔
نتیجتاً دہائیوں سے نسبتاً ہموار انداز میں چلنے والی دونوں ملکوں کی سپلائی چینز متاثر ہوئیں۔ یکم جولائی کی توسیع کی آخری تاریخ بھی کسی معاہدے کے بغیر گزر گئی، جس کے بعدCUSMAکی تجدید کے لیے مذاکرات ناکام ہوئے اور معاہدہ ایک غیر یقینی سالانہ جائزے کے عمل میں داخل ہو گیا۔
تجارتی جنگ کا عوامی ردِعمل
اس معاشی کشمکش نے دونوں ملکوں کے عوامی جذبات کو بھی متاثر کیا ہے۔ امریکی مصنوعات اور سفر کے بائیکاٹ کا رجحان، جو2025کے اوائل میں کینیڈا میں شروع ہوا تھا، مزید مضبوط ہوا ہے۔
صدر ٹرمپ کے بار بار اس بیان نے بھی کینیڈین عوام میں ناراضی کو بڑھایا کہ کینیڈا مستقبل میں ”51 ویں ریاست“ بن سکتا ہے۔ سرحد پار سفر میں کمی آئی ہے، جبکہ بعض صوبائی حکومتوں نے معاشی قوم پرستی کے اظہار کے طور پر امریکی کمپنیوں کے ساتھ معاہدے منسوخ کیے ہیں۔
کیا اس جنگ میں کوئی فاتح ہے؟
تجارتی تجزیہ کار بڑی حد تک ایک بات پر متفق ہیں:اس تنازع میں کسی ایک ملک کی واضح فتح ممکن نہیں۔ البتہ کینیڈا کے لیے خطرات نسبتاً زیادہ نمایاں ہیں۔
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کینیڈا کی برآمدات کا تقریباً تین چوتھائی حصہ جنوبی سرحد عبور کرکے امریکہ جاتا ہے، جبکہ امریکی برآمدات کا نسبتاً چھوٹا حصہ کینیڈا کی منڈی پر منحصر ہے۔
اس عدم توازن کے باعث اسٹیل، ایلومینیم، آٹو اور توانائی سمیت متعدد کینیڈین صنعتوں کو طویل مدتی ٹیرف نظام سے شدید خطرات لاحق ہیں۔ امریکی منڈی تک رسائی میں رکاوٹ کینیڈین صنعتوں، کارکنوں اور کاروباری اداروں کے لیے بھاری قیمت ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکہ بھی نقصان سے محفوظ نہیں
تاہم امریکہ بھی اس تجارتی جنگ کے اثرات سے محفوظ نہیں ہے۔ امریکی صارفین کو کینیڈین ڈیری، الکحل، لکڑی اور توانائی سمیت متعدد مصنوعات کے لیے زیادہ قیمتیں ادا کرنا پڑ سکتی ہیں۔
دوسری جانب امریکی اسٹیل، زراعت اور آٹو سیکٹر کے برآمد کنندگان کو کینیڈا کے جوابی ٹیرف کے ساتھ ساتھ کینیڈین خریداروں کے غیر رسمی بائیکاٹ کا بھی سامنا ہے۔
”تجارتی جنگ سے دونوں ممالک کو نقصان ہوگا، کیونکہ کاروباری لاگت اور صارفین کی قیمتوں میں اضافہ دونوں جانب جوابی کارروائیوں کا ناگزیر نتیجہ ہے۔“
مذاکرات کا راستہ اب بھی کھلا ہے؟
کینیڈا کے جوابی اقدامات8ستمبر سے لاگو ہونے والے ہیں، جبکہ دوبارہ مذاکرات کے فوری امکانات بھی واضح نہیں۔ اس صورتحال میں تجارتی تنازع کے جلد ختم ہونے کی امید کم دکھائی دیتی ہے۔
حالیہ امریکی ٹیرف کی غیر معین مدت اورCUSMAکے جائزے کا عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں اتحادی ممالک فوری سمجھوتے کے بجائے ایک طویل تجارتی کشمکش کے لیے خود کو تیار کر رہے ہیں۔
فی الحال سرحد کے دونوں اطراف کاروباری ادارے، کارکنان اور صارفین اس تنازع کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ یہ وہ دو معیشتیں ہیں جو حال ہی تک دنیا میں سب سے زیادہ باہم مربوط تجارتی شراکت داروں میں شمار ہوتی تھیں۔
اگر یہ تجارتی جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کا نقصان صرف حکومتوں یا بڑی کمپنیوں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ عام صارف، مزدور، کسان اور چھوٹا کاروبار بھی اس کی زد میں آئے گا۔ چنانچہ اس صورتِ حال پر یہ ضرب المثل بالکل صادق آتی ہے: سانڈوں کی لڑائی میں گھاس کچلی جاتی ہے۔

