جرمنی میں ہولوکاسٹ کے بعد پہلی بار یہودی مذہبی نصابی کتب اسکولوں میں متعارف کرانے کا فیصلہ
برلن/فرینکفرٹ، اگست 2026 — جرمن تعلیمی نظام میں ایک تاریخی پیش رفت، یہودی مذہبی تعلیم کو باضابطہ نصاب کا حصہ بنانے کے لیے جامع نصابی کتب کا نیا سلسلہ متعارف کرایا جائے گا۔
برلن/فرینکفرٹ، اگست 2026 — جرمنی کے اسکولوں میں ہولوکاسٹ کے بعد پہلی مرتبہ یہودی مذہبی تعلیم کے لیے سرکاری نصاب سے ہم آہنگ باضابطہ درسی کتب متعارف کرائی جا رہی ہیں۔ اسے جرمنی میں یہودی مذہبی تعلیم کی بحالی اور اسے باقاعدہ تعلیمی ڈھانچے میں شامل کرنے کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
آٹھ جلدوں پر مشتمل جرمن زبان کا یہ سلسلہ ’’دعات ہادوروت‘‘ (Da’at Hadorot) کے نام سے تیار کیا گیا ہے، جس کا مفہوم ’’نسلوں کا علم‘‘ ہے۔ یہ منصوبہ جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل نے معروف تعلیمی اشاعتی ادارے Ernst Klett Verlag کے اشتراک سے تیار کیا ہے۔ یہ کتابیں تقریباً10سے16سال عمر کے طلبہ کے لیے مرتب کی گئی ہیں اور انہیں یہودی اور غیر یہودی دونوں طلبہ استعمال کرسکیں گے۔
نئے سلسلے کی پہلی جلد تورات پر مرکوز ہے، جو نئے تعلیمی سال کے آغاز پر جرمن اسکولوں میں دستیاب ہوگی۔
تورات سے یہودی تاریخ تک مختلف موضوعات شامل
اس سلسلے کی پہلی جلد تورات کے موضوع پر ہے۔ بعد کی جلدیں تقریباً ہر سال ایک کے حساب سے شائع کی جائیں گی۔ ان میں تناخ(عبرانی بائبل)، عبادت و دعا، اخلاقیات، ہلاخہ(یہودی قانون)، مذہبی تہوار، یہودی زندگی کے مختلف مراحل اور یہودی تاریخ جیسے موضوعات شامل ہوں گے۔
جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے صدر یوزف شوستر نے اس منصوبے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک طویل عرصے کے بعد پہلی مرتبہ ایسی جامع درسی کتب کا سلسلہ تیار کیا جا رہا ہے جو سرکاری نصاب سے ہم آہنگ ہونے کے ساتھ ساتھ اساتذہ کے لیے معاون تدریسی مواد بھی فراہم کرے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے ذریعے یہودی مذہبی تعلیم کو جرمن اسکولوں میں عیسائی مذہبی مضامین کے مساوی تعلیمی حیثیت دینے کی جانب اہم پیش رفت ہوگی۔
جدید اور تعاملی تعلیمی مواد
نئی نصابی کتب میں جدید تعلیمی تقاضوں کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔ کتابوں میں کیو آر کوڈز سمیت مختلف انٹرایکٹو خصوصیات شامل ہوں گی، جبکہ عبرانی اصطلاحات کے ساتھ ان کے تراجم اور تلفظ بھی فراہم کیے جائیں گے تاکہ طلبہ کے لیے مواد کو سمجھنا آسان ہو۔
یہ سلسلہ ایک ایسے عملی خلا کو بھی پُر کرے گا جس کا سامنا جرمنی میں یہودی مذہبی تعلیم دینے والے اساتذہ کو طویل عرصے سے تھا۔ اس سے قبل انہیں ایک منظم اور نصاب سے ہم آہنگ مکمل سیریز کے بجائے مختلف اور منتشر تعلیمی مواد پر انحصار کرنا پڑتا تھا۔
نازی دور میں یہودی تعلیم کا خاتمہ
جرمنی میں نازیوں کے اقتدار میں آنے سے قبل یہودیوں کے لیے منظم مذہبی تعلیم کا باقاعدہ نظام موجود تھا۔ یہودی طلبہ کو رسمی مذہبی تعلیم دی جاتی تھی اور بڑے شہروں میں یہودیوں کے لیے مخصوص اسکول بھی قائم تھے۔
تاہم نازی حکومت نے1938ء میں یہودی بچوں کو جرمن اسکولوں سے خارج کردیا۔ اس کے بعد یہودی اسکول بھی بند کیے گئے اور1942ء تک یہودی مذہبی تعلیم پر مکمل پابندی عائد کردی گئی۔ اس طرح نازی دور میں یہودی تعلیمی اور مذہبی اداروں کا منظم نظام تقریباً ختم ہوگیا۔
نئی نصابی کتب کی اشاعت ہولوکاسٹ کے بعد جرمنی میں یہودی مذہبی تعلیم کی بحالی، ادارہ جاتی استحکام اور نئی نسل تک یہودی علمی و مذہبی روایت منتقل کرنے کی ایک نمایاں کوشش ہے۔
یہودی زندگی اور تاریخ کے بارے میں آگاہی کی وسیع کوشش
یہ اقدام جرمنی میں یہودی زندگی، تاریخ اور ثقافت کے بارے میں تعلیمی آگاہی بڑھانے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہے۔ جرمنی میں یہودی مخالف تعصب اور سام دشمنی کے بڑھتے ہوئے رجحانات کے تناظر میں تعلیمی اداروں میں یہودی تاریخ اور مذہبی و ثقافتی روایت کو زیادہ جامع اور درست انداز میں پیش کرنے پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ جرمنی کی یہودیوں کی مرکزی کونسل اور ملک کے وزرائے تعلیم کے درمیان ماضی میں ہونے والے مشترکہ اعلانات کی بنیاد پر بھی آگے بڑھ رہا ہے۔ ان کوششوں کا مقصد اسکولوں میں یہودیت کو محض تاریخی تناظر میں نہیں بلکہ ایک زندہ مذہبی، ثقافتی اور سماجی روایت کے طور پر زیادہ جامع انداز میں متعارف کرانا ہے۔
ہولوکاسٹ کے بعد ایک اہم تعلیمی سنگ میل
جرمن اسکولوں میں یہودی مذہبی تعلیم کے لیے اس جامع نصابی سلسلے کا آغاز محض نئی درسی کتابوں کی اشاعت نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی خلا کو پُر کرنے کی کوشش بھی ہے۔ اس منصوبے کے ذریعے یہودی طلبہ کو اپنی مذہبی اور ثقافتی روایت سے منظم انداز میں جڑنے کا موقع ملے گا، جبکہ غیر یہودی طلبہ بھی یہودیت، یہودی تاریخ اور ثقافت کو براہِ راست تعلیمی نصاب کے ذریعے سمجھ سکیں گے۔
جرمنی میں ہولوکاسٹ کی تاریخ کے بعد یہ پیش رفت اس امر کی علامت بھی سمجھی جا رہی ہے کہ ملک کا تعلیمی نظام مذہبی تنوع، تاریخی شعور اور باہمی تفہیم کو مضبوط بنانے کے لیے نئی راہیں تلاش کر رہا ہے۔
برلن/فرینکفرٹ | اگست 2026
موضوع: جرمنی، یہودی مذہبی تعلیم، ہولوکاسٹ، یہودی تاریخ، تعلیمی نصاب، سام دشمنی

