نیپال چین سرحد پر تباہ کن سیلاب کے بعد ڈھائی ہزار افراد اب بھی لاپتہ، تقریباً600ہلاک
نیپال اور چین کی سرحد کے قریب آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب کے بعد تقریباً ڈھائی ہزار افراد اب بھی لاپتہ ہیں، جبکہ ہلاکتوں کی تعداد تقریباً600تک پہنچ گئی ہے۔ امدادی ٹیمیں ہفتے کے روز بھی موٹی کیچڑ، ملبے اور تباہ شدہ علاقوں میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے تھیں۔
یہ تباہی بدھ کے روز ہمالیہ کے بلند پہاڑی علاقے میں ایک بڑے گلیشیئر کے ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں برف، چٹانوں، کیچڑ اور پانی کا ایک خوفناک ریلا پہاڑی دریائی وادیوں سے گزرتا ہوا نشیبی آبادیوں تک پہنچ گیا۔
طاقتور سیلابی ریلے نے متعدد دیہات، پل، سڑکیں، پن بجلی کی تنصیبات اور نیپال و چین کے درمیان واقع اہم رسوواگڑھی۔گیرونگ سرحدی گزرگاہ کو شدید نقصان پہنچایا یا مکمل طور پر تباہ کر دیا۔
نیپال میں579افراد ہلاک
نیپال کے نیشنل ڈیزاسٹر رسک ریڈکشن اینڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق ملک میں اب تک579افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ1,924افراد کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔
لاپتہ افراد کی تعداد اس وقت تقریباً دوگنی ہو گئی جب حکام نے مقامی رہائشیوں، سیاحوں، ٹریکنگ کرنے والوں اور مذہبی زائرین کے علاوہ پن بجلی منصوبوں سے وابستہ سیکڑوں لاپتہ کارکنوں کو بھی مجموعی فہرست میں شامل کر لیا۔
دوسری جانب چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق سرحد کے تبتی علاقے میں پانچ سے سات افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ تقریباً554افراد لاپتہ ہیں۔
نیپال اور چین کے دونوں اطراف سے لاپتہ افراد کی مجموعی تعداد تقریباً 2,500 تک پہنچ گئی ہے۔
دو درجن سے زائد ممالک کے شہری لاپتہ
لاپتہ افراد میں دو درجن سے زائد ممالک کے غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔ ان میں بڑی تعداد بھارتی مذہبی زائرین کی ہے جو تبت میں واقع مقدس کوہِ کیلاش کی زیارت کے لیے جا رہے تھے۔
لاپتہ ہونے والوں میں امریکی، ملائیشین، آسٹریلوی، برطانوی اور دیگر ممالک کے شہری بھی شامل ہیں۔
نیپال میں اب تک 3,700 سے زائد افراد کو بچا لیا گیا ہے، جن میں سے بڑی تعداد کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔
امدادی کارکن شدید کیچڑ اور ملبے میں مسلسل تلاش کر رہے ہیں، جبکہ زندہ بچ جانے والوں کا سراغ لگانے کے لیے ڈرونز اور تربیت یافتہ کتوں کی بھی مدد لی جا رہی ہے۔
ملبے سے بننے والی جھیل نے امدادی کارروائیاں متاثر کر دیں
امدادی ٹیموں کو جمعے کے روز ایک نئی مشکل کا سامنا کرنا پڑا جب ابتدائی لینڈ سلائیڈنگ کے ملبے سے بننے والی ایک جھیل کا پانی کناروں سے بہنا شروع ہو گیا۔
اس صورتحال کے باعث بعض امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئیں اور خطرے سے دوچار علاقوں سے لوگوں کو فوری طور پر منتقل کیا گیا۔
بعد ازاں حکام نے بتایا کہ پانی کی سطح کم ہونے کے بعد خطرہ بڑی حد تک کم ہو گیا ہے۔
سیلاب میں بہہ جانے والے بعض افراد کی لاشیں بہت دور دریا کے نشیبی علاقوں سے بھی برآمد ہوئی ہیں، جن میں بھارت کے بعض علاقے بھی شامل ہیں۔
دور دراز پہاڑی علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی
تباہ کن سیلاب سے دسیوں ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں اور دور دراز بلند پہاڑی علاقوں میں وسیع پیمانے پر انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا ہے۔
نیپال اور چین دونوں نے فوجی اور سول امدادی ٹیموں کو بڑے پیمانے پر متاثرہ علاقوں میں تعینات کر دیا ہے۔
چین کے وزیراعظم لی چیانگ بھی امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لینے اور کارروائیوں کی نگرانی کے لیے سرحد کے تبتی علاقے کا دورہ کر چکے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر امداد کی پیشکشیں بھی کی گئی ہیں، تاہم نیپال نے عندیہ دیا ہے کہ ابتدائی مرحلے میں سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن اپنی دستیاب قومی صلاحیتوں اور وسائل کے ذریعے جاری رکھا جا رہا ہے۔

