• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » جھرک، آغا خان محل سے جناح کی جائے پیدائش تک — ایک بھولی ہوئی تاریخ
ایشیا

جھرک، آغا خان محل سے جناح کی جائے پیدائش تک — ایک بھولی ہوئی تاریخ

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 2, 2026Updated:ستمبر 2, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

رائے⁦/⁩تاریخ و ورثہ

جھرک، آغا خان محل سے جناح کی جائے پیدائش تک — ایک بھولی ہوئی تاریخ

ایک تاریخی شہر، ایک گم شدہ ماضی اور وہ سوالات جو آج بھی جھرک کی بوسیدہ عمارتوں، خاموش گلیوں اور ماضی کے آثار سے ہم سے جواب مانگتے ہیں۔
تحریر: سراج بھاگت

جھرک کو دیکھنے کا تجسس مجھے کئی برسوں سے تھا۔ اس تجسس کی ایک بڑی وجہ اس شہر میں موجود آغا خان اول کا تاریخی محل تھا، جبکہ دوسری وجہ وہ سبق تھا جو ہم نے پرائمری اسکول کے زمانے میں سندھی نصاب کی کتابوں میں پڑھا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی زندگی اور جدوجہد کے بارے میں پڑھاتے ہوئے ہمیں بتایا جاتا تھا کہ محمد علی جناح سندھ کے قدیم شہر جھرک میں پیدا ہوئے اور انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی۔

شاید یہی وجہ تھی کہ جھرک میرے لیے محض ایک تاریخی شہر نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جس کے ساتھ ہماری تاریخ، نصاب اور یادداشت جڑی ہوئی تھی۔ ہم جب شہر کی طرف جانے لگے تو دور سے ہی ہمیں پرانی سرکاری عمارات اور مختلف کھنڈرات نظر آئے، کیونکہ جیسا میں نے جھرک شہر کے بارے میں پڑھا تھا، وہ اس کے بالکل برعکس تھا۔

آخرکار ہم آغا خان اول کے تاریخی محل تک پہنچے۔ محل کی دیکھ بھال کرنے والے چوکیدار نے ہمیں اندر کا پورا حصہ دکھایا۔ حیرت انگیز طور پر یہ عمارت آج بھی اپنی اصل ساخت کے کئی پہلوؤں کو محفوظ رکھے ہوئے ہے۔

مٹی اور لکڑی سے تعمیر کیا گیا یہ محل سندھی طرزِ تعمیر کا خوبصورت عکس دکھائی دیتا ہے۔ اندر ایک بڑا صحن، کمروں کے ساتھ چھوٹے ہال، خوبصورت آنگن اور ایک قدیم درخت موجود ہے۔ گرمی کی شدت سے بچاؤ کے لیے بنائے گئے ونڈ کیچرز اس دور کی تعمیراتی ذہانت کا بھی پتا دیتے ہیں۔

یہ عمارت دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ جھرک کبھی محض ایک عام قصبہ نہیں تھا بلکہ یہاں زندگی، تجارت اور ثقافت کی ایک پوری دنیا آباد تھی۔

اسی دوران جھرک کے مقامی تاریخ نویس مشتاق ملاح سے ایک طویل نشست ہوئی۔ وہ قائداعظم یادگار کمیٹی سے بھی وابستہ ہیں۔ گفتگو میں کئی مقامی لوگ بھی شامل ہوگئے اور بات جھرک کی تاریخ سے ہوتی ہوئی قائداعظم کے مکان تک جا پہنچی۔

ہم نے قائداعظم کے گھر کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ وہ آغا خان کے محل سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ وہ تاریخی مکان اپنی اصل حالت میں موجود نہیں تھا۔ وقت کی ستم ظریفی یہ کہ اس جگہ ایک نئی عمارت تعمیر ہوچکی ہے، جہاں اس وقت ایک نجی اسکول قائم ہے۔

میں کچھ دیر وہیں کھڑا سوچتا رہا کہ جس شہر کا شمار کبھی اہم تاریخی اور تجارتی مراکز میں ہوتا تھا، جس کی گلیوں میں کبھی تجارت، تعلیم اور انتظامی سرگرمیاں عروج پر تھیں، اس شہر کے تاریخی ورثے کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا ہے؟

ایک زمانے کا خوشحال تجارتی مرکز

جھرک ضلع ٹھٹھہ میں کینجھر جھیل کے قریب کوٹری⁦-⁩ٹھٹھہ روڈ پر واقع ایک قدیم شہر ہے۔ دریائے سندھ کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے اسے تاریخی طور پر ایک اہم تجارتی مقام حاصل رہا ہے۔ برطانوی دور میں یہاں بندرگاہ بھی قائم تھی، جہاں سے تجارتی سامان اور خام مال کی نقل و حرکت ہوتی تھی۔

مقامی روایات اور تاریخی حوالوں کے مطابق جھرک کی آبادی میں ہندو، خوجہ اور میمن برادریوں کی بڑی تعداد آباد تھی۔ دریائے سندھ سے وابستہ ماہی گیری یہاں کے لوگوں کے روزگار کا ایک اہم ذریعہ تھی۔ مچھلی کی تجارت بھی بڑے پیمانے پر ہوتی تھی، جبکہ شہر کا ماحول صحت بخش اور نسبتاً پُرسکون سمجھا جاتا تھا۔

کہتے ہیں کہ ٹالپروں کی حکومت میں اسلحے کے کارخانے بھی تھے، اور آغا خان محل کے بالکل مخالف سمت میں موجود ایک چھوٹی سی پہاڑی پر بدھ دھرم کا مندر تھا، جس کے تھوڑے بہت نشانات اب بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں موجود کھنڈرات میں کچھ ملٹری کنٹونمنٹ کے نشانات بھی دھندلے سے نظر آتے ہیں۔

جھرک کی انتظامی اہمیت

سندھ پر برطانوی اقتدار قائم ہونے کے بعد جھرک کی تجارتی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اسے انتظامی اعتبار سے بھی اہمیت حاصل ہوئی۔ اسے میونسیپل کا درجہ دے کر کراچی کلیکٹوریٹ سے منسلک کیا گیا۔

اس کی حدیں باگڑ کریک، سن شہر اور ہاد ندی تک پھیلی ہوئی تھیں، جس میں سیڑی، خانوٹ، مانجھند اور کوٹری سب ڈویژن شامل تھیں، جب کہ سونڈا قبرستان والا علاقہ بھی جھرک میں شامل تھا۔ اس ضلع کی لمبائی⁦150⁩میل اور وسعت⁦70⁩میل تک تھی۔

جس زمانے میں کلیکٹر کیپٹن پریڈی تھے، انہوں نے کمشنر آر کے پرنگل کو لکھا تھا کہ جھرک شہر ایک خوشحال شہر ہے جہاں مکئی، گندم اور مچھلی بڑی تعداد میں پیدا ہوتی ہے اور یہاں بسنے والے بڑی تعداد میں مچھیرے ہیں جن کے روزگار کا ذریعہ سندھو دریا کی مچھلی کا شکار ہے۔

شہر میں پوسٹ آفس، ڈسپنسری، جیل، ڈاک بنگلہ، ملٹری کنٹونمنٹ، پولیس تھانہ، اسکول اور کلیکٹر آفس سمیت متعدد سرکاری سہولیات موجود تھیں۔ مشتاق ملاح کے مطابق اس زمانے میں جھرک میں تقریباً دو سو دکانوں پر مشتمل ایک مکمل بازار بھی تھا، جہاں روزمرہ ضرورت کی تقریباً ہر چیز دستیاب تھی۔

آج انہی سہولتوں کی بوسیدہ عمارتیں ماضی کی خوشحالی کی داستان سناتی ہیں۔

آغا خان اول اور جھرک

برطانوی دور میں آغا حسن علی شاہ، یعنی آغا خان اول،⁦1843⁩میں جھرک آئے اور یہاں آباد ہوئے۔ سر چارلس نیپیئر نے اسماعیلیوں کو جھرک شہر میں آباد کرنے میں بڑا کردار ادا کیا۔ جھرک میں پہلے ہی ان کے پیروکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ ان کی آمد کے بعد شہر کی مذہبی اور سماجی اہمیت مزید بڑھ گئی۔

آغا خان اول سے منسوب تاریخی محل آج بھی جھرک کے ماضی کی ایک اہم علامت ہے۔ یہ عمارت نہ صرف ایک تاریخی شخصیت سے تعلق رکھتی ہے بلکہ مقامی سندھی فنِ تعمیر، طرزِ زندگی اور اس دور کے تعمیراتی شاہکار کا بھی ایک اہم نمونہ ہے۔

آغا خان اول کی جھرک آمد کے بعد برصغیر کے مختلف علاقوں سے ان کے پیروکار یہاں آنے لگے۔ انہی تاریخی حالات کا تعلق قائداعظم محمد علی جناح کے خاندان کی جھرک آمد سے بھی جوڑا جاتا ہے۔

قائداعظم اور جھرک کا تعلق

جھرک کی تاریخ کا سب سے اہم اور حساس پہلو قائداعظم محمد علی جناح کی جائے پیدائش کا سوال ہے۔

مقامی تاریخ نویسوں اور بعض تاریخی حوالوں کے مطابق قائداعظم کا خاندان جھرک سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ ان کے دادا میگھ جناح گجرات سے جھرک آئے اور ان کے نانا موسیٰ جمعہ ولی بھائی ایران کے شہر کرمان سے آغا خان اول کے ساتھ یہاں آباد ہوئے، جبکہ خاندان نے بعد میں تجارت سے بھی وابستگی اختیار کی۔

مقامی طور پر قائداعظم کے والد پونجا جناح کو سیٹھ پونجا جناح کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنا کاروبار بھی یہیں سے شروع کیا اور چمڑے کے کاروبار سے منسلک ہوئے۔

تاریخی سوال، جذباتی دعویٰ نہیں
اگر جھرک میں قائداعظم کی پیدائش اور ابتدائی تعلیم کے حوالے سے تاریخی دعوے موجود ہیں تو پھر اس معاملے کو جذبات یا قیاس کی بنیاد پر نہیں بلکہ مستند تاریخی دستاویزات کی روشنی میں دیکھا جانا چاہیے۔

جھرک⁦:⁩ایک شہر جو ہم سے اپنا ماضی مانگ رہا ہے

جھرک کی موجودہ حالت سب سے زیادہ افسوسناک پہلو ہے۔ جس شہر میں کبھی بندرگاہ تھی، بازار تھا، سرکاری ادارے تھے، ڈاک خانہ تھا، کنٹونمنٹ تھی اور دریائے سندھ کی وجہ سے معاشی سرگرمیاں عروج پر تھیں، آج وہاں غربت، بنیادی سہولیات کی کمی اور تاریخی عمارتوں کی بربادی نظر آتی ہے۔

دریائے سندھ کا پانی کبھی جہاں سے گزرتا تھا وہاں زندگی اور روزگار پیدا کرتا تھا۔ آج پانی کی کمی نے ماہی گیروں اور مقامی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔ بہت سے مچھیرے نئے مقامات کی طرف منتقل ہوچکے ہیں۔

جھرک صرف کھنڈرات کا نام نہیں۔ یہ سندھ کی اجتماعی یادداشت کا ایک اہم باب ہے۔ یہاں آغا خان اول کا محل ہے، قائداعظم کے خاندان سے جڑی تاریخی روایات ہیں، برطانوی دور کی عمارتیں ہیں، قدیم مذہبی اور فوجی آثار ہیں اور دریائے سندھ سے وابستہ ایک پوری تہذیبی کہانی موجود ہے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ ہم اس کہانی کو کب محفوظ کریں گے؟

جھرک کو صرف قائداعظم کی جائے پیدائش کے تنازع تک محدود کرنے کے بجائے اسے ایک مکمل تاریخی اور ثقافتی ورثہ شہر کے طور پر محفوظ کرنے کی ضرورت ہے۔

تاریخی عمارتوں کی نشاندہی، دستاویز بندی، بحالی اور قانونی تحفظ کے ساتھ ساتھ شہر کو ثقافتی سیاحت کے نقشے پر بھی نمایاں کیا جاسکتا ہے۔

شاید جھرک کی گلیوں میں چلتے ہوئے سب سے بڑا دکھ یہی محسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے شاندار ماضی کے اصل مقامات کو محفوظ نہ رکھ سکے۔

آغا خان کا محل آج بھی خاموش کھڑا ہے۔ بوسیدہ سرکاری عمارتیں آج بھی اپنے عروج کی گواہی دے رہی ہیں اور قائداعظم سے منسوب جگہ پر کھڑی نئی عمارت جیسے ہم سے ایک سوال کر رہی ہے۔

جھرک کو شاید آج ہماری توجہ، تحقیق اور تحفظ کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شہر ختم نہیں ہوتے، اگر ان کی یادیں محفوظ رہیں تو وہ آنے والی نسلوں کو اپنی شناخت بتاتے رہتے ہیں۔

مصنف کا تعارف

سراج بھاگت کراچی میں مقیم فری لانس مصنف اور محقق ہیں۔ انہوں نے جامعہ سندھ سے میڈیا اینڈ کمیونیکیشن اسٹڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ان کی تحریری اور تحقیقی دلچسپی بنیادی طور پر فن، ثقافت، تاریخ، ورثے اور انسانی حقوق کے موضوعات پر مرکوز ہے، جبکہ انہیں معاشرے کی مقامی، مقامی النسل اور متنوع کہانیوں کو دستاویزی شکل دینے میں خصوصی دلچسپی ہے۔

آغا خان اول آغا خان محل برطانوی دور تاریخی شہر تاریخی عمارات ثقافت جناح کی جائے پیدائش جھرک دریائے سندھ سراج بھاگت سندھ سندھ کا ورثہ سندھ کی تاریخ قائداعظم کیچڑ جھیل محمد علی جناح
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleسندھ سے بگ ایپل، نیویارک تک
Next Article کیا پاکستان علی گڑھ کے لونڈوں کی سازش تھا؟
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.