• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » سفارتی ری سیٹ یا بیانیوں کا نیا ٹکراؤ؟
ایشیا

سفارتی ری سیٹ یا بیانیوں کا نیا ٹکراؤ؟

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 4, 2026Updated:ستمبر 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

تجزیاتی و سفارتی کالم

سفارتی ری سیٹ یا بیانیوں کا نیا ٹکراؤ؟

پاک افغان تعلقات⁦:⁩دباؤ اور کشیدگی سے ’’نیا ہمسائیگی ماڈل‘‘ تک کا سفر

احمد نعیم خان

تحریر
احمد نعیم خان

اسلام آباد میں قومی دفاعی یونیورسٹی⁦(NDU)⁩کے دالان میں منعقد ہونے والی ایک حالیہ تقریب محض ایک روایتی سفارتی نشست نہیں تھی، بلکہ یہ ایک واضح اسٹریٹجک سگنل تھا—پاکستان کی جانب سے بھی اور افغانستان کی جانب سے بھی۔

تمام تر کشیدگی، بارڈر کے تنازعات اور سکیورٹی خدشات کے باوجود، پاکستان کی طرف سے افغانستان کے سفیر سردار احمد شکیب کو اپنے اعلیٰ ترین دفاعی و اسٹریٹجک ادارے میں مدعو کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام آباد کابل کے ساتھ تمام راستے بند کرنے کا خواہش مند نہیں۔

’’ہم شدید اختلافات کے باوجود تعلقات کو مکمل سفارتی بریک ڈاؤن کی طرف نہیں لے جانا چاہتے۔‘‘

پاکستان کی اس دعوت کے پیچھے ایک روشن اور واضح پیغام چھپا تھا۔ دوسری طرف افغان سفیر کا خطاب بھی اسی شدت اور صراحت کا حامل تھا، جنہوں نے پاکستان کے مؤقف کے جواب میں کہا:

’’ہم ہمسائے ہیں، مگر ماتحت نہیں۔ تعلقات برابری پر ہوں گے، دباؤ پر نہیں!‘‘

یہی وہ نقطہ ہے جہاں سے پاک افغان تعلقات کی موجودہ صورتِ حال اور مستقبل کے خد و خال کا تجزیہ شروع ہوتا ہے۔

تاریخی بوجھ اور نئے بیانیے کی کشمکش

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات ہمیشہ سے تاریخی بیانیوں، سکیورٹی خدشات اور جغرافیائی حقیقتوں کے درمیان جھولتے رہے ہیں۔ تاریخ پر نظر دوڑائیں تو تین بنیادی حقائق سامنے آتے ہیں:

اول

دونوں ممالک کی جغرافیائی اور سماجی ساخت ایک دوسرے سے گہرائی میں جڑی ہوئی ہے۔

دوم

سکیورٹی کا بحران کبھی ایک طرفہ نہیں رہا بلکہ ہمیشہ دو طرفہ اثرات کا حامل رہا ہے۔

سوم

دونوں کے درمیان اعتماد ہمیشہ کم رہا ہے، مگر ایک دوسرے پر انحصار ہمیشہ زیادہ۔

این ڈی یو میں افغان سفیر نے اسی تاریخی بیانیے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا:

’’آج کا افغانستان نہ سرد جنگ کا افغانستان ہے، نہ⁦1990⁩ء کی دہائی کا، اور نہ ہی⁦2001⁩ء کے بعد کا۔‘‘

افغان سفیر کا یہ جملہ پاکستان کے لیے ایک اہم پیغام تھا کہ افغانستان اب اپنے آپ کو ایک نئے سیاسی وجود کے طور پر پیش کر رہا ہے، اور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں پاکستان کو بھی اپنے پرانے اور روایتی بیانیے پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔

دو بیانیے⁦:⁩سکیورٹی بمقابلہ خودمختاری

موجودہ تناظر میں دونوں ممالک اپنے اپنے بیانیے کے ساتھ کھڑے ہیں۔

پاکستان کا بیانیہ⁦:⁩سکیورٹی

پاکستان کا بنیادی بیانیہ اور سب سے بڑا مسئلہ ’’تحریکِ طالبان پاکستان‘‘ (TTP) ہے۔ پاکستان چاہتا ہے کہ افغان حکومت⁦TTP⁩کے مخصوص نیٹ ورکس کی نشاندہی کرے، ان کے خلاف ٹھوس اور یکسو کارروائی کرے اور بارڈر کو محفوظ بنائے۔

این ڈی یو میں افغان سفیر کی موجودگی اس بات کا اظہار ہے کہ پاکستان سکیورٹی بحران کو سفارتی ٹکراؤ میں بدلنے کے بجائے، افغانستان کے بیانیے کو سننے اور تعلقات کو محض ’’سکیورٹی فریم‘‘ سے نکال کر ’’پالیسی ڈائیلاگ‘‘ کی طرف لانے کے لیے تیار ہے۔

افغانستان کا بیانیہ⁦:⁩خودمختاری

دوسری طرف افغان حکومت کا بیانیہ اپنی خودمختاری، برابری اور دباؤ کی نفی پر مبنی ہے۔ افغان سفیر نے یہ تو باور کرایا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، لیکن ساتھ ہی یہ واضح کر دیا کہ پاکستان کی سکیورٹی تشویش کو افغان سرزمین پر کسی یکطرفہ کارروائی کا جواز نہیں بنایا جا سکتا۔

افغان نقطۂ نظر کے مطابق دباؤ، بارڈر کی بندش یا اجتماعی سزا جیسے اقدامات اب قابلِ قبول نہیں ہوں گے۔ یہ بیانیہ پاکستان کو ایک نئی حقیقت بتاتا ہے کہ افغانستان اب برابری کی سطح پر تعلقات چاہتا ہے، انحصار یا دباؤ کی بنیاد پر نہیں۔

مستقبل کے تین ممکنہ راستے

اس تمام صورتِ حال کا اگر گہرائی سے تجزیہ کیا جائے تو مستقبل میں دونوں ممالک کے سامنے تین ممکنہ راستے یا پالیسی آپشنز نظر آتے ہیں:

پالیسی آپشن 01

اسٹریٹجک ری سیٹ

اگر دونوں ممالک اس خطاب اور دعوت کو ایک نئے آغاز کے طور پر لیتے ہیں، تو سکیورٹی تعاون ’’کیس بیسڈ‘‘ ہو سکتا ہے، بارڈر مینجمنٹ میں بہتری آ سکتی ہے، اور تجارت و ٹرانزٹ بحال ہونے سے عوامی آمدورفت میں نرمی ممکن ہے۔ یہ راستہ تعلقات کو ڈی ایسکلیشن، یعنی تناؤ کی کمی، کی طرف لے جائے گا۔

پاکستان کے لیے یہ اس لیے فائدہ مند ہے کیونکہ افغانستان کے ساتھ مسلسل کشیدگی اسلام آباد کو علاقائی سطح پر سفارتی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے۔

پالیسی آپشن 02

بیانیوں کی ٹکراؤ پر مبنی پالیسی

اگر دونوں ممالک اپنے اپنے سخت بیانیے پر قائم رہے تو پاکستان کی جانب سے بارڈر پر مزید سختی دیکھی جائے گی، افغانستان کی طرف سے پاکستان پر دباؤ اور مداخلت کے الزامات لگیں گے،⁦TTP⁩کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوگا اور تجارت و عوام کی آمدورفت بری طرح متاثر ہوگی۔

یہ راستہ دونوں ملکوں کے لیے خطرناک ہے، بالخصوص پاکستان کے لیے، کیونکہ افغانستان متبادل علاقائی پارٹنرز کی تلاش تیز کر دے گا۔

پالیسی آپشن 03

نیا ہمسائیگی ماڈل

یہ وہ راستہ ہے جس کی طرف افغان سفیر نے اشارہ کیا۔ اس ماڈل کی بنیاد برابری، ایک دوسرے کی خودمختاری کے احترام، دباؤ کے بجائے مسلسل مکالمے، اور تجارتی و سفارتی روابط کو سکیورٹی مسائل کا یرغمال نہ بنانے پر ہے۔

اگرچہ اس ماڈل میں سکیورٹی تعاون مشروط ہوگا، لیکن یہ خطے میں پاکستان کی سفارتی پوزیشن کو مضبوط اور پائیدار بنا سکتا ہے۔

اصل سوال⁦:⁩تعلقات کیسے ہوں گے؟

افغان سفیر نے اپنے خطاب میں ایک انتہائی فکر انگیز بات کی:

’’اصل سوال یہ نہیں کہ تعلقات ہوں گے یا نہیں،

بلکہ یہ ہے کہ ہم اچھے ہمسائے کیسے بن سکتے ہیں؟‘‘

یہ جملہ پاکستان کے لیے ایک دعوت بھی ہے اور ایک چیلنج بھی۔ افغانستان نے اپنے تحفظات اور انتخاب واضح کر دیا ہے کہ وہ دباؤ یا انحصار کی بنیاد پر نہیں، بلکہ ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔

اب فیصلہ پاکستان کو کرنا ہے کہ وہ تعلقات کو پرانے دباؤ کے ماڈل پر چلانا چاہتا ہے یا برابری اور سفارتی دانشمندی کے ایک نئے فریم ورک پر۔

حاصلِ کلام

این ڈی یو میں افغان سفیر کی آمد اور خطاب ایک سفارتی ’’ری سیٹ‘‘ کا پتہ دیتا ہے۔ اس پیش رفت سے یہ سچائی واضح ہو چکی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات نہ تو بالکل ختم ہو سکتے ہیں اور نہ ہی پرانے روایتی ماڈل پر واپس جا سکتے ہیں۔

نئے تعلقات کا ممکنہ فریم ورک
سکیورٹی تعاون
+
خودمختاری کا احترام
+
براہِ راست مکالمہ

ایک نیا فریم ورک شکل اختیار کر رہا ہے—اور اس نئے فریم ورک کی بنیاد ’’سکیورٹی تعاون⁦+⁩خودمختاری کا احترام⁦+⁩براہِ راست مکالمہ‘‘ پر ہی رکھی جا سکتی ہے۔

احمد نعیم خان

تحریر
احمد نعیم خان

احمد نعیم خان افغان پالیسی افغان طالبان افغانستان پاک افغان تعلقات پاکستان پاکستان افغانستان پاکستان کی خارجہ پالیسی سفارت کاری سفارتی ری سیٹ سکیورٹی تعاون علاقائی سیاست نیا ہمسائیگی ماڈل
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleغزہ میں اسرائیلی کارروائی، حماس کا سینئر سکیورٹی عہدیدار گرفتار
Next Article "ہمارے ہیروز⁦”⁩یا⁦”⁩ہمارا تماشا⁦”⁩؟
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.