• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » “ہمارے ہیروز⁦”⁩یا⁦”⁩ہمارا تماشا⁦”⁩؟
ایشیا

"ہمارے ہیروز⁦”⁩یا⁦”⁩ہمارا تماشا⁦”⁩؟

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 4, 2026Updated:ستمبر 4, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

نقطہ نظر

”ہمارے ہیروز“ یا ”ہمارا تماشا“؟

ایچ بی ایل پی ایس ایل کے چمکتے اسٹیج کے پیچھے چھپا وہ سچ جو کوئی نہیں دکھاتا

تحریر
اسحاق بلوچ

اسحاق بلوچ

فلیش لائٹس جلتی ہیں، اسٹیڈیم تالیوں سے گونج اٹھتا ہے، کمنٹیٹر پُرجوش لہجے میں اعلان کرتا ہے:

”خواتین و حضرات، پیش ہیں آج کے ’ہمارے ہیرو‘!“

ایک قومی چیمپئن، جس نے دنیا بھر میں پاکستان کا پرچم بلند کیا، میدان میں لایا جاتا ہے۔ اس کے ہاتھ میں دو لاکھ چالیس ہزار روپے کا ایک بڑا سا ڈمی چیک تھمایا جاتا ہے، تصویریں بنتی ہیں، تالیاں بجتی ہیں — اور پھر لائٹس بجھتے ہی وہ ہیرو اسٹیڈیم کی چکاچوند سے نکل کر ایک ایسی بھول بھلیاں میں کھو جاتا ہے جہاں سے نکلنے میں اسے مہینوں لگ جاتے ہیں۔

یہ ہے ایچ بی ایل پی ایس ایل کے زیرِ اہتمام ”ہمارے ہیروز“ پروگرام کی اصل کہانی — ایک ایسی کہانی جو اسکرین پر جتنی شاندار دکھائی دیتی ہے، پردے کے پیچھے اتنی ہی افسوس ناک اور شرم ناک ہے۔

قومی وقار کا سودا، محض ایک فوٹو آپرچونٹی کے عوض

پاکستان کرکٹ بورڈ، ایچ بی ایل اور پی ایس ایل انتظامیہ نے ”ہمارے ہیروز“ کے نام سے یہ پروگرام اس دعوے کے ساتھ شروع کیا کہ یہ ملک کے گمنام قومی ہیروز — وہ ایتھلیٹس جنہوں نے بغیر کسی وسائل، بغیر کسی سرکاری سرپرستی کے دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا — کو عزت اور پہچان دینے کا ذریعہ بنے گا۔

آن لائن نامزدگی کے ذریعے ایک ہیرو چنا جاتا ہے، میچ کے دوران اسٹیڈیم میں لایا جاتا ہے، کیمروں کی چکاچوند میں انعامی چیک اسے تھمایا جاتا ہے — اور بس۔ کہانی وہیں ختم ہو جاتی ہے، کم از کم اسکرین پر۔

مگر حقیقت میں کہانی وہاں سے شروع ہوتی ہے۔

وہی ہیرو جسے قوم کے سامنے عزت دی گئی، بینک اکاؤنٹ میں رقم دیکھنے کے لیے پانچ سے چھ ماہ انتظار پر مجبور ہوتا ہے۔ سوچیے، ایک ایسا کھلاڑی جو پہلے ہی بے وسیلہ اور بے توجہی کا شکار ہے، جس کے پاس روزمرہ اخراجات پورے کرنے کے وسائل محدود ہیں، اسے اپنے ہی انعام کے لیے آدھا سال دفتروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔

ایک بنیادی سوال
جس کھلاڑی کو ”قومی ہیرو“ کہہ کر اسٹیج پر عزت دی جاتی ہے، کیا اسے اپنے ہی انعام کے لیے مہینوں انتظار کرنا چاہیے؟

کٹوتی کا کھیل: ”گمنام ہیرو“ سے ”فائلر“ ہونے کی توقع؟

سب سے تشویش ناک پہلو وہ ٹیکس کٹوتی کا فارمولا ہے جو ان کھلاڑیوں پر لاگو کیا جاتا ہے۔ فائلر ہونے کی صورت میں⁦20⁩فیصد اور نان فائلر ہونے کی صورت میں⁦40⁩فیصد رقم انعام سے کاٹ لی جاتی ہے۔

یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے⁦:⁩جن کھلاڑیوں کو خود پی سی بی اور پی ایس ایل ”گمنام ہیرو“ اور ”بے سرپرست“ قرار دیتے ہیں، ان سے فائلر ہونے کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟

ایک ایسا ایتھلیٹ جسے کبھی مالی معاونت، ٹیکس مشاورت یا ادارہ جاتی سہولت میسر ہی نہیں آئی، اسے فائلر نہ ہونے کی سزا کے طور پر اپنے ہی انعام کا⁦40⁩فیصد گنوانا پڑتا ہے۔

یہ صرف ایک انتظامی کوتاہی نہیں بلکہ ایک اخلاقی سوال ہے⁦:⁩اگر انعام دینا ہی مقصد ہے تو پانچ ماہ ترسا کر، پھر اس میں سے کاٹ کر دینا کس طرح انصاف کہلائے گا؟

رقم دینی ہے تو مکمل اور بروقت دی جائے۔ عزت افزائی کے نام پر مہینوں انتظار کروانا اور پھر جیب سے بھی کاٹ لینا — یہ اعزاز نہیں، توہین ہے۔

دو کھلاڑی، دو دنیائیں⁦:⁩کرکٹ کا شاہانہ رعب اور باقی کھیلوں کی بے بسی

یہ دہرا معیار اس وقت مزید بھیانک شکل اختیار کر لیتا ہے جب ہم پی ایس ایل کے کرکٹرز کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا موازنہ دیگر کھیلوں کے قومی ہیروز سے کرتے ہیں۔

پی ایس ایل میں ڈرافٹ ہونے والے یا خریدے جانے والے کرکٹرز کا معاوضہ ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی ان کے کھاتوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے — بلا تاخیر، بلا رکاوٹ۔

کرکٹ کو ملک میں وہ تمام مراعات، تشہیر اور مالی تحفظ حاصل ہے جو کسی اور کھیل کے حصے میں نہیں آتا، چاہے کچھ کرکٹرز کا نام ماضی میں میچ فکسنگ جیسے سنگین الزامات سے ہی کیوں نہ جڑا رہا ہو اور ملک کی بدنامی کا سبب بنا ہو۔

دوسری جانب وہ ایتھلیٹس ہیں جو محدود وسائل، بغیر کوچنگ سہولیات اور محض اپنی ذاتی محنت کے بل بوتے پر عالمی مقابلوں میں پاکستان کا پرچم بلند کرتے ہیں۔

نہ انہیں مستقل اسپانسرشپ ملتی ہے، نہ تربیتی سہولیات، اور جب بالآخر انہیں ”ہیرو“ کا خطاب دے کر اسٹیج پر لایا جاتا ہے تو اس اعزاز کے بدلے بھی انہیں مہینوں کی ذلت اور کٹوتی جھیلنی پڑتی ہے۔

کیا ”قومی ہیرو“ کا درجہ صرف بیٹ اور بال والوں کے لیے مخصوص ہے؟

شفافیت کا فقدان، ذمہ داری کس پر؟

ایچ بی ایل بینک اور پی ایس ایل انتظامیہ کو اس رویے پر سنجیدگی سے نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔

ایک قومی ہیرو کو عزت دینے کا مطلب صرف کیمرے کے سامنے ایک ڈمی چیک پکڑانا نہیں، بلکہ اسے وقار کے ساتھ، بروقت اور بغیر کسی غیر ضروری کٹوتی کے، اس کا مکمل حق ادا کرنا ہے۔

جب تک ایسا نہیں ہوتا، ”ہمارے ہیروز“ جیسے پروگرام محض ادارتی تشہیر کا ذریعہ بنے رہیں گے — ایک ایسی مشہوری جس کی قیمت وہی لوگ چکاتے ہیں جنہیں یہ ”عزت“ دینے کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔

کیا پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایچ بی ایل اس تلخ حقیقت کا نوٹس لیں گے، یا ”ہمارے ہیروز“ ہمیشہ کی طرح صرف اسٹیج تک محدود رہیں گے اور اصل زندگی میں تنہا رہ جائیں گے؟

فیصلہ اب انتظامیہ کے ہاتھ میں ہے۔

اسحاق بلوچ

تحریر
اسحاق بلوچ

HBL HBL PSL اسحاق بلوچ پاکستان اسپورٹس پاکستان کرکٹ پاکستانی ایتھلیٹس پی ایس ایل قومی ہیروز کرکٹ بورڈ کھیل کھیلوں میں امتیاز ہمارے ہیروز
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleسفارتی ری سیٹ یا بیانیوں کا نیا ٹکراؤ؟
Next Article فرانس میں یہودی عبادت گاہوں کی سکیورٹی سخت
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.