بنیاد پرست اسلامی اور سوشلسٹ انقلابی
”تیری سرکار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے“
آج سوشلسٹوں اور اسلامی بنیاد پرستوں کے بیچ ذرا سی پتلی لکیر کا بھی فرق شاذ و نادر ہی رہ جاتا ہے، جب بات امریکہ اور اسرائیل کی آ جائے۔ تکلف برطرف، ہم تو ”سرِ بازار ناچیں گے“ والا معاملہ ہو جاتا ہے۔ ہو جاتے ہیں ملاں اور کامریڈ ایک ہی سکے کے دو رُخ۔ ایسا لگتا ہے یہ دو رُخی سکہ ایک ہی ضرب خانے کا تراشہ ہوا ہے۔
سکہ رائج الوقت کھوٹا ہے کہ سچا، یہ وہ عینک پہنے نہیں سوچ سکتے۔ انہیں ”مرگ بر امریکہ“ کہنا ہے، انہیں مگر ”مرگ بر اسرائیل“ کہنا ہے۔ تاریخ کی الٹی گنگا بہہ نکلی ہے۔ اس دیکھا دیکھی کی ایک تاریخ ہے۔ ماضی کی نہیں، ان کے حال کی تاریخ۔
کل سوویت یونین کیا ٹوٹا، اس سے نہ فقط بائیں بازو کے کافی حصے کی بلکہ دائیں بازو کی بھی چولیں ہل گئیں۔ بلکہ وہ پنجابی والے ”چول“ بن گئے۔
کل کے ہمارے خطے میں امریکی نواز سمجھے جانے والے اسلامی بنیاد پرست اب امریکہ دشمن بن گئے، اسرائیل دشمن تو یک طرفہ وہ تھے ہی، بغیر کسی نظریاتی تفریق کے۔
اور یہ تاریخ کی منفی قوتیں مسلم دنیا میں ہر جگہ تھیں اور ہیں؛ قاہرہ سے پشاور تک۔ لیکن عقیدہ پسند اور لامذہب لوگوں کا اتحاد تاریخ کی ایک عجیب ٹریجڈی ہے کہ مضحکہ۔
دنیا میں لبرل ازم۔
القاعدہ کا ہر پہلا، دوسرا، تیسرا دنیا کو مطلوب دہشت گرد اسلامی بنیاد پرستوں کے گھر سے پکڑا گیا ہے، پھر بھی ایک ہی صف میں یہ محمود و ایاز کھڑے نظر آتے ہیں۔ ایسی جدید مثال ظہران ممدانی کا تماشا ہے، جہاں اس کے حامی انقلابی اور اسلامی بنیاد پرست، دونوں ہیں۔
میں کچھ روز قبل آسٹریلیا کے ایک پاکستانی نژاد انقلابی دانشور، سرخے نما، کی کتاب دیکھ رہا تھا، جو انہوں نے اسرائیل اور پاکستان، دو مذہب کی بنیاد پر بنی ریاستوں، کا تقابلی مطالعہ پیش کیا ہے۔ اس کتاب میں ہمارے ان دانشور نے حماس کو ”فریڈم فائٹر“ قرار دیا ہے۔
اس مغالطے میں یہ دانشور اکیلے نہیں ہیں۔ کئی بائیں بازو کے لوگ ہیں، میرے اپنے دوست بھی، انقلابی اور آج کے، چاہے کل کے کامریڈ، جو حماس کو آزادی پسند تنظیم قرار دیتے ہیں۔
کئی دن ہوئے کہ پاکستان میں امریکہ کے ضمیر، نوم چومسکی، کے لیکچر کے اجتماع میں اکثریت مذہبی سیاسی جماعت کے لوگوں کی تھی۔ اب عافیہ صدیقی کے فنڈ ریزر میں میرے پسندیدہ بائیں بازو کے دانشور اور مصنف، ناول نگار طارق علی، کلیدی مقرر ہوئے۔
یہ سب اکثر گیارہ ستمبر کی امریکی سرزمین پر دہشت گردی کے بعد ہوا ہے۔ جیسے سازشیں اور کئی سازشی تھیوریاں بھی آئیں۔ کئی غلط تاویلیں بھی آئیں کہ یہ حملے گیارہ ستمبر کو اصل میں مشرقِ وسطیٰ میں امریکی پالیسیوں کی وجہ سے ہوئے۔
یعنی ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں کام کرنے اور رہنے والے معصوم، نہتے امریکی و دیگر ستر اقوام کے افراد امریکی حکومتی پالیسیوں کے ذمہ دار تھے، یا پینٹاگون میں بچوں کو اسکول اور بیویوں کو کام یا گھر پر چھوڑ کر آنے والے کارکن اور فوجی، یا پھر پنسلوانیا کی پُرسکون وادیوں میں رہنے والے امریکی، یا ان بدنصیب طیاروں پر سوار مسافر۔
یا جیسے اس طرح کا مائنڈ سیٹ یہ بھی ہے کہ سات اکتوبر انیس سو تئیس کو دہشت گرد حماس کے اسرائیل پر دہشت گرد حملوں کی وجہ فلسطین پر ”اسرائیل کا قبضہ“ ہے۔ نیز یہ کہ گیارہ ستمبر میں اندرونی امریکی ہاتھ تھا، سات اکتوبر کی دہشت گردی میں بھی اسرائیل کا اندرونی ہاتھ تھا۔
میں نے گیارہ ستمبر میموریل پر بعد میں بطور صحافی اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اپنے پیاروں کی یاد میں ہر سال گیارہ ستمبر کو شہید ہونے والوں کے لواحقین میں ان کی یہودی، آرتھوڈوکس وضع قطع و لباس والی تصاویر عیاں تھیں، اور پھول لیے یہودی بھی کھڑے ہوتے تھے تو انڈین اور پاکستانی بھی، اور وہ بھی اپنے کتبے اٹھائے ان کے سامنے۔
وہ انقلابی بھی موجود ہوتے ہیں جو کہتے ہیں کہ ”گیارہ ستمبر اندرونی کام تھا۔“
اندرونی کام دراصل یہ ہے کہ جس نے انقلابیوں اور اسلامی بنیاد پرستوں، یعنی ایسے سوشلسٹوں کو، ”تیری دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے“ بنا دیا ہے۔
”ان کے حالات نے ان کو ایک ہی کھوٹے سکے کے دو رُخ بنا دیا ہے؛ وہ کھوٹا سکہ، جو بقولِ شاعر امداد حسینی، نہ دل کے بازار میں چلنا ہے اور نہ تاریخ کے بازار میں۔“


