رتی بائی اور جناح:محبت، مذہب اور سیاست کے درمیان ایک ادھوری داستان
علی حیدر
دارجلنگ مغربی بنگال میں پہاڑی علاقہ ہے۔ انگریزوں کے دور میں شملہ کے بعد یہ دوسرا Summer Capital تھا۔ گرم علاقوں کے امیر گھرانے گرمیوں میں وہاں چھٹیاں گزارنے جاتے تھے۔
چونکہ جناح پٹیٹ فیملی کے وکیل تھے اور سر ڈنشا پٹیٹ کے دوست بھی، اس بنا پر ڈنشا نے ان کو کچھ چھٹیاں ساتھ گزارنے کے لیے مدعو کیا۔ اس دوران جناح اور رتن بائی کی ملاقات ہوئی، دونوں نے سیر سپاٹے کیے اور قربتوں میں اضافہ ہوا۔
رتن بائی کا تعلق پارسی خاندان سے تھا، اور اس وقت ان کی عمر16سال تھی، جبکہ جناح کی عمر40سال تھی، یعنی دونوں کی عمروں میں24سال کا فرق تھا۔
لکھنؤ معاہدہ اور جناح کا بڑھتا ہوا سیاسی قد
دسمبر1916کو لکھنؤ معاہدہ ہوا۔ مسلمانوں کو جو جداگانہ انتخابات کی اجازت1909کے قانون میں ملی تھی، وہ کانگریس نے اس معاہدے میں تسلیم کر لی، جس کی وجہ سے جناح کا قد ہندوستان کی سیاست میں کافی بڑھ گیا۔ اس کے بعد جناح نے فیصلہ کیا رشتہ مانگنے کا۔
جناح صاحب ڈنشا پٹیٹ کے پاس گئے اور کہا:
“What do you think about interfaith marriages?”آپ بین المذاہب شادیوں کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں؟
ڈنشا نے کہا:
اس کے بعد جناح نے کہا:
اس پر ڈنشا لال پیلے ہو گئے، جناح پر غصہ کرنا شروع ہو گئے اور شادی سے صاف انکار کر دیا کہ ایک تو آپ میری عمر کے ہیں اور دوسرا کوئی پارسی اپنے مذہب کے باہر شادی نہیں کر سکتا، اس کا تو مذہب سے ناتا ہی ختم ہو جائے گا۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ رتی کا اپنے مذہب سے تعلق ختم ہو جائے؟
اس پر جناح نے کوئی جواب نہیں دیا، کیونکہ وہ اس بات سے واقف تھے کہ پارسی قانون کے مطابق اگر کوئی پارسی لڑکی غیر پارسی سے شادی کرتی ہے تو وہ کمیونٹی سے خارج ہو جائے گی۔
شادی روکنے کی قانونی کوشش
ڈنشا نے پہلے رتی کو جناح سے ملنے سے روکنے کی کوشش کی۔ وہ نہیں رکی تو Parsi Marriage Act کی بنیاد پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے injunction حاصل کی تاکہ شادی روکی جا سکے۔
اس انجکشن کے تحت جناح، رتی سے ان کی عمر18سال ہونے تک شادی نہیں کر سکتے تھے۔ اگر جناح ایسا کرتے تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہو جاتی، اس لیے جناح نے قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے دو سال انتظار کیا۔
یہinjunctionرتی کے بالغ ہونے تک مؤثر رہا اور جیسے ہی وہ18سال کی ہوئیں، اس کا اثر ختم ہو گیا۔
مذہب کی شرط اور نکاح
جب رتی کی عمر18سال ہوئی تو جناح اپنے فرقے اسماعیلی شیعہ کے پاس گئے، جنھوں نے نکاح پڑھانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس کے بعد جناح نے رابطہ کیا شیعوں کے دوسرے فرقہ اثنا عشری سے، جس پر انھوں نے مطالبہ کیا کہ رتی کا مسلمان ہونا لازم ہے۔ اگر وہ مسلمان ہو جاتی ہیں تو ہم نکاح پڑھوا دیں گے۔
شادی سے ایک دن پہلے The Statesman نے ایک خبر چھاپی کہ پارسی خاندان سے تعلق رکھنے والے سر ڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی رتن بائی نے اسلام قبول کر لیا ہے، اور ان کی شادی19اپریل1918کو ہوگی۔
سیاست کی مصروفیات اور رتی کی تنہائی
جناح صاحب اپنی اس عمر کے تقاضوں کے تحت سیاست میں مصروف ہو گئے۔ پہلے Home Rule League 1917 میں مصروف ہوئے، اس کے بعد تحریک خلافت1919کا دور آگیا۔
یہ دور ختم ہوا تو سائمن کمیشن آگیا کہ ہندوستان کا نیا قانون بنانا ہے۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتیں اپنی اپنی رائے پیش کریں۔ اسی دوران دہلی پرپوزلز، نہرو رپورٹ اور جناح کے مشہور زمانہ14نکات آئے۔
جناح کی سیاسی زندگی کی وجہ سے رتی تنہائی کا شکار ہو گئیں۔ اکثر جناح کو خطوط لکھتی تھیں لیکن بدلے میں جواب موصول نہیں ہوتا۔
اسی تنہائی کے عالم میں رتی بائی1929کو صرف29سال کی عمر میں وفات پا گئیں۔ اور حیران کن بات یہ ہے کہ جب ان کی موت ہوئی تب بھی جناح ان کے پاس نہیں تھے۔
ایک محبت کا انجام
ایک ایسی محبت جو مذہب، عمر اور خاندانی رتبہ کے خلاف جا کر کی گئی، اس کا اختتام اتنے برے طریقے سے ہوا۔
اس پر شکیل بدایونی صاحب کا ایک مصرع ہی ذہن میں آتا ہے۔
—
تحریر علی حیدر
ڈس کلیمر
نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات کا نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کے مؤقف سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

