• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » بیسنٹ کا ایران کے تیل پر بڑا دعویٰ
اداریہ

بیسنٹ کا ایران کے تیل پر بڑا دعویٰ

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 7, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

چین کے لیے ایران کے پاس صرف⁦3⁩کروڑ بیرل تیل باقی ہیں، امریکی وزیر خزانہ

واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس خام تیل کے تقریباً 3 کروڑ بیرل ذخائر باقی رہ گئے ہیں جنہیں چین نے ابھی تک خرید نہیں کیا، اور امریکی دباؤ کے باعث یہ ذخیرہ بھی جلد ختم ہونے کا امکان ہے۔

فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے تقریباً⁦3⁩کروڑ بیرل خام تیل ایسے ہیں جو چین نے ابھی تک نہیں خریدے۔ ان کے بقول یہ ذخیرہ جلد ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد چین کے لیے ایرانی تیل خریدنے کا معاملہ اس لیے بھی مشکل ہوگا کہ ایران کے پاس فروخت کے لیے تیل ہی دستیاب نہیں ہوگا۔

اسکاٹ بیسنٹ کا مؤقف:
ایران کے تقریباً⁦3⁩کروڑ بیرل خام تیل کا ذخیرہ باقی ہے جسے چین نے ابھی تک نہیں خریدا۔ یہ ذخیرہ بھی جلد ختم ہوجائے گا۔

امریکی معاشی دباؤ میں اضافہ

اسکاٹ بیسنٹ کا یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اگست⁦2026⁩کے آخر میں شروع کیے گئے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے دوران سامنے آیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس حکمتِ عملی میں آبنائے ہرمز کے قریب بحری ناکہ بندی اور ثانوی پابندیوں کو یکجا کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران کی آمدنی کے باقی ماندہ ذرائع کو محدود کرنا ہے۔

اس دباؤ کے نتیجے میں چین کی جانب سے ایرانی خام تیل کی درآمد میں بھی نمایاں کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اندازے کے مطابق اگست میں چین کی ایرانی تیل درآمد تقریباً 5 لاکھ⁦34⁩ہزار بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ سال کے اوائل میں یہ مقدار تقریباً 15 لاکھ⁦80⁩ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔

3 کروڑ
بیرل باقی خام تیل
5.34 لاکھ
اگست میں یومیہ درآمد
15.8 لاکھ
سال کے اوائل میں یومیہ درآمد

چین کو ایرانی تیل کی فراہمی مزید محدود ہونے کا امکان

بیسنٹ نے کم ہوتے ہوئے سمندری ذخیرے کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ امریکی پابندیوں اور بحری دباؤ کی دوہری حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہورہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال جلد چین کی ایرانی تیل خریدنے کی صلاحیت کو مزید محدود کرسکتی ہے اور تہران کی معیشت کو عالمی سطح پر مزید تنہا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔

امریکی وزیر خزانہ نے اس حکمتِ عملی کو ایرانی حکومت کے لیے ایک ’’ڈیتھ اسپائرل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل معاشی دباؤ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی طرف جانے پر مجبور کرسکتا ہے۔

3 کروڑ بیرل ذخیرہ کتنے عرصے کے لیے کافی ہوگا؟

فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگر چین کی جانب سے ایرانی تیل کی موجودہ کم شدہ درآمد تقریباً 5 لاکھ⁦34⁩ہزار بیرل یومیہ کی رفتار سے جاری رہے تو⁦3⁩کروڑ بیرل کا باقی ذخیرہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ختم ہوسکتا ہے۔

ذخیرہ ختم ہونے کے بعد، اور امریکی بحری موجودگی کے باعث نئی تیل کھیپوں کی روانگی بھی شدید محدود ہونے کی صورت میں، ایران کی تیل برآمد کرنے کی بنیادی راہِ آمدنی پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔

اہم نکتہ

امریکی وزیر خزانہ کے بیان کے مطابق ایران کے باقی ماندہ تیل کے ذخیرے میں کمی اور چین کی درآمدات میں نمایاں کمی واشنگٹن کی جانب سے تہران پر بڑھتے ہوئے معاشی و بحری دباؤ کی اہم علامت ہے۔

ایران کے لیے بڑھتا ہوا معاشی دباؤ

مجموعی طور پر امریکی حکمتِ عملی کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا اور اس کے سب سے بڑے ممکنہ خریدار چین تک رسائی کو مشکل بنانا ہے۔ اگر تیل کی نئی کھیپوں کی روانی طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو تہران کے لیے برآمدی آمدنی برقرار رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔

تاہم، فراہم کردہ معلومات میں امریکی دباؤ کے طویل مدتی نتائج یا چین اور ایران کے ممکنہ متبادل انتظامات کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔

Donald Trump Operation Economic Outcast Scott Bessent Strait of Hormuz آبنائے ہرمز اسکاٹ بیسنٹ امریکا امریکہ امریکی پابندیاں امریکی دباؤ ایران ایران بحران ایران پر پابندیاں ایران کا تیل ایرانی تیل تہران تیل کی برآمدات چین چین ایران تعلقات چین کی تیل درآمدات خام تیل ڈونلڈ ٹرمپ عالمی تیل مارکیٹ عالمی سیاست مشرق وسطیٰ
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleادھوری محبت
Next Article تبت سیلاب، چین کے سرکاری اعداد مشکوک؟
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

خصوصی رپورٹ

عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات

نومبر 4, 2026
خصوصی رپورٹ

سیاسی عطیات کا تنازع

نومبر 4, 2026
خبر

سندھ طاس معاہدہ پر یونیورسٹی آف لاہور میں قومی مکالمہ

نومبر 4, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.