چین کے لیے ایران کے پاس صرف3کروڑ بیرل تیل باقی ہیں، امریکی وزیر خزانہ
واشنگٹن: امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ ایران کے پاس خام تیل کے تقریباً 3 کروڑ بیرل ذخائر باقی رہ گئے ہیں جنہیں چین نے ابھی تک خرید نہیں کیا، اور امریکی دباؤ کے باعث یہ ذخیرہ بھی جلد ختم ہونے کا امکان ہے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسکاٹ بیسنٹ نے کہا کہ ایران کے تقریباً3کروڑ بیرل خام تیل ایسے ہیں جو چین نے ابھی تک نہیں خریدے۔ ان کے بقول یہ ذخیرہ جلد ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد چین کے لیے ایرانی تیل خریدنے کا معاملہ اس لیے بھی مشکل ہوگا کہ ایران کے پاس فروخت کے لیے تیل ہی دستیاب نہیں ہوگا۔
ایران کے تقریباً3کروڑ بیرل خام تیل کا ذخیرہ باقی ہے جسے چین نے ابھی تک نہیں خریدا۔ یہ ذخیرہ بھی جلد ختم ہوجائے گا۔
امریکی معاشی دباؤ میں اضافہ
اسکاٹ بیسنٹ کا یہ بیان ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے اگست2026کے آخر میں شروع کیے گئے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے دوران سامنے آیا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق اس حکمتِ عملی میں آبنائے ہرمز کے قریب بحری ناکہ بندی اور ثانوی پابندیوں کو یکجا کیا گیا ہے، جس کا مقصد ایران کی آمدنی کے باقی ماندہ ذرائع کو محدود کرنا ہے۔
اس دباؤ کے نتیجے میں چین کی جانب سے ایرانی خام تیل کی درآمد میں بھی نمایاں کمی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ اندازے کے مطابق اگست میں چین کی ایرانی تیل درآمد تقریباً 5 لاکھ34ہزار بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ سال کے اوائل میں یہ مقدار تقریباً 15 لاکھ80ہزار بیرل یومیہ تک پہنچ گئی تھی۔
چین کو ایرانی تیل کی فراہمی مزید محدود ہونے کا امکان
بیسنٹ نے کم ہوتے ہوئے سمندری ذخیرے کو اس بات کی علامت قرار دیا کہ امریکی پابندیوں اور بحری دباؤ کی دوہری حکمتِ عملی مؤثر ثابت ہورہی ہے۔ ان کے مطابق یہ صورتحال جلد چین کی ایرانی تیل خریدنے کی صلاحیت کو مزید محدود کرسکتی ہے اور تہران کی معیشت کو عالمی سطح پر مزید تنہا کرنے کا باعث بن سکتی ہے۔
امریکی وزیر خزانہ نے اس حکمتِ عملی کو ایرانی حکومت کے لیے ایک ’’ڈیتھ اسپائرل‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلسل معاشی دباؤ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی طرف جانے پر مجبور کرسکتا ہے۔
3 کروڑ بیرل ذخیرہ کتنے عرصے کے لیے کافی ہوگا؟
فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اگر چین کی جانب سے ایرانی تیل کی موجودہ کم شدہ درآمد تقریباً 5 لاکھ34ہزار بیرل یومیہ کی رفتار سے جاری رہے تو3کروڑ بیرل کا باقی ذخیرہ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں ختم ہوسکتا ہے۔
ذخیرہ ختم ہونے کے بعد، اور امریکی بحری موجودگی کے باعث نئی تیل کھیپوں کی روانگی بھی شدید محدود ہونے کی صورت میں، ایران کی تیل برآمد کرنے کی بنیادی راہِ آمدنی پر مزید دباؤ پڑنے کا امکان ہے۔
اہم نکتہ
امریکی وزیر خزانہ کے بیان کے مطابق ایران کے باقی ماندہ تیل کے ذخیرے میں کمی اور چین کی درآمدات میں نمایاں کمی واشنگٹن کی جانب سے تہران پر بڑھتے ہوئے معاشی و بحری دباؤ کی اہم علامت ہے۔
ایران کے لیے بڑھتا ہوا معاشی دباؤ
مجموعی طور پر امریکی حکمتِ عملی کا مقصد ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کو محدود کرنا اور اس کے سب سے بڑے ممکنہ خریدار چین تک رسائی کو مشکل بنانا ہے۔ اگر تیل کی نئی کھیپوں کی روانی طویل عرصے تک متاثر رہتی ہے تو تہران کے لیے برآمدی آمدنی برقرار رکھنا مزید مشکل ہوسکتا ہے۔
تاہم، فراہم کردہ معلومات میں امریکی دباؤ کے طویل مدتی نتائج یا چین اور ایران کے ممکنہ متبادل انتظامات کی تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
