تبت میں سیلاب کی تباہی چھپانے کا چین پر الزام
نیپال۔تبت سرحد پر تباہ کن سیلاب، ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد کم بتانے کا دعویٰ
تبت کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ نے چینی حکام پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے نیپال۔تبت سرحد پر آنے والے تباہ کن سیلاب کے اصل نقصانات کو کم ظاہر کر رہے ہیں۔
انٹرنیشنل کمپین فار تبت(ICT)کے مطابق اس کے ذرائع نے بتایا ہے کہ تبت کے علاقے کیرونگ(Gyirong)کاؤنٹی کے چار دیہات، سیلے، سرچونگ، لابی اور ریزی میں تقریباً 300 مکانات تباہ ہوئے ہیں۔
ٹینچو گیاتسو، صدر ICT:
’’نیپال میں جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ تبت میں چھپائی جانے والی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔ زمینی سطح سے حاصل ہونے والی محدود معلومات سے اندازہ ہوتا ہے کہ متاثرہ افراد کی تعداد چینی حکام کی بتائی گئی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔‘‘
چینی حکام کے اعداد و شمار
چینی حکام نے سرکاری طور پر بتایا ہے کہ تبت میں 16 افراد ہلاک اور 546 افراد لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد میں23ممالک سے تعلق رکھنے والے 261 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔
اس کے برعکس، نیپال کی جانب سے ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ 4 ہزار سے زائد افراد اب بھی لاپتا ہیں۔ یہ تباہی26اگست کو گلیشیئر کے ایک حصے کے گرنے کے بعد آنے والے شدید مٹی کے تودوں اور سیلاب کے نتیجے میں ہوئی، جس نے سرحدی دیہات کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
اطلاعات پر سخت کنٹرول کا دعویٰ
حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں اور جلاوطن تبتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تبت میں معلومات پر سخت کنٹرول کے باعث قدرتی آفت کے اصل پیمانے کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ ان کے مطابق چینی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے تباہی کی شدت دکھانے والی ویڈیوز اور پوسٹس تیزی سے حذف کی گئیں۔
ان گروہوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ آزاد ذرائع کو متاثرہ علاقے تک رسائی محدود ہے، جبکہ ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد کے بارے میں ’’غلط معلومات‘‘ پھیلانے کے الزام میں لوگوں کو کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سرکاری میڈیا کی کوریج
چینی سرکاری میڈیا نے زیادہ تر امدادی اور بچاؤ کی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ حکام کے متاثرہ علاقوں کے دوروں کو نمایاں کیا ہے، جبکہ مقامی نقصانات کی تفصیلی تصویر نسبتاً کم سامنے آئی ہے۔
بیجنگ کا موقف
چینی حکومت نے سیلاب سے ہونے والی تباہی کو چھپانے کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی جانب سے معلومات بروقت اور شفاف انداز میں جاری کی گئی ہیں۔
تاہم، سیاسی طور پر حساس اس خطے میں غیر ملکی صحافیوں اور آزاد مبصرین کی محدود رسائی کے باعث سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کے اصل پیمانے کی آزادانہ تصدیق اب بھی مشکل ہے۔
