• صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
  • صفحہ اول
  • اداریہ
  • امریکہ
  • مشرق وسطیٰ
  • یورپ
  • ایشیا
  • بلاگز
  • کالم
تازہ ترین
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن امریکی انتخابات پر میرا ایک دن ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج امریکہ کا بدلتا سیاسی منظرنامہ عبدالسید اور اخوان المسلمون⁦:⁩ڈیموکریٹس کے لیے سوالات ٹام سوازی اور لورا گیلن دوبارہ منتخب سیاسی عطیات کا تنازع صوبائی مینڈیٹ کی پامالی کی تاریخ
Home » مشرقِ وسطیٰ⁦:⁩جنگ سے امن تک
فیچرڈ

مشرقِ وسطیٰ⁦:⁩جنگ سے امن تک

نیوز ایڈیٹرBy نیوز ایڈیٹرستمبر 9, 2026Updated:ستمبر 9, 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
Share Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Reddit Telegram Email WhatsApp
Share
Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email WhatsApp

مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی استحکام اور دیرپا امن کا ایک جامع خاکہ

سلیمہ المسلیمہ
امامہ، صوفی فنکارہ، ابراہیمک موومنٹ نیدرلینڈز کی بانی
Institute for Peace Strategies کی سربراہ

سلیمہ المسلیمہ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

میں یہ خاکہ ایک خاتون امامہ، صوفی فنکارہ، نیدرلینڈز میں ابراہیمک موومنٹ کی بانی اور Institute for Peace Strategies کی سربراہ کی حیثیت سے عالمی ابراہیمک موومنٹ کی جانب سے پیش کر رہی ہوں۔ میری جدوجہد ایک مخلصانہ روحانی عمل اور مشرقِ وسطیٰ سمیت دنیا بھر کے تمام انسانوں کی فلاح، عزت و وقار اور طویل مدتی استحکام کے عزم پر مبنی ہے۔

یہ تجویز ایک ایسے منظم طریقۂ کار کا خاکہ پیش کرتی ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی کم کرنا اور پائیدار امن کی بنیاد رکھنا ہے۔

1۔ عظیم ثالثی⁦:⁩چین کی طرف سفارتی محور کی منتقلی

روایتی مغرب کی قیادت میں قائم سفارتی ڈھانچہ اپنی اثراندازی کی حدوں کو پہنچ چکا ہے۔ موجودہ تعطل کو توڑنے کے لیے جغرافیائی سیاسی فریم ورک کو ایسے ثالث کی طرف منتقل کرنا ہوگا جو مکمل خودمختاری، عالمی اقتصادی طاقت اور خطے کے متحارب فریقوں پر براہِ راست اثراندازی کی صلاحیت رکھتا ہو۔

ثالث ریاست⁦:⁩چین کا مرکزی کردار

چین کو بنیادی ثالث کا کردار سنبھالنا چاہیے۔ مغربی طاقتوں کے برعکس بیجنگ کے ایران، سعودی عرب اور اسرائیل سمیت تمام اہم فریقوں کے ساتھ گہرے اقتصادی تعلقات ہیں، جس کی وجہ سے اسے سفارتی اثراندازی اور معاہدوں پر عمل درآمد کے لیے ایک منفرد صلاحیت حاصل ہے۔

ایران اس وقت نمایاں تزویراتی اثر و رسوخ رکھتا ہے، جس سے ایسی مزید کشیدگی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے جس میں امریکا کو بھاری تزویراتی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔

چونکہ چین ایرانی تیل کی درآمد پر خاصا انحصار کرتا ہے، اس لیے بیجنگ کے پاس تہران پر قابلِ ذکر اقتصادی اثر و رسوخ موجود ہے اور وہ ایران کے تزویراتی فیصلوں پر اثر انداز ہونے کی منفرد پوزیشن رکھتا ہے۔

تہران جوہری ٹیکنالوجی کو بنیادی طور پر قومی وقار، تزویراتی باز⁦deterrence⁩اور خودمختار دفاع کے ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے۔ تاہم ایران یہ بھی جانتا ہے کہ جوہری ہتھیار تیار کرنے سے خطے میں ایک خطرناک سلسلہ شروع ہوسکتا ہے، جس میں سعودی عرب جیسے ممالک کی جانب سے جوہری پھیلاؤ بھی شامل ہوسکتا ہے، جبکہ اسرائیل کی جانب سے انتہائی سخت ردعمل کا خطرہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔ ان خطرات کے پیش نظر اگر قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتیں فراہم کی جائیں تو تہران سفارتی راستے کو ترجیح دے سکتا ہے۔

چین اس لیے ایران کے ساتھ اپنے توانائی اور اقتصادی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت بین الاقوامی نگرانی کے لیے دباؤ ڈال سکتا ہے۔ مسلسل اقتصادی تعاون کو شفافیت، حفاظتی اقدامات اور قابلِ تصدیق تعمیل کے ساتھ منسلک کرکے بیجنگ ایسا اثر و رسوخ استعمال کرسکتا ہے جو ماضی میں امریکا اور پاکستان کی کوششیں حاصل نہیں کرسکیں۔

2۔ جامع سفارت کاری اور علاقائی توازن

پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کے ڈھانچے اور شرکا کی ساخت میں بنیادی تبدیلی لائی جائے اور خطے کی اہم طاقتوں کو باضابطہ طور پر مرکزی کردار دیا جائے۔

مذاکرات میں آبادیاتی شمولیت

مستقبل کے امن مذاکرات میں خواتین کو بنیادی مذاکراتی کردار دیا جانا چاہیے۔ بالخصوص سفارتی وفد میں کثیر النسلی پس منظر رکھنے والی ایک امریکی خاتون سفارت کار کو شامل کیا جانا چاہیے جو ثقافتی، سیاسی اور تزویراتی خلیج کو پاٹنے میں کردار ادا کرسکے۔ سفارت کاری میں تنوع محض نمائندگی نہیں بلکہ اثراندازی کی طاقت ہے۔

سعودی سفارتی مرکز

سعودی عرب کو ایران کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں شامل کیا جانا چاہیے اور اسے ایک بنیادی اور مؤثر آواز دی جانی چاہیے۔ مشرقِ وسطیٰ کے ساختی ’’جوڑ‘‘ کی حیثیت سے ریاض کے پاس وہ علاقائی سفارتی اختیار موجود ہے جو ایرانی غلبے کے توازن کے لیے ضروری ہے۔

اسرائیل میں سیاسی ازسرنو شمولیت

مذاکرات میں پیش رفت کے لیے اسرائیل کو تقریباً ایک دہائی سے جاری دائیں بازو کی حکمرانی سے نکل کر اندرونی سیاسی منتقلی کی ضرورت ہے۔ بہتر ہوگا کہ ایک وسطی یا بائیں بازو کے اتحاد کی طرف پیش رفت کی جائے، جس کی قیادت مثالی طور پر خواتین سیاسی رہنماؤں کے ہاتھ میں ہو۔ اس سے تزویراتی معاملات میں زیادہ باریک بینی اور مختلف نقطۂ نظر کو شامل کرنے کا موقع ملے گا اور موجودہ نظریاتی جمود کو توڑا جاسکے گا۔

3۔ اقتصادی باز⁦deterrence⁩اور باہمی انحصار

صرف فوجی برتری طویل مدتی سلامتی کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ اسرائیل کو اپنے تزویراتی بجٹ میں محض دفاعی اخراجات پر توجہ دینے کے بجائے خطے میں گہری تجارتی اور اقتصادی شمولیت کی طرف منتقل ہونا چاہیے۔

غیر متناسب اقتصادی سکیورٹی اثر

اسرائیلی ٹیکنالوجی اور خدمات کو عرب معیشتوں میں شامل کرکے اسرائیل باہمی مالی انحصار کا ایک نظام قائم کرسکتا ہے۔ اسرائیلی تجارتی بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرنے والی عرب ریاستیں فطری طور پر ان مشترکہ اثاثوں کے تحفظ میں دلچسپی رکھیں گی، جس سے اسرائیل کے لیے ایک پائیدار اور خودکار ’’مفت حفاظتی‘‘ ڈھانچہ وجود میں آسکتا ہے۔

شام کا استحکام

شام کی تعمیرِ نو اور ترقی میں ہدفی اقتصادی سرمایہ کاری دوہرا مقصد پورا کرسکتی ہے۔ ایک طرف یہ اس اقتصادی مایوسی کو کم کرے گی جو انتہا پسندی کو جنم دیتی ہے، جبکہ دوسری جانب یہ شام پر مکمل غلبہ قائم کرنے کی ایرانی کوششوں کو منظم انداز میں کمزور کرسکتی ہے۔

4۔ غزہ کے استحکام اور تعمیرِ نو کا منصوبہ

حماس کو مستقل طور پر صرف فوجی طاقت کے ذریعے غیر مؤثر نہیں بنایا جاسکتا۔ اس کی مرحلہ وار غیر مسلحانہ سیاسی و انتظامی تبدیلی صرف منظم اقتصادی سفارت کاری اور بنیادی ڈھانچے کے ایسے انحصار کے ذریعے ممکن ہوسکتی ہے جس کا انتظام بیجنگ کرے۔

اہم بنیادی ڈھانچہ اور پانی کا اثر

غزہ میں انسانی اور سیاسی استحکام کے لیے فوری ترجیح پانی کی فراہمی کا تحفظ ہونا چاہیے۔ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے ذریعے غزہ کے اندر بڑے پیمانے پر پانی صاف کرنے اور میٹھا کرنے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کو فوری طور پر مالی وسائل فراہم کیے جانے چاہییں۔

اسرائیل کو غزہ کی پانی کی فراہمی کے انتظام اور نگرانی میں مشترکہ انتظامی کردار برقرار رکھنا چاہیے تاکہ حماس پر ایک اہم غیر فوجی دباؤ کا ذریعہ قائم ہوسکے۔

’’مشرقِ وسطیٰ کا ہانگ کانگ‘‘

چین کی موجودہ بنیادی ڈھانچے کی صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بیجنگ غزہ کی جامع تعمیرِ نو کے ایک ماسٹر پلان کی قیادت کرسکتا ہے۔

غزہ کی تیز رفتار صنعتی ترقی کے لیے مالی وسائل فراہم کرکے اور اس پر عمل درآمد کرتے ہوئے چین اس علاقے کو خطے کے ایک بڑے پیداواری اور تجارتی مرکز میں تبدیل کرسکتا ہے۔

غزہ کو عالمی سپلائی چین میں شامل کرنے سے مقامی مفادات کا ڈھانچہ عسکریت پسندی سے ہٹ کر اقتصادی تحفظ اور خوشحالی کی طرف منتقل ہوسکتا ہے۔

نتیجہ

مشرقِ وسطیٰ میں دیرپا امن کے لیے محض فوجی باز⁦deterrence⁩یا عارضی جنگ بندی کافی نہیں۔ اس کے لیے سفارت کاری، اقتصادی باہمی انحصار، علاقائی شمولیت، انسانی استحکام اور قابلِ اعتماد سکیورٹی ضمانتوں پر مبنی ایک جامع ڈھانچے کی ضرورت ہے۔

چین ایران، سعودی عرب، اسرائیل اور وسیع تر خطے کے ساتھ اپنے اقتصادی تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے مذاکرات میں سہولت کاری اور قابلِ تصدیق وعدوں کی حوصلہ افزائی کے ذریعے مرکزی ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہے۔ اسی کے ساتھ علاقائی فریقوں کو اس عمل میں مرکزی حیثیت برقرار رکھنی چاہیے اور خواتین سمیت متنوع سفارتی آوازوں کی شمولیت میں اضافہ ہونا چاہیے۔

اقتصادی تعمیرِ نو کو سلامتی کی بنیاد بنانا ہوگا۔ غزہ اور شام میں سرمایہ کاری، پانی کا بنیادی ڈھانچہ، تجارت اور علاقائی اقتصادی انضمام ایسے مشترکہ مفادات پیدا کرسکتے ہیں جو مسلسل تنازع کو تمام فریقوں کے لیے بتدریج زیادہ مہنگا بنادیں۔

بالآخر مقصد ایک ایسے علاقائی نظام کا قیام ہونا چاہیے جس میں امن جنگ کے مقابلے میں تزویراتی اور اقتصادی اعتبار سے زیادہ قیمتی بن جائے۔ پائیدار استحکام کے لیے سیاسی جرأت، بین الاقوامی تعاون اور مشرقِ وسطیٰ کے تمام عوام کے وقار اور سلامتی کو تسلیم کرنا ضروری ہوگا۔

مصنفہ کا تعارف

سلیمہ المسلیمہ

سلیمہ المسلیمہ

امامہ اور فنکارہ۔ نیدرلینڈز میں ابراہیمک موومنٹ کی بانی اور Institute for Peace Strategies کی سربراہ۔ ان کے کام میں روحانیت، تصوف، فن اور بین المذاہب و بین الثقافتی امن کے موضوعات نمایاں ہیں۔

سلیمہ کے مطابق وہ مختلف طریقوں سے اللہ کو تلاش کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ وہ گزشتہ چار برس سے رومانوی محبت کے تجربے میں اللہ کی تلاش کو اپنے فکری اور فنی سفر کا حصہ قرار دیتی ہیں۔ ان کے فن کو صوفی اسلامی یا حقیقت پسندانہ اور مافوق الفطرت عناصر پر مبنی⁦surrealist⁩روایت سے وابستہ کیا جاسکتا ہے۔

LinkedIn:

سلیمہ المسلیمہ کا⁦LinkedIn⁩پروفائل

تحریر⁦:⁩سلیمہ المسلیمہ

ڈس کلیمر

نیو یارک اُردو (NY Urdu) پر شائع ہونے والے مضامین، تجزیے، کالم اور آراء متعلقہ مصنفین کی ذاتی آراء ہیں۔ ان خیالات سے نیو یارک اُردو، اس کی انتظامیہ، مدیران یا ادارتی ٹیم کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگرچہ شائع کردہ معلومات کی درستگی کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جاتی ہے، تاہم نیو یارک اُردو کسی بھی خبر، تجزیے یا معلومات کی مکمل صحت، جامعیت یا بروقت ہونے کی ضمانت نہیں دیتا۔ قارئین سے گزارش ہے کہ اہم فیصلے کرنے سے قبل متعلقہ معلومات کی آزادانہ تصدیق کر لیں۔

ابراہیمک موومنٹ اسرائیل امن امن مذاکرات ایران پائیدار امن تعمیر نو چین سعودی عرب سفارت کاری سلیمہ المسلیمہ شام شریعت علاقائی استحکام غزہ مشرق وسطیٰ مشرق وسطیٰ کا بحران معاشی باہمی انحصار
Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email WhatsApp
Previous Articleہمیں آزادی کیوں نہیں ملنی چاہیے!
Next Article برطانیہ سے ارب پتیوں کا انخلا
نیوز ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

مضمون/کالم

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026
مضمون/کالم

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026
Add A Comment

Comments are closed.

اہم ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
سوشل میڈیا
  • Facebook
  • YouTube
  • Twitter
  • Instagram
نقطہ نظر
85
مشرق وسطیٰ

حوثیوں کی پیدا کردہ مشکلات کے خاتمے کا وقت آ گیا، تیل کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کا اعلان⁦:⁩رشاد العلیمی

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 مشرق وسطیٰ
85
فیچرڈ

برطانیہ کی حوثیوں کی سعودی عرب کو دھمکیوں کی مذمت، ریاض سے مکمل یکجہتی کا اعلان

نیوز ایڈیٹرجولائی 21, 2026 فیچرڈ
8.9
صفحہ اول

امریکہ اور خلیجی شراکت دار ایران کی جارحیت کے مقابلے میں متحد ہیں، ایلیسن ہوکر

نیوز ایڈیٹرجولائی 19, 2026 صفحہ اول
مقبول ترین

پاکستان⁦:⁩عالمی دہشت گردی کے بحران کا مرکز، ایک بار پھر

جولائی 31, 2026880 Views

زبان کا ذائقہ دل اور دماغ دونوں کے لیے خطرہ

اکتوبر 11, 2026227 Views

لو ہم آگئے

جولائی 31, 2026223 Views
اہم ترین

امریکی انتخابات، طاقت کا نیا توازن

نومبر 5, 2026

امریکی انتخابات پر میرا ایک دن

نومبر 5, 2026

ادھوری جنگ اور انتخابی نتائج

نومبر 5, 2026

سبسکرائب کریں

ادارہ کی شرائط و ضوابط اور پرائیویسی پالیسی کی پابندی ہو گی۔

شکریہ! اپنی سبسکرپشن کی تصدیق کے لیے اپنا ای میل اِن باکس یا اسپیم فولڈر چیک کریں۔

© 2026 NYURDU
  • صفحۂ اول
  • ٹیم
  • رابطہ کریں
  • NYURDU بارے

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.