بین الاقوامی تجزیہ
برطانیہ سے ارب پتیوں کا انخلا، لیبر حکومت اسرائیل سے محاذ آرائی پر کیوں اتر آئی؟
لندن سے سرمایہ اور باصلاحیت افراد کی روانگی کے دوران اسرائیل کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان
برطانیہ سے دولت، سرمایہ اور کاروباری صلاحیت رکھنے والے افراد کے انخلا کی رفتار میں اضافے کے درمیان لیبر حکومت نے اسرائیل کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ مضمون نگار کے مطابق یہ صورتِ حال برطانوی معیشت اور حکومت کی ترجیحات کے بارے میں اہم سوالات اٹھاتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق روکوس کیپیٹل کے بانی کرس روکوس، جنہیں برطانیہ کے بڑے ٹیکس دہندگان میں شمار کیا جاتا ہے، برطانیہ چھوڑ کر یونان منتقل ہو رہے ہیں۔ حالیہ عرصے میں ٹیکسوں میں اضافے کے حکومتی منصوبوں کے پس منظر میں کئی دیگر ارب پتی بھی برطانیہ سے رخصت ہو چکے ہیں، جن میں لکشمی متل، شارون بھرتی متل، گیلوم پوزاز، ناصف ساویرس، جان فریڈریکسن اور مائیکل پلیٹ کے نام شامل ہیں۔
مائیکل پلیٹ، جو سوئٹزرلینڈ اور متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے، نے کہا کہ برطانیہ اب کاروبار کے لیے ایک سنجیدہ اور پرکشش دائرۂ اختیار نہیں رہا۔ جان فریڈریکسن، جو قبرص اور متحدہ عرب امارات منتقل ہوئے، نے برطانیہ کے حالات کو انتہائی سخت الفاظ میں بیان کیا۔
سرمایہ کاری کے ماحول پر دباؤ
مضمون میں برطانوی بانڈ مارکیٹ کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ طویل مدتی برطانوی سرکاری قرض کو سرمایہ کار پہلے کے مقابلے میں زیادہ خطرناک سمجھ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں طویل مدتی قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند سطح تک پہنچ گئی ہے۔30سالہ گِلٹ پر شرح تقریباً6فیصد تک پہنچنے کو اس دباؤ کی علامت قرار دیا گیا ہے۔
کرس روکوس کی برطانیہ سے روانگی کا مطلب یہ بھی ہے کہ لندن میں قائم اثاثہ جاتی انتظامی ادارے بریوان ہاورڈ کے اصل پانچ بانیوں میں سے چار اب برطانیہ سے باہر ہو چکے ہیں۔ ژاں فلپ بلوشے اور ایلن ہاورڈ جنیوا منتقل ہوئے، جبکہ ٹرِفون ناتسس کے ابوظہبی منتقل ہونے کی اطلاع ہے۔
دولت کے انخلا کے بجائے اسرائیل پر توجہ
مضمون نگار کے مطابق برطانوی حکومت کو اس امر پر توجہ دینی چاہیے کہ دولت اور ہنرمند افراد ملک سے کیوں جا رہے ہیں، لیکن اس کے بجائے حکومت نے اسرائیل اور مقبوضہ مغربی کنارے کے حوالے سے نئی پابندیوں کو ترجیح دی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے برطانوی اسلحے کی فروخت اور ایسے دیگر برآمدی سامان پر پابندیوں کا اعلان کیا جو ان کے بقول قبضے میں مادی طور پر معاونت کرتے ہیں۔
حکومت نے مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں سے آنے والی اشیا کی درآمد پر پابندی اور ان کمپنیوں و افراد کے خلاف کارروائی کا اعلان بھی کیا جو بستیوں کی توسیع کے لیے تعمیرات، انفراسٹرکچر، مالی معاونت یا جائیداد سے متعلق خدمات فراہم کرتے ہیں۔
ملی بینڈ نے زور دیا کہ پابندیوں کا ہدف اسرائیل نہیں بلکہ غیر قانونی بستیاں اور ان کی توسیع ہے۔ تاہم مضمون نگار اس وضاحت سے اختلاف کرتے ہوئے دلیل دیتے ہیں کہ کئی کاروباری ادارے اسرائیلی شہریوں کے ساتھ اس بنیاد پر امتیاز نہیں کرتے کہ وہ1948کی جنگ بندی لائن یا1967سے پہلے کی سرحد کے کس طرف رہتے ہیں۔
یورپی ممالک کی حمایت
برطانیہ کے ساتھ کینیڈا، ڈنمارک، فن لینڈ، فرانس، آئس لینڈ، آئرلینڈ، ناروے، پولینڈ، پرتگال، اسپین اور سویڈن نے بھی دو ریاستی حل اور اسرائیلی بستیوں سے متعلق پالیسیوں کے لیے حمایت کا اظہار کیا۔ مضمون نگار نے ان اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور انہیں اسرائیلی یہودیوں سے متعلق امتیازی تجارتی پالیسیوں سے تشبیہ دی ہے۔
ایڈ ملی بینڈ نے پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے خود کو ایک فخر مند برطانوی یہودی قرار دیا۔ انہوں نے ماضی میں خود کو ’’یہودی ملحد‘‘ بھی بیان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ خدا پر یقین نہیں رکھتے۔
برطانوی چیف ربی کی مخالفت
برطانیہ کے چیف ربی سر افرائیم مروِس نے حکومت کے اقدامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسی علامتی سیاست اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی مخاصمانہ گفتگو کو تقویت دیتی ہے اور ایسی تعزیری پالیسیوں کا مجموعی اثر ان عناصر کو مزید حوصلہ دینا ہے جو یہودیوں کے خلاف نفرت کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔
اسرائیل کا جوابی ردعمل
اسرائیلی وزیر خارجہ گیدون ساعر نے برطانوی اقدامات کے جواب میں کہا کہ اسرائیل یروشلم میں برطانوی قونصل خانے کو بند کرے گا، بعض برطانوی نمائندوں کو ملک سے نکالے گا اور بعض دیگر کے داخلے پر پابندی عائد کرے گا۔ ان کے مطابق اسرائیل کے خلاف اقدام کرنے والی حکومتوں کے لیے پیغام واضح ہے کہ اسرائیل بھی جواب دے گا اور ایسی حکومتیں خطے میں اپنا اثر و رسوخ کھو دیں گی۔
ساعر نے برطانوی اپوزیشن کے رہنماؤں کیمی بیڈنوک اور ٹام ٹگنڈہٹ سے اپنی گفتگو کا بھی ذکر کیا اور لیبر حکومت کے اعلان کی مخالفت پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
برطانیہ میں مذہبی اور سماجی تبدیلی
مضمون میں برطانیہ اور مغربی یورپ میں مذہبی وابستگی میں کمی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔2021کی مردم شماری کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں نصف سے بھی کم افراد نے خود کو مسیحی قرار دیا۔ اسی تناظر میں مغربی یورپ کے ہزاروں گرجا گھروں کو مستقبل میں خالی ہونے کے بعد نئے استعمال میں لانے کی منصوبہ بندی کی خبروں کا حوالہ دیا گیا ہے۔
مضمون نگار کے نزدیک موجودہ سیاسی حالات کو صرف مذہبی تہواروں یا آئندہ انتخابات کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں۔ ان کے خیال میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا حکومت داخلی اقتصادی مسائل سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے بیرونی تنازعات کو سیاسی موضوع بنا رہی ہے۔
برطانیہ، امریکہ اور اسرائیل کی معاشی تصویر
مضمون میں ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ2025میں امریکہ کی فی کس مجموعی قومی پیداوار تقریباً90,026.50ڈالر، برطانیہ کی57,602ڈالر اور اسرائیل کی60,336.80ڈالر تھی۔ مضمون نگار اس تقابل کو اس دلیل کے لیے استعمال کرتے ہیں کہ معاشی مسابقت میں سرمایہ اور ہنرمند افرادی قوت کو ملک میں برقرار رکھنا بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مضمون نگار برطانیہ کی موجودہ صورتِ حال کو تاریخی طور پر ’’گریٹ پیوریٹن مائیگریشن‘‘ سے بھی جوڑتے ہیں، جب بڑی تعداد میں افراد نے مذہبی و سیاسی حالات کے باعث برطانیہ چھوڑ کر نئی دنیا کا رخ کیا۔ ان کے مطابق اس نقل مکانی نے بالآخر امریکہ کے ابھرنے میں کردار ادا کیا۔
اصل سوال:سرمایہ کو کیسے روکا جائے؟
اس تجزیے کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ حکومت اگر ایک طرف دولت مند افراد پر زیادہ ٹیکس اور سخت ضوابط عائد کرے اور دوسری طرف ایسے خارجہ پالیسی اقدامات کرے جنہیں سرمایہ کار غیر دوستانہ سمجھیں، تو اس کا مجموعی اثر سرمایہ اور صلاحیت کو ملک سے باہر دھکیل سکتا ہے۔
مضمون نگار کے مطابق برطانیہ کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ لندن کو دوبارہ سرمایہ، کاروبار اور عالمی صلاحیت کے لیے پرکشش مرکز بنائے۔ ان کے نزدیک داخلی معاشی پالیسی اور خارجی ’’علامتی سیاست‘‘ دونوں کا جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ اگر ہنرمند افراد اور سرمایہ مسلسل باہر جاتے رہے تو اس کے اثرات محض ٹیکس آمدنی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ روزگار، سرمایہ کاری اور طویل مدتی معاشی نمو بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
