سعودی-یمن کشیدگی
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد چار سالہ جنگ بندی ختم، ریاض کا جوابی حملہ
تیل کی تنصیبات پر بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں73افراد زخمی، ریاض کا یمن پر جوابی وار، عالمی برادری اور پاکستان کی سخت مذمت
🌐 بین الاقوامی خبریں
📍 ریاض/صنعاء
منگل کے روز واقعات نے اچانک ڈرامائی رخ اختیار کیا جب یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب بھر میں تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ریاض نے جوابی کارروائی شروع کردی، جس سے دونوں فریقوں کے درمیان تقریباً چار سال سے جاری غیر یقینی جنگ بندی عملاً ختم ہوگئی۔
حوثی گروپ نے سعودی عرب کے جنوبی حصے کے چار شہروں میں حملوں کا دعویٰ کیا، جن کے نتیجے میں70سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ تیل کی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارتِ توانائی کے ایک ذریعے نے بتایا کہ جنوبی علاقے میں ’’توانائی کے شعبے کی متعدد تنصیبات اور مراکز‘‘ کو نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کے مطابق حملوں کے نتیجے میں متعدد مقامات پر آگ بھڑک اٹھی، جس کے باعث بعض آپریشنز عارضی طور پر روکنا پڑے جبکہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔
حوثیوں نے خمیس مشیط میں سعودی فضائی اڈے اور ابہا، نجران اور جازان میں سعودی سرکاری آئل کمپنی کے اثاثوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بنایا۔
🛰️ سیٹلائٹ شواہد
ناسا کی سیٹلائٹ تصاویر میں جازان ریفائنری کے اوپر سیاہ دھوئیں کا گہرا بادل اور ابہا میں ایک آئل ڈسٹری بیوشن سینٹر سے اٹھتا ہوا سفید دھوئیں کا ستون دکھائی دیا۔
سعودی حکام نے تنصیبات میں آگ لگنے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمی ہونے والے73افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
زخمیوں کی اتنی بڑی تعداد سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ حملے فروری میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سعودی عرب پر ہونے والے بڑے حملوں میں شمار ہوتے ہیں۔
سعودی عرب کا جوابی ردعمل
منگل کی شام حوثیوں کے زیرِ انتظام المسیّرہ ٹی وی نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب نے یمن کے تعز اور مأرب صوبوں کے علاوہ دارالحکومت صنعاء کے مشرق میں واقع جُبہ ضلع پر بھی حملے کیے ہیں۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی عرب پر الزام عائد کیا کہ اس نے یمن میں فضائی حملے کرکے جنگ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حوثی اس کا جواب دیں گے۔
سعودی وزارتِ خارجہ نے اعلان کیا کہ ریاض ’’اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات‘‘ کرے گا۔ وزارت نے حوثی ملیشیا کی جانب سے ہر قسم کی کشیدگی فوری طور پر ختم کرنے اور بحری جہازوں کے خلاف حملے روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔
دوسری جانب سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سفارت کاری کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، تاہم مملکت اپنے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے ماسکو میں اپنے روسی ہم منصب کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ سعودی عرب ہمیشہ امن اور سفارتی حل کی حمایت کرے گا، تاہم وہ اپنے دفاع، اپنے مفادات کے تحفظ اور برادر ملک یمن کے مفادات، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانے والے اقدامات کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
باب المندب کی اہمیت میں اضافہ
گزشتہ ہفتے حوثیوں نے آبنائے باب المندب پر کنٹرول حاصل کرنے کی مہم شروع کی تھی۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے بعد یہ تنگ بحری راستہ سعودی تیل کی ترسیل کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو گیا ہے۔
📊 جانی نقصان
ذرائع کے مطابق، جنہوں نے حساس معاملات پر گفتگو کے باعث اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط رکھی، حوثیوں کی مہم شروع ہونے کے بعد سے کم از کم216حکومتی اہلکار اور278حوثی جنگجو مارے جا چکے ہیں، جبکہ کم از کم29شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔
حالیہ دنوں میں جنوبی یمن میں قائم حکومت کی سعودی حمایت یافتہ افواج نے حوثیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں کے خلاف کئی محاذوں پر حملہ کیا ہے۔ یہ کارروائی اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے حکومتی افواج کے زیرِ قبضہ علاقوں کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی۔
یمنی حکومت، جسے حوثیوں نے12سال قبل دارالحکومت صنعاء سے بے دخل کردیا تھا، اب حوثیوں کے زیرِ قبضہ تمام علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کا ہدف رکھتی ہے۔
عالمی سطح پر مذمت
سعودی عرب کی تیل تنصیبات پر حوثی حملوں کی عالمی سطح پر فوری مذمت کی گئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملے بے گناہ انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ خطے کے امن اور سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔ انہوں نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
پاکستان کی وزارتِ خارجہ نے بھی حوثیوں کے سعودی عرب میں مختلف اہداف پر کیے گئے حملوں کو ’’قابلِ مذمت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت، سلامتی اور خوشحالی کی مکمل حمایت کرتا ہے اور سعودی قیادت، حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے مطابق پاکستان سعودی عرب کے اپنے علاقے کے دفاع، شہریوں اور مقیم افراد کے تحفظ اور قومی اثاثوں کو کسی بھی خطرے سے محفوظ رکھنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کے جائز حق کی مکمل حمایت کرتا ہے۔
پاکستان نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے حصول کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے بھی جنوبی سعودی عرب میں متعدد مقامات پر حوثیوں کے سرحد پار حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ان حملوں سے شہری اور توانائی کا بنیادی ڈھانچہ متاثر ہوا ہے اور شہریوں کے جانی نقصان کی اطلاعات پر گہری تشویش ہے۔
یورپی یونین نے بھی حوثیوں سے ’’تمام حملے فوری طور پر ختم کرنے‘‘ کا مطالبہ کیا۔ یورپی یونین کے ترجمان انور ال انونی نے کہا کہ یہ حملے خطرناک کشیدگی کا باعث ہیں، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتے ہیں، علاقائی سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں اور یمن کے تنازع کے پرامن حل کی کوششوں کو مزید خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
